افغانستان عدم استحکام کا شکار، 25صوبے خشک سالی سے متاثر: اقوام متحدہ 

  افغانستان عدم استحکام کا شکار، 25صوبے خشک سالی سے متاثر: اقوام متحدہ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  

کابل(آئی این پی) 2021میں طالبان کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد سے افغانستان عدم استحکام کا شکار ہے،افغانستان کی حالت زار پر روشنی ڈالتے ہوئے طالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں پر عالمی توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کی ضرورت ہے2021کے بعد سے افغانستان میں انسانی حقوق کی شدید پامالیاں اور انسانی بحران کی سنگین صورتحال دیکھنے میں آئی طالبان رجیم نے انسانی بحران اور عدم تحفظ کی صورتحال سے نمٹنے کے بجائے خواتین کو اپنے عتاب کا نشانہ بنانا شروع کردیا اور تمام وسائل خطے میں دہشتگردی کے فروغ پرصرف کر دئیے طالبان کے غیض وغضب کا شکارہونے والوں میں خواتین،صحافی، اقلیتی کمیونٹی، سابق سیاسی و عسکری رہنما اور انسانی حقوق کے کارکنان سرفہرست ہیں۔خواتین پر کام کرنے کی پابندی لگانے کے باعث افغانستان کی معیشت کو ایک بلین ڈالر کا خسارہ ہوا ہے،20لاکھ سے زائد افغان بچے بھوک اور افلاس کے باعث شدید خطرناک حالات میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں،موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں افغانستان کے 34میں سے 25صوبے تباہ کن خشک سالی سے متاثر ہیں،زلزلوں کے نتیجے میں تین لاکھ سے زائد افغان شہری فوری امداد کے منتظر ہیں،سیلاب، زلزلوں طالبان رجیم کی لاپرواہی کے نتیجے میں 60لاکھ سے زائد افغان شہری بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ خوراک اور ادویات کی قلت بھی سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہے،افغانستان میں مسلسل گرتی ہوئی معیشت کے باعث کاروبار اور بینکاری کا نظام بھی تباہ کن صورتحال سے دوچار ہے،اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کا جی ڈی پی 2021سے اب تک 29فیصد تک گر چکا ہے اور اب بھی مسلسل گراوٹ کا شکار ہے،غربت اور مسلسل جنگ کے باعث افغانستان کے 15فیصد گھرانوں میں ایک نہ ایک معذور فرد موجود ہے  افغانستان میں انسانی بحران کے باعث 34فیصد افغان شہری قرضہ لے کر، 15فیصد اپنے ذخائر فروخت کر کے، 11فیصد خوراک کم کر کے اور 10فیصد بچوں سے مزدوری کروا کر اپنا پیٹ پالنے پر مجبور ہیں افغان طالبان اپنی ناقص کارکردگی اور دہشتگردی میں ملوث ہونے کے باعث افغانستان کو ہر گزرتے دن کیساتھ مزید تباہی کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

اقوام متحدہ رپورٹ 

مزید :

صفحہ آخر -