شرمیلے بچوں کو بااعتماد بنائیں!

شرمیلے بچوں کو بااعتماد بنائیں!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

بچے تو ہوتے ہی شرمیلے ہیں ،لیکن اگر یہ شرمیلا پن بہت زیادہ بڑھ جائے تو پھر یہ بچے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔شرمیلا مزاج ہونے کی علامات یہ ہیں کہ "بچہ کسی سے بات کرتے ہوئے والدین سے چمٹ جائے، یا پھر اپنا سر جھکا کر وہاں سے چلا جائے"۔ایسے بچوں کو دوست بنانے میں پریشانی ہوتی ہے۔یہ الگ تھلگ بیٹھ کر دوسرے بچوں کو کھیلتے کودتے دیکھنا پسند کرتے ہیں اور کسی قسم کی نئی سرگرمی میں حصہ لینے سے کتراتے ہیں۔
عالمی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق سوسائٹی فار ریسرچ ان چائلڈ ڈویلپمنٹ کے جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق بچوں کی شخصیت میں شرمیلا پن ہونا یا اجنبی لوگوں کے سامنے ہچکچاہٹ محسوس کرنا ایک عام تجربہ ہے۔ اونٹاریو میں بروک یونیورسٹی کی مصنفہ کرسٹی پول کا کہنا ہے کہ "شخصیت میں شرمیلا پن، جھجک یا خوف اس وقت محسوس ہوتا ہے جب آپ نئے ماحول میں جاتے ہیں یا کسی مجمع میں توجہ کا مرکز ہوتے ہیں"۔
تحقیق کے مطابق محققین نے شرمیلے پن کا جائزہ لینے کے لیے 7 سے 8 سال کی عمر کے 152 بچوں کا جائزہ لیا۔ان بچوں سے کہا گیا کہ وہ تقریر کریں جسے فلمایا جائے گا اور ان کی تقریر دیگر بچوں کو بھی دکھائی جائے گی۔ تقریر کے دوران ماہرین نے بچوں کے رویے، ہاتھ کے اشارے، باڈی لینگویج، نظروں کی حرکت وغیرہ کا جائزہ لیا۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ تقریر کے دوران تقریباً 10 فیصد بچے تناو¿، گھبراہٹ اور شرمیلے پن کا شکار تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرمیلا پن بچوں کے مزاج کا حصہ ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ تقریباً 25 فیصد بچوں میں شرمیلا پن محسوس نہیں کیا گیا؛تاہم تقریر کے دوران سماجی تناو¿ میں اضافہ ہوا۔کرسٹی پول کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ اس عمر کے بچوں میں تقریر کرنے کے دوران شرم محسوس کرنا عام سی بات ہو۔
سوشل سائنسز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر اور پنسلوانیا سٹیٹ یونیورسٹی میں سائیکالوجی کے پروفیسر کورالی پیریز ایڈگر کا کہنا ہے کہ اس تحقیق میں کچھ حدود تھیں، خاص طور پر یہ کہ جن بچوں کا مطالعہ کیا گیا وہ زیادہ تر سفید فام تھے اور ایک ہی سماجی اقتصادی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں وسیع مطالعے کی ضرورت ہے جو معاشرے میں بچوں کی نشوونما میں ہماری مدد کر سکے، اور ہم یہ معلوم کر سکیں کہ یہ بچے وقت کے ساتھ ساتھ کتنی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا شرمیلا ہونا ب±ری بات ہے؟ اس حوالے سے پروفیسر کورالی پیریز ایڈگر کا کہنا ہے کہ جو لوگ شرمیلے ہوتے ہیں انہیں زیادہ اہم نہیں سمجھا جاتا۔کئی لوگ ان لوگوں کو زیادہ پُراعتماد تصور کرتے ہیں جو اجنبی لوگوں سے جلدی گھل مل جاتے ہیں یا زیادہ ملنسار ہوتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مزاج میں شرمیلا پن ہونا غلط بات ہے۔ ہر کوئی مختلف اوقات میں شرمیلا ہو سکتا ہے اور جو لوگ شرمیلے ہوتے ہیں وہ اکثر خوشگوار سماجی زندگی بسر کرتے ہیں،تاہم اس حوالے سے کچھ باتیں ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر کورالی کہتی ہیں کہ جو لوگ مسلسل شرمیلے ہوتے ہیں وہ اینگزائٹی (ذہنی بے چینی یا گھبراہٹ وغیرہ) کا شکار ہو سکتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ "جو لوگ زیادہ شرمیلے ہوتے ہیں یا وہ سکول میں کام کرنے، دوست بنانے اور عام سرگرمیوں (کلب اور کھیل) میں مشغول ہونے میں دشواری کا سامنا کرتے ہیں تو بچے کے ساتھ ساتھ والدین کے لیے بھی یہ خطرے کی علامت ہے"۔ان کا ماننا ہے کہ اگر چہ شرمیلا پن مسئلہ نہیں ہے لیکن والدین کو ایسے بچوں پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بچوں سے ان کی پریشانی کے حوالے سے سوال کرنا چاہیے۔ یہ بات بھی قابل ِذکر ہے کہ کچھ بچے ابتدائی طور پر شرمیلے ہوتے ہیں لیکن عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کے مزاج میں شرمیلا پن کم ہوجاتا ہے۔
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ان شرمیلے بچوں کی مدد کیسے کی جائے؟ بالٹی مور میں جانز ہاپکنز چلڈرن سینٹر میں بچوں اور نوعمروں کی ماہر نفسیات ڈاکٹر ایریکا چیاپینی کا کہنا ہے کہ گھبراہٹ کی وجہ سے اگر آپ کا بچہ ایسے مواقع یا حالات کو نظرانداز کر رہا ہے جو اس کے لیے اہم ہیں یا مستقبل میں اس کے لیے خوشگوار ہو سکتی ہیں تو والدین کو اس حوالے سے اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کلاس میں کسی سے بات نہ کرنا، دوست بنانے میں پریشانی کا سامنا کرنا اور ایسی سرگرمیوں میں شامل نہ ہونا جن سے وہ لطف اندوز ہو سکتے ہیں، بچوں کے لیے مستقبل میں یہ صورتِ حال سنگین بھی ہوسکتی ہے۔ بچے پر شرمیلے پن کا لیبل لگانے کے بجائے بچے کے احساسات اور جذبات پر غور کریں۔ بچے جتنا زیادہ حالات کو نظر انداز کریں گے ، انہیں مستقبل میں اتنی ہی زیادہ پریشانی ہو گی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنے بچے کو زبردستی ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کریں۔
والدین کو ایسی صورتِ حال سے آہستہ آہستہ اور وقفے وقفے کے ساتھ نمٹنے کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر آپ اپنے بچے کو پہلے دوسرے لوگوں سے سوال پوچھنے یا بات کرنے کے بجائے والدین اور بچے آپس میں تفصیلی بات کریں۔ بچے کو اس کے جذبات محسوس کرنے کے لیے آزادی دیں، اسے محسوس کروائیں کہ آپ اس کی مدد کریں گے۔ بچے کو کھیل کود سمیت مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیں ، انہیں سکاو¿ٹنگ کیمپوں میں حصہ لینے کی اجازت دیں، اسے معاشرتی کاموں میں جذباتی طور پر حصہ لینے کی تربیت دیں۔ انہیں ہر وہ کام کرنے کی ترغیب دیں جس کو کرنے میں وہ ہچکچاہٹ محسوس کریں۔ جس طرح بھی ممکن ہو ، والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کے دوست بن جائیں اور چھوٹی عمر میں ہی شرمیلے بچوں کے شرمیلے پن کو غیر محسوس طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کریں تاکہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ساتھ یہ بچے ہر اس کام میں بلا جھجک حصہ لے سکیں جو ان کے لئے فائدہ مند ہوں۔
٭٭٭