ترکی ‘سابق وزراءکے کرپشن سکینڈل، خبروں کی اشاعت پر پابندی عائد

ترکی ‘سابق وزراءکے کرپشن سکینڈل، خبروں کی اشاعت پر پابندی عائد

  

انقرہ(آئی اےن پی) ترکی کی ایک عدالت نے بعض سابق وزراءکے خلاف کرپشن کی تحقیقات سے متعلق خبروں کی اشاعت روک دی ، موجودہ صدر طیب اردگان نے اپنی وزارت عظمی کے دور میں ان وزیروں کے خلاف کرپشن سکینڈل کو رواں سال اپنے خلاف ایک سازش کا نام دیا تھا،عدالتوں میں تین وزیروں کے بیٹوں اور اہم تاجروں کے خلاف مقدمات چلے آرہے ہیں۔عالمی مےڈےا کے مطابق ترکی مےں سابق وزراءکے کرپشن سکینڈل کے حوالے سے خبروں کی اشاعت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔عدالتوں میں تین وزیروں کے بیٹوں اور اہم تاجروں کے خلاف مقدمات چلے آرہے ہیں تاہم ایک عدالت نے اپنے جاری کردہ حکم میں ان معاملات میں جاری تحقیقات کی میڈیا کوریج کو ممنوع قرار دیا ہے۔اس جاری کیے گئے حکم میں کہا گیا میڈیا کوریج روکنے کا مقصد انفرادی حقوق کا تحفظ ہے۔ واضح رہے جن سابق وزراءکو اس عدالتی حکم سے فائدہ ہوگا ان میں یورپی یونین کے اموراور ماحولیات کے سابق وزیر، سابق وزیر داخلہ اور سابق وزیر اقتصادی امور شامل ہیں۔ان وزرا کے خلاف ماہ مئی میں بنایا گیا ایک پارلیمانی کمیشن تحقیقات کر رہا ہے۔ پارلیمانی کمیشن کا پہلا اجلاس ماہ جولائی میں ہوا تھا جبکہ اسے اپنا کام 27 دسمبر تک مکمل کرنا ہے۔ اس پارلیانی کمیشن میں حکومتی ارکان کی تعداد زیادہ ہے۔

ترک صحافیوں کی ایسوسی ایشن نے اس عدالتی فیصلے کے بارے میں کہا ہے یہ سنسر شپ ہے۔ جبکہ اپوزیشن لیڈر نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ نے چوروں کو تحفظ دینا شروع کر رکھا ہے۔اپوزیشن کے حامی ذرائع ابلاغ نے اس عدالتی حکم کی مزاحمت کی ہے۔ کرپشن کا یہ سکینڈل پچھلے سال دسمبر میں اس وقت سامنے آیا تھا جب پولیس نے بہت سے افراد کو گرفتار کیا تھا۔طیب ایردوآن نے پولیس اور دوسرے متعلقہ ادروں کی طرف سے تحقیقات کو عدالتی بغاوت کا نام دیا تھا۔ اس سارے معاملے کے حوالے سے پولیس اور عدلیہ میں غیر معمولی اثرو رسوخ رکھنے والے مذہبی رہنما فتیح اللہ گولین کا نام بھی نمایاں طور پر سامنے آیا تھا۔

مزید :

عالمی منظر -