ڈاکٹر طاہر القادری اپنی صحت کو اوّلیت دیں

ڈاکٹر طاہر القادری اپنی صحت کو اوّلیت دیں

  

بھکر کے جلسے سے واپسی کے بعد پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا، ڈاکٹروں نے انہیں مکمل آرام کی ہدایت کی ہے اور چند دِنوں کے لئے ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری جن دِنوں اسلام آباد کے دھرنے میں شریک تھے، مختلف اقسام کی ادویات باقاعدگی سے استعمال کرتے تھے، اُن دِنوں چونکہ اُن کے معمولاتِ زندگی تبدیل ہو کر رہ گئے تھے، دھرنے کا دباؤ بھی تھا، پھر اس پر سوا اُن کا جوشِ خطابت اور اس دوران شرکا کے سامنے کفن کی نمائش ایسے مظاہر تھے، جنہوں نے اُن کی پہلے سے خراب صحت کو مزید خراب کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اب بتایا ہے کہ وہ35سال سے نمازِ مغرب سے فجر تک رت جگا کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے بتایا تو نہیں، لیکن ظاہر ہے اُن کی شب بیداری کا یہ وقت ذکر و فکر میں گزرتا ہو گا، پھر وہ عالم فاضل ہیں، راتوں کو تصنیف و تالیف کا کام بھی کرتے ہوں گے، اسی لئے تو اُن کی لکھی ہوئی کتابوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے۔ اس کے باوجود ان کی تقریروں کی گھن گرج سے نہیں لگتا کہ انہیں کوئی بیماری بھی ہو گی، لیکن ایسے لگتا ہے اُن کی مشقت کی زندگی نے اُن کی صحت کے نظام کو خاصی حد تک متاثر کر دیا ہے اسی لئے تو ڈاکٹروں نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے۔ ہماری بھی اُن سے یہی گزارش ہے کہ وہ کچھ وقت کے لئے سیاسی علائق کو ایک طرف رکھ کر،جن کا ان کی صحت کی خرابی میں حصہ ضرور ہے ، اپنی صحت پر توجہ دیں ۔یہ درست ہے کہ انہوں نے حال ہی میں انتخابی سیاست کی طرف دوبارہ آنے کا اعلان کیا ہے اور اُن کی جماعت بھکر کے ضمنی الیکشن میں حصہ بھی لے رہی ہے، لیکن یہ سارے کام انہیں اپنی صحت کی قیمت پر نہیں کرنے چاہئیں، بہتر ہے کہ وہ یہ ذمہ داریاں اپنی جماعت کے دوسرے لیڈروں کے سپرد کر کے خود آرام کریں اور خاص طور پر ایسی باتوں سے پرہیز کریں، جو اُن کے بلڈ پریشر کو تیز کرتی اور پورے نظام صحت کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ اللہ رب العزت انہیں جلد صحت یاب کرے تاکہ وہ جلسوں میں پہلے کی طرح گرجنے برسنے کے قابل ہو سکیں۔

مزید :

اداریہ -