اقتصادی اور کاروباری پالیسیوں کے طویل المدتی تسلسل کو یقینی بنایا جائے

اقتصادی اور کاروباری پالیسیوں کے طویل المدتی تسلسل کو یقینی بنایا جائے

  

لاہور (کامرس رپورٹر)پاک چین جوائینٹ چیمبر آف کامرس ا اینڈ انڈسٹری کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی اور کاروباری پالیسیوں کے طویل المدتی تسلسل کو یقینی بنایا جائے اور اس مقصد کیلئے حکومت کی جانب سے کاروباری پالیسیوں کو آئینی تحفظ فراہم کیا جانا چاہئے تاکہ بین ا لاقوامی سطح کاروباری برادری کی طرف سے پاکستان کو مطلوبہ اہمیت حاصل ہوسکے۔یہ بات انہوں نے آج یہاں عالمی بنک کے وفد سے تبادلہءِ خیالات کرتے ہوئے کہی۔۔وفد میں ورلڈ بینک کے لیڈ اکانمسٹ مسٹر ونسٹ پالمیڈ، ٹریڈ آفیسر جناب امجد بشیر، سینئر سپیشلسٹ مسٹر جسٹن ہل شامل تھے جبکہ اجلاس میں پاکستان میں موجود چینی کمپنیوں کے ایسوسی ایشن کے چئیر مین وانگ زہائی نے بھی شرکت کی۔یہ وفد بالخصوص پاکستان میں نجی شعبہ کے اندر قائم سپیشل اکنامک زونز کی بہتری کیلئے تجاویز کے حصول کی غرض سے پاکستان آیا ہوا ہے۔۔وفد کے سربراہ نے فیصل آفریدی کی کاوشوں کو سراہتے ہوے کہا کہ پاکستان میں پرائیوٹ سپیشل اکنامک زون کی بنیاد رکھنے والے فیصل آفریدی پہلے شخص ہیں لہٰذا اس امر میں فیصل آفریدی سے آگاہی لینا اہم ہے۔ کاروبار کیلئے سازگار ماحول کی تشکیل اجلاس کے دوران گفتگو کا اہم مقصد رہی۔ارکان وفد نے فیصل آفریدی کے ساتھ پاکستان میں اکناک زونز میں کاروبار کی حالیہ صورتحال اور پیش رفت کا حوالے سے حوالے سے تبادلہ خیال کیا اور اس کے ساتھ ہی پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پیش آنے والے مسا ئل کی نشاندہی کرتے ہوے تشویش کا اظہار کیا۔

جس پر شاہ فیصل آفریدی نے کہا کہ مسائل سے نمٹنے کیلئے حکومت ٹھوس اقدامات لے رہی ہے اور سرمایہ کاروں کی سہولت اور راہنمائی کیلئے PBIT اور BOI جیسے مخصوص ادارے قائم کئے گئے ہیں اس کے علاوہ گورنمنٹ اور پرائیوٹ سیکٹرکے درمیان خلاء کو دور کرنے کیلئے پاکستان بزنس اینڈ اکنامک کانسل PBEC بھی تشکیل دیا گیا ہے ۔ ان تمام اداروں کا کام صرف اور صرف کاروباری ماحول کو منظم بنانا ہے اور یہ ادارے اس امر میں اپنا کردار بخوبی انجام دے رہے ہیں ۔فیصل آفریدی نے کہا کہ توانائی کا بحران ملک کا بڑا مسئلہ ہے جس پر قابو پانے کیلئے حکومتی ستح پرمنصوبوں کا آغاز ہو چکا ہے۔SEZ کی حالیہ صورتحال اور اہمیت بیان کرتے ہوے فیصل آفریدی نے کہا کہ ہائرروبا SEZ ،2006 میں اُنکی محنت اور چینی تعاون کے نتیجے میں قائم ہوی ۔ اُنہوں نے بتایا کہ یہ SEZ پرائیوٹ سیکتر مین اپنی طرز کا واحد منصوبہ ہے جس نے ملک مین One window optimized operation کا تصور متعارف کرایا۔فیصل آفریدی نے بتایا کہ ابتداء میں SEZکے تصور کو حکومتی ستح پر ٹھیک طور پر نہیں سمجھا گیا تھا جس کی باعث کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ان تمام مسا ئل کے باوجود Haier Ruba SEZ کے تحت 11 کمپنیز کام کر رہی ہیں اور یہ زبردست کارکردگی صرف اور صرف 8 سال کے عرصے میں رونما ہوئی۔ ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت ہائر روبا کے سپیشل اکنامک زون کے توسط سے تقریباََ 11000, افراد کو روزگار مہیا ہو رہاہے ۔

مزید :

کامرس -