قلم فاﺅنڈیشن:ایک تحریک، ایک دانش گاہ !

 قلم فاﺅنڈیشن:ایک تحریک، ایک دانش گاہ !

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

محمد فاروق چوہان
فروغِ علم و ادب اور اشاعت ِکتب کا معروف ادارہ ”قلم فاﺅنڈیشن“ کم و بیش 50 سال سے ملک و قوم کی بے لوث خدمت میں مصروفِ عمل ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک دانش گاہ ہے جس کے قیام کا سہرا سید امین گیلانی کے سر جاتا ہے، جو کسی تعارف کے محتاج نہیں تھے۔ان کے ہونہار صاحبزادے سید سلمان گیلانی عالمی سطح کے نعت گو، نعت خواں، مصنف اور مزاحیہ شاعری کا معروف نام ہیں۔ ”قلم فاﺅنڈیشن“ نے اپنے قیام سے لے کر آج تک بلاشبہ سیکڑوں کتب شائع کیں۔ طلبہ و طالبات کی کردار سازی اور ذہنی آبیاری کے لیے بے شمار منصوبے شروع کیے، جن میں پاکستان کی مختلف جامعات، سکولوں اور کالجوں میں لائبریریوں کا قیام، علمی و ادبی سیمینار، نوجوانوں میں تحریری مقابلے نمایاں حیثیت کے حامل اور قابل ِذکر اقدامات ہیں۔ اس ادارے کے پیش ِنظر ہمیشہ پاکستان میں علم کا فروغ، کتاب کلچر کی ترویج و ترقی اور نظریہ¿ پاکستان کی حفاظت مقدم رہی ہے۔ ادارے نے اسلامی اور قرآنی تعلیمات پر مبنی کتب شائع کرنے میں ہمیشہ خوشی محسوس کی۔ فرقہ وارانہ ،متنازعہ لٹریچر اور کتب کی اشاعت سے انکار ادارے کا طرہ¿ امتیاز رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قلم فاﺅنڈیشن انٹرنیشنل نے نظریہ¿ پاکستان پر مبنی کتب کو بصد اہتمام اور فخر و انبساط سے شائع کیا۔ اس سلسلے میں محسن ِپاکستان، فخر عالم اسلام ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ، جناب ڈاکٹر صفدر محمود کا نامِ گرامی بطورِ مثال پیش کیا جا سکتا ہے، جو نظریہ ¿پاکستان کے صف اوّل کے مجاہد اور تحریک ِپاکستان کے اکابرین کے بہت بڑے مدّاح تھے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی نظریہ¿ پاکستان، تحریک ِپاکستان اور تحریک سے وابستہ سیاسی راہنماﺅں اور اکابرین کے تحفظ کے لیے قلمی جہاد کیا۔ ادارے نے پاکستان اور تحریک ِپاکستان کے موضوع پر ان کی 14 کتب شائع کیں، جن پر ادارے کو بجا طور پر فخر ہے۔
”قلم فاﺅنڈیشن“ نے ہمیشہ فلاحی اور رفاہی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ادارے نے عرصہ¿ دراز سے معمول بنایا ہوا ہے کہ عیدین کے موقع پر پنجاب کی مختلف جیلوں سے ایسے قیدیوں کی رہائی کا اہتمام کیا جاتا ہے جو اپنی سزائیں پوری کرنے کے باوجود اس لئے رہا نہیں ہوتے کہ سزا کی مد میں ان کے ذمے جو نقد جرمانے ہوتے ہیں وہ یہ جرمانے ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ادارہ ایسے سیکڑوں قیدیوں کو، شیخوپورہ، اوکاڑہ اور دیگر جیلوں سے رہائی دلوا چکا ہے۔
”قلم فاﺅنڈیشن“ کے تحت ملک بھر میں ہنگامی صورتِ حال جیسے زلزلے ، سیلاب اور شدید موسمی اثرات خصوصاً سردیوں میں غریب اور نادار افراد کے لیے حسب ِاستطاعت ضروریاتِ زندگی کا انتظام کیا جاتا ہے اور مخیر حضرات کے تعاون سے خاموشی کے ساتھ ایسے افراد کی مدد کی جاتی ہے جو زلزلے، سیلاب یا برف باری کی وجہ سے مشکلات میں گھر جاتے ہیں۔ ’ قلم فاﺅنڈیشن‘ بنیادی طور پر اشاعتی ادارہ ہے، اسی لئے اس کی خصوصی توجہ اور ترجیح نشر و اشاعت کے شعبے پر مرکوز رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اشاعت ِکتب کے ساتھ ساتھ لائبریریوں کے قیام اور پہلے سے موجود لائبریریوں کو تاریخ ِپاکستان، تحریکِ آزادی، نظریہ¿ پاکستان اور اصلاحِ معاشرہ سے متعلق کتابوں کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کر کے خوشی محسوس کرتا ہے۔ مستقبل قریب میں ہم اپنے ادارے کے توسط سے اُم الکتاب قرآنِ مجید سے متعلق ملک کے معروف علمائے دین، دینی سکالرز اور صاحب ِعلم مصنّفین کی ایسی کتب شائع کرنے کے خواہشمند ہیں جن سے دین کی ترویج اور اشاعت میں اضافہ ہو اور قرآنی تعلیمات پر تعلیمی ادارے، ہر گھر اور ہر جگہ آسانی سے پہنچ پائیں۔ نسخہ ¿ کیمیا، قرآنِ مجید کے بعد ہماری ترجیح سیرتِ مصطفی سے متعلق اہم اور مقبول صاحب ِقلم خواتین و حضرات کی کتابیں شائع کرنا ہیں۔ جو لوگ قرآن ِپاک پڑھ نہیں سکتے ان کو قلم قرآن پروجیکٹ کے ذریعے قرآن ِپاک سکھایا اور پڑھایا جا رہا ہے۔ اسی طرح شاعر مشرق، علامہ اقبالؒ کا کلام ا±ردو کے علاوہ عربی اور انگلش میں بھی شائع کرنے کا ارادہ ہے۔ اس کے علاوہ ہم قومی ہیروز مثلاً ڈاکٹر صفدر محمود، ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ اور دیگر قومی و ملی ہیروز کی کتب کی اشاعت کو اپنے لیے فخر اور ادارے کا اثاثہ سمجھتے ہیں۔
 اس سے قبل ہم نے پاکستان کی ممتاز شخصیت اور قومی ہیرو جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ کی خود نوشت ”داستانِ عزم“ شائع کی جو کہ ادارے کے لیے باعث افتخار ہے۔ ادارے کے روحِ رواں علامہ عبدالستار عاصم ہیں جو خود بھی سو سے زائد کتابوں کے مصنف اور معروف کالم نگار ہیں۔ آپ کے علمی و ادبی معرکوں میں پانچ جلدوں پر مشتمل جہانِ قائد کے عنوان سے تین ہزار صفحات پر محیط انسائیکلو پیڈیا ہے،جس نے علمی وادبی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ اسی طرح آپ نے مکتوباتِ رحمة للعالمین کو ایک جلد میں مرتب کر کے قابل ِستائش کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ ادارے کے صدر محمد فاروق چوہان کی عالمی شہرت یافتہ کتاب ”گردشِ ایام“ بھی شائع کی، اب تک اس کتاب کے دو ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں جو علمی و ادبی حلقوں میں دادِ تحسین حاصل کر چکے ہیں۔ جناب سرمد خان صاحب بنیادی طور پر چیف اکاﺅنٹینٹ ہیں مگر دنیا بھر میں جہاں بھی بک فیئر ہو وہ ضرور شرکت کرتے ہیں۔ ا±ردو زبان کے عاشقوں میں سے ہیں اور ا±ردو سے بے حد پیار کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان کی نمائندہ کتب یورپ سمیت مڈل ایسٹ کے تمام علمی اداروں اور لائبریریوں میں موجود ہونی چاہئیں۔ اس سے پاکستان میں زرِ مبادلہ آئے گا جس سے پاکستان معاشی طور پر مضبوط ہو گا۔ سرمد خان کا خیال ہے کہ پاکستان کے قومی ہیروز کے نام پر دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں ایک ایک گوشہ سپانسر کیا جائے اور انہیں ان بڑے ناموں کے ساتھ منسوب کیا جائے۔ مثلاً مرزا اسد اللہ خان غالب، میر تقی میر، اکبر الٰہ آبادی، اشفاق احمد خان، بانو قدسیہ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، الطاف حسن قریشی، ڈاکٹر سلمان طاہر، ڈاکٹر انور سدید، ڈاکٹر اجمل نیازی، مجید نظامی، مجیب الرحمن شامی، ضیاءشاہد، جمیل اطہر قاضی، ارشاداحمد عارف، عامر خاکوانی سمیت دیگر علمی و ادبی ہیرو کے نام بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ٭٭٭