سوئٹزر لینڈ ‘کتوں اور بلیوں کا گوشت کھانے کو غیر قانونی قرار دےنے کا مطالبہ

سوئٹزر لینڈ ‘کتوں اور بلیوں کا گوشت کھانے کو غیر قانونی قرار دےنے کا مطالبہ

  

برن(مانیٹرنگ ڈیسک) سوئٹزر لینڈ میں سرگرم سماجی کارکنوں نے مطالبہ کےا ہے کہ ملک میں کتوں اور بلیوں کا گوشت کھانے کو غیر قانونی قرار دیا جانا چاہیے۔عالمی مےڈےا کے مطابق سوئٹزر لینڈ کی پارلیمنٹ کو 16 ہزار دستخطوں کے ساتھ ایک درخواست پیش کی گئی ہے جس میں حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ لوگوں کہ ’پالتو جانور‘ کھانے سے روکے۔جانوروں کے تحفظ کی تنظیم ’ایس او ایس چیٹس نواریگ‘ کی بانی اور سربراہ ٹومی تومیک نے کہا کہ ’سوئٹزر لینڈ میں تین فیصد لوگ بلی یا کتے کا گوشت کھاتے ہیں۔سوئٹزر لینڈ کے کچھ حصوں میں بلی کا گوشت کرسمس کے روایتی کھانوں میں اب بھی دکھائی دیتا ہے۔بلی کاگوشت اکثر تہوار کے دنوں میں خرگوش کے گوشت کی طرح پکایا جاتا ہے۔ٹومی تومیک کا کہنا تھا کہ ’یہ عمل خاص طور پر چار اضلاع میں دکھائی دیتا ہے۔کتوں کا گوشت زیادہ تر ساسیج میں ڈالا جاتا ہے اور جوڑوں کےدرد کا علاج بتایا جاتا ہے۔صحتمندانہ خوراک اور جانوروں کی صحت سے منسلک ایک ادارے کے مطابق اگرچہ کتے یا بلی کا گوشت فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہے لیکن لوگ قانونی طور پر اپنے پالتو جانور کھا سکتے ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق کتوں اور بلیوں کے گوشت کی فروخت کے واقعات ’کم‘ ہوتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ جانوروں کی بہبود کو سوئٹزر لینڈ میں بہت ترجیح دی جاتی ہے اور جانوروں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات عدالت تک لے جائے جاتے ہیں۔ٹومی تومیک نے کہا کہ ’اس وقت ہم کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ قانون لوگوں کو اپنے پالتو کتے یا بلیاں کھانے سے نہیں روکتا۔ ہم ان لوگوں کو سزا نہیں دلوا سکتے جو ایسا کرتے ہیں۔‘گذشتہ سال ٹومی تومیک کی تنظیم نے ایک کامیاب مہم چلائی تھی جس میں بلیوں کی کھال کی فروخت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

مزید :

عالمی منظر -