پولیو ٹیم پر حملہ در حقیقت پاکستان کے وقار پر حملہ ہے

پولیو ٹیم پر حملہ در حقیقت پاکستان کے وقار پر حملہ ہے

  

بدھ کو کوئٹہ میں انسداد پولیو ٹیم کے ارکان دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔نامعلو م موٹر سائیکل سواروں کی اندھا دھند فائرنگ سے 4 پولیو ورکرز جاں بحق اور3 زخمی ہوگئے،ہلاک ہونے والوں میں تین خواتین بھی شامل تھیں۔ تفصیلا ت کے مطا بق کو ئٹہ سمیت بلو چستان کے 8اضلا ع میں پو لیو مہم کے تیسر ے ر و ز 9خوا تین اور1مر د پر مشتمل پولیوٹیم بچوں کو قطرے پلانے جارہی تھی کہ مشرقی بائی پاس کے قریب دونامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے حملہ کر دیا۔ پولیو ورکرز پر حملے کے بعد نیشنل ایمپلائز یونین اور لیڈی ہیلتھ ورکرز نے پولیو مہم کے غیرمعینہ مدت تک بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت رضا کاروں کو سیکورٹی فراہم کرنے میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے۔حکومت نے پولیو ورکرز کے ورثاء کو دس دس لاکھ اور زخمیوں کو دو دو لاکھ روپے کی امداددینے کا اعلان کیا۔ صوبائی سیکرٹری داخلہ اکبر درانی کے مطابق کوئٹہ میں پولیو مہم روک دی گئی ہے۔ انسداد پولیو ٹیم پر حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے،پولیو ٹیم پر حملے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پولیوٹیم پر حملے کئے جا چکے ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2012 ء سے ستمبر 2013 ء کے دوران 27 پولیو ورکرز کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ان کارروائیوں میں بظاہر تو پولیو ٹیم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن در حقیقت یہ حملے پاکستان کی عزت اور وقار پر کئے جا رہے ہیں۔ دہشت گرد اور ملک دشمن عناصر پاکستان کو دنیا بھر میں رسوا کرنا چاہتے ہیں، اس کی تذلیل چاہتے ہیں،ان کا مقصد پاکستان کی جگ ہنسائی ہے ،وہ پوری عالمی برادری کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں پولیو سے نمٹنے کی صلاحیت موجود نہیں ہے، وہ تو اپنے ورکروں کی جان کی حفاظت ہی نہیں کر سکتا تو پولیو کا خاتمہ کیسے کر پائے گا؟اور المیہ یہ ہے کہ وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔ کئی پاکستانی والدین بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیتے ہیں، ٹیم کے ارکان کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتے ہیں، گالم گلوچ کرتے ہیں،ورکر پہلے ہی اپنی انا ایک طرف رکھ کر کام کر رہے ہیں ایسے میں دہشت گردوں کی کارروائیوں سے ان میں خوف و ہراس پھیلا کر، بندوقوں کے مُنہ کھول کر ان کے کام میں مزید رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں ہنگامی بنیادوں پر قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے،پولیو ٹیم کو مکمل تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔اگر اس میں کوتاہی ہوتی ہے توصوبائی وزیر صحت، صوبائی وزیر داخلہ اور متعلقہ افسران پر قتل کا مقدمہ درج ہونا چاہئے، ان کو بھی اندازہ ہونا چاہئے کہ غفلت کے کتنے سنگین نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ وہ والدین جو اپنے بچوں کو قطرے نہیں پلاتے ،ان کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جانی چاہئے،ان کو بھی سزا دینے کے لئے قانون بنایا جانا چاہئے۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق 2012ء میں تمام تر کوششوں کے باوجود 47,099 بچے قطرے پینے سے محروم رہے، جس کی ذمہ داری صرف اور صرف ان کے والدین پر عائد ہوتی ہے۔ان کو سمجھنا چاہئے کہ ان کی لاپرواہی صرف ان کے لئے ہی نہیں،بلکہ ان کے بچوں اور پورے ملک کے لئے نقصان دہ ہے۔ اگر بچہ پولیو کا شکار ہو جائے تو عمر بھر کی معذوری اس کا مقدر بن جاتی ہے، ماں باپ کی مستقل آزمائش شروع ہو جاتی ہے۔قدرت تو لاپروا والدین کو کِسی نہ کِسی انداز میں سزا دے ہی دیتی ہے، لیکن حکومت کو بھی ان کے لئے سزا تجویز کرنی چاہئے تاکہ دوسرے ان سے سبق سیکھ سکیں۔ پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جہاں اب بھی پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے اورورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اسے دنیا سے پولیو کے خاتمے کے راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق چین، مصر اور شام میں سیوریج میں ملنے والے پولیو وائرس پاکستان میں پائے جانے والے وائرس سے مشابہت رکھتے ہیں۔اسی لیے مئی 2014ء سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پاکستانی مسافروں کے لئے پولیو کے قطرے پینا اور اس کا سرٹیفکیٹ دکھانا لازمی قرار دے دیا ہے۔اپنی طرف سے تو یہ کوشش انہوں نے وائرس کی روک تھام کے لئے کی ہے، لیکن ہمارے ہاں نیا کاروبار شروع ہو گیا،کہا جا رہا ہے کہ کئی مقامات پر بغیر قطرے پلائے ہی سرٹیفکیٹ جاری کئے جا رہے ہیں، ظاہر ہے اس کے بدلے نقد ’’ہدیہ‘‘ ہی لیا جاتا ہو گا۔اس بات کابھی نوٹس لیا جانا چاہئے،سرٹیفکیٹ پرایم ایس لیول کے کسی منصب دار کے دستخط لازمی قرار دیے جانے چاہئیں اور وہ اس بات کا مکمل یقین کرے کہ جسے سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا ہے اس شخص کو لازمی قطرے پلائے گئے ہوں۔دنیا ہمارے ملک کے بارے میں پراپیگنڈہ کرتی ہے اور ہر بات کا فسانہ بناتی ہے، لیکن ہم خود بھی کسی سے کم نہیں ہیں،ہم نے بھی ہر چیز کا تماشہ بنا لیا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنایزیشن کے مطابق پاکستان میں2013ء میں پولیو کے72کیس سامنے آئے جو کہ 2012 ء میں58 تھے اور ان 72 میں سے 51کیس صرف فاٹا ہی کے تھے۔ان کیسوں کے بڑھنے کی بڑی وجہ ذمہ دار افسران کا احتساب نہ ہونا ہے، ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جاتی لیکن ہماری نظر میں اس جرم میں حکومت اور افسران کے ساتھ ساتھ عام پاکستانی شہری بھی برابرکے شریک ہیں۔ہر کام حکومت کے کھاتے میں ڈال کر ہم با آسانی بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ مانا کہ ہمارے نظام میں جا بجا سوراخ ہیں لیکن انہیں رفو کرنے کے لئے کوئی باہر سے نہیں آئے گا، یہ کار خیر ہمیں خود ہی سر انجام دینا ہو گا۔ نظام کی مضبوطی اور پاکستان کی بہتر ی کے لئے امریکہ کی امداد کی ضرورت ہے نہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی۔ اگر حکومت اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کی بجائے ان کو درست کرنے کی کوشش کرے،موثر اقدامات کرے اور ہر شہری اپنی ذمہ داری کا احساس کر کے اپنے فرائض بخوبی ادا کرے،تو پھر پاکستان کو پولیو فری زون بننے سے کوئی بڑے سے بڑا دشمن نہیں روک سکتا۔

مزید :

اداریہ -