پڑھنے کے لیے کتاب میں جنسی تعصب تحقیق نے بے نقاب کر دیا

پڑھنے کے لیے کتاب میں جنسی تعصب تحقیق نے بے نقاب کر دیا
پڑھنے کے لیے کتاب میں جنسی تعصب تحقیق نے بے نقاب کر دیا

  

لندن (نیوز ڈیسک) صنفی امتیاز اور صنفی تعصب صرف روزمرہ رویوں کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک تازہ تحقیق کے مطابق ہم اپنی پسند کی کتابوں کے انتخاب میں بھی اس کا استعمال کررہے ہیں۔ اس تحقیق کے متعلق جاننے سے پہلے آپ ذرا سوچئے کہ آپ نے پچھلے کچھ عرصہ میں جو کتابیں پڑھی ہیں ان میں مردوں کی لکھی ہوئی کتنی ہیں اور خواتین کی لکھی ہوئی کتنی ہیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ اکثر مصنفین کا تعلق آپ کی صنف سے ہوگا۔

 برطانیہ میں Goodreads نامی ادارے کی تحقیق میں بھی یہی انکشاف ہوا ہے کہ مرد مردوں کی لکھی ہوئی اور خواتین خواتین کی لکھی ہوئی کتابوں کو زیادہ پسند کرتی ہیں۔ یہ تحقیق 40000 افراد پر کی گئی جس میں مرد قارئین سے ان کی 50 پسندیدہ ترین کتابوں کے بارے میں سوالات کئے گئے تو معلوم ہوا کہ ان میں سے 90 فیصد مرد مصنفین نے تحریر کی تھیں۔ یہی حال خواتین قارئین کا تھا۔ ان کی پسندیدہ ترین کتابوں کی بھی بھاری تعداد خواتین مصنفین کی تحریر کردہ تھی۔ اسی طرح مرد قارئین مرد مصنفین کی کتابوں کی زیادہ تعریف کرتے ہیں جبکہ خواتین قارئین خواتین مصنفین کی کتب کی زیادہ تعریف کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ہماری اپنی صنف سے تعلق رکھنے والے مصنفین ہماری پسند کے موضوعات پر زیادہ بہتر طور پر لکھتے ہیں لہٰذا ہم ان کی کتابوں کو فوقیت دیتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -