شیخ مجیب الرحمٰن غدار وطن نہیں تھا، جب تک زیادتیوں کا ازالہ نہیں ہوتا اس وقت تک کیا مذاکرات ۔۔۔؟ حامد خان کھل کر بول پڑے

شیخ مجیب الرحمٰن غدار وطن نہیں تھا، جب تک زیادتیوں کا ازالہ نہیں ہوتا اس وقت ...
شیخ مجیب الرحمٰن غدار وطن نہیں تھا، جب تک زیادتیوں کا ازالہ نہیں ہوتا اس وقت تک کیا مذاکرات ۔۔۔؟ حامد خان کھل کر بول پڑے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) رہنما تحریک انصاف سینیٹر حامد خان نے کہا ہے کہ شیخ مجیب الرحمٰن غدار وطن نہیں تھا، شیخ مجیب نے جائز طریقے سے الیکشن جیتا تھا، اس وقت کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے شیخ مجیب الرحمن کو حکومت نہ دے کر زیادتی کی تھی، اگر کوئی پاکستان توڑنے کا بوجھ جنرل یحییٰ پر ڈالنے کے بجائے مجیب الرحمٰن پر ڈالتا ہے تو پاکستان اور سچائی کے ساتھ زیادتی کرے گا.

 انہوں نے ان خیالات کا اظہار  نجی ٹی وی کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔پروگرام میں سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ اورسینئر صحافی و تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نےبھی شرکت کی ۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ان کے ساتھ ہوتے ہیں جنہوں نے آپ کے ساتھ بہتر سلوک کیا ہو، جب تک زیادتیوں کا ازالہ نہیں ہوتا اس وقت تک کیا مذاکرات ہوں گے۔ علی امین گنڈاپور کا بطور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وفاق سے معاملات طے کرنا سمجھ میں آتا ہے، علی امین گنڈاپورکا اپنے آئینی فرائض پورے کرنے کیلئے وفاقی حکومت یا کسی وزیر کے ساتھ بات کرنا سمجھ آتا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جماعتوں کے درمیان کوئی بات چیت ہورہی ہے، مذاکرات ان کے ساتھ ہوتے ہیں جنہوں نے آپ کے ساتھ بہتر سلوک کیا ہو، ان جماعتوں کے ساتھ کیا مذاکرات ہوں گے جنہوں نے آپ کا مینڈیٹ چوری کیا ہو،(ن) لیگ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے ہمارا مینڈیٹ چرایا ہے، عمران خان نے 8فروری کے نتائج کے فوری بعد واضح کردیا تھا کہ ان 3 سیاسی جماعتوں سے بات نہیں کریں گے۔ 

حامد خان کا  مزید کہنا تھا کہ جب تک زیادتی کا ازالہ اور انصاف نہ ہو اس وقت تک کیا مذاکرات ہوں گے؟، ایک طرف پی ٹی آئی کی قیادت کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا ہوا ہے، ان حالات میں مذاکرات کے بارے میں سوچنا ناممکن بات ہے، پی ٹی آئی 8 فروری کے الیکشن کے آڈٹ کیلئے سپریم کورٹ میں جیوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواست دے چکی ہے، چوری کا مال حقدار کو واپس دیا جائے اس کے بعد بات چل سکتی ہے۔

 حامد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت جائز حکومت ہے اس نے اپنا کام کرنا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم 8 فروری کے انتخابات کے نتائج قبول کرلیں گے، پنجاب حکومت الیکشن نتائج تبدیل کر کے بنائی گئی اسے جائز نہیں مانتے.

سینیٹر حامد خان  نے مطالبہ کیا کہ  عدلیہ 8فروری کے الیکشن کا آڈٹ کرواکے صحیح نتائج سامنے لائے۔