مقتدرہ کو عمران خان کو جیل سے نکال کر بنی گالہ میں رکھنا چاہیے او ر ۔۔۔؟ سہیل وڑائچ نے مفاہمت کیلیے "اہم تجویز " دیدی

مقتدرہ کو عمران خان کو جیل سے نکال کر بنی گالہ میں رکھنا چاہیے او ر ۔۔۔؟ سہیل ...
مقتدرہ کو عمران خان کو جیل سے نکال کر بنی گالہ میں رکھنا چاہیے او ر ۔۔۔؟ سہیل وڑائچ نے مفاہمت کیلیے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی  (مانیٹرنگ ڈیسک )سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ پاکستان کو آگے چلانے کا مفاہمت کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے، لڑائی جھگڑے سے مقتدرہ، سیاسی جماعتوں، معیشت اور عوام کسی کا فائدہ نہیں ہورہا.مقتدرہ کو عمران خان کو جیل سے نکال کر بنی گالہ میں رکھنا چاہیے ۔

 انہوں نے ان خیالات کا اظہار  نجی ٹی وی کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔پروگرام میں  تحریک انصاف کے رہنما حامد خان اورسینئر صحافی و تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نےبھی شرکت کی ۔

سہیل وڑائچ کا کہنا تھا  کہ پاکستان کو آگے چلانے کا مفاہمت کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے، لڑائی جھگڑے سے مقتدرہ، سیاسی جماعتوں، معیشت اور عوام کسی کا فائدہ نہیں ہورہا، سیاسی پراسس شروع ہونے کا سب سے زیادہ پی ٹی آئی کو ہوگا، فوج کے ساتھ آج تک جتنے ٹکراؤ ہوئے اس میں فوج جیتی ہے، اس طرح کی لڑائی کے بعد اعتماد بحال کرنے کیلئے اقدامات کرنا پڑتے ہیں، مقتدرہ کو عمران خان کو جیل سے نکال کر بنی گالہ میں رکھنا چاہیے او ر وہاں مذاکرات کرنے چاہئیں، حکومت اور پی ٹی آئی پارلیمان کے ذریعہ بات چیت شروع کرسکتی ہے۔