جیالے اور یوم تاسیس پر کنونشن!

جیالے اور یوم تاسیس پر کنونشن!
جیالے اور یوم تاسیس پر کنونشن!

  

پیپلزپارٹی کی شہید چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو 1986ءمیں وطن واپس آئیں اور جماعت کی قیادت سنبھال کر سیاسی سرگرمیاں شروع کیں۔ وہ لاہور آئی تھیں اور ان کا تاریخی اور بے مثال استقبال بھی ہوا، جو یادگار تھا اور ہے، اس سے پہلے ایم آر ڈی کا دور تھا۔ محترمہ کی عدم موجودگی میں ایبٹ آباد میں ہونے والے اجلاس میں1985ءکے عام انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا گیا تھا کہ جنرل ضیاءالحق نے1979ءمیں بلدیاتی انتخابات اور پھر وفاقی اور صوبائی کونسلیں قائم کر کے حکمرانی کی تاہم پھر ان کو عام انتخابات کی طرف جانا پڑا، تو1985ءمیں غیر جماعتی انتخابات کا اعلان کیا گیا۔ ایم آر ڈی نے طویل بحث کی۔ محترمہ بائیکاٹ کے حق میں نہیں تھیں، لیکن نوابزادہ نصر اللہ خان کے دلائل اور ایئر مارشل(ر) اصغر خان کی نیم رضا مندی نے راہ ہموار کر دی اور ان انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ ہو گیا۔نتیجے میں انہی سیاسی جماعتوں کے حضرات نے اپنے بھائی بھتیجوں کو آگے کر کے ان انتخابات کو کامیاب کرا دیا اور پھر یہ غیر جماعتی ایوان جماعتی بن گیا کہ ادھار پر دیئے گئے محمدخان جونیجو وزیراعظم بنے تو اسمبلی نے جماعتیں بحال کرا دیں۔

جو ہوا یہ تاریخ کا حصہ ہے، محترمہ نے آ کر سیاست شروع کی تو پیپلزپارٹی پھر سے فعال ہو گئی تھی۔کارکن بہت سرگرم اور بے چین تھے، ان دِنوں محترمہ لاہور آتیں تو ان کا قیام گلزار خان کی گلبرگ رہائش گاہ پر ہوتا، وہاں وہ میٹنگیں بھی کرتیں، میڈیا سے بھی ملتیں اور یوں یہ گھر ان کی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا، اس دور میں جب محترمہ اندر ڈرائنگ روم میں میٹنگ یا ملاقاتوں میں مصروف ہوتیں تو جیالے کثیر تعداد میں پہنچ جاتے۔گلزار ہاﺅس کا مرکزی دروازہ بند کر دیا جاتا اور عہدیدار اندر پہنچ چکے ہوتے یا ان کو جانے دیا جاتا، انہی میں خاص خاص کارکن بھی ہوتے تھے، باہر گیٹ پر ہجوم ہوتا اور جیالے محترمہ کو دیکھنے کے لئے ضد کرتے،دروازے پر ہلا بولا جاتا اور پھر نعرہ بازی بھی ہوتی کہ اندر زیادہ کارکنوں کی گنجائش نہیںتھی۔

پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کو شعور، بولنے کی ہمت دلائی تو ان کی جماعت کے کارکن بھی بے باک تھے اور اپنے رہنماﺅں کے سامنے بڑی سے بڑی بات کہہ گزرتے تھے کہ خود بھٹو بھی سُن لیا کرتے تھے یہ کارکن انتظامیہ کے سامنے ڈٹ جانے، مار کھانے اور جیلوں میں جانے کے سبب ہی نہیں۔ پارٹی قائدین کے سامنے بھی بڑی سے بڑی بات کہنے ہی کی وجہ سے جیالے کہلائے۔ بھٹو کے بعد محترمہ بھی ان کی سُنتی تھیں۔ یوں یہ سب جان قربان کرنے کو تیار رہتے۔

یہ سب یوں یاد آیا کہ کل(اتوار) لاہور میں ان جیالوں کا اجتماع ہونے والا ہے اور چشم فلک دیکھے گی کہ بحریہ ٹاﺅن جیسے دور دراز علاقے میں واقع بلاول ہاﺅس کے باہر بھی اِسی نوعیت کی رسہ کشی ہو گی اور نعرے لگیں گے۔ داخلہ محدود کیا گیا، یوم تاسیس کی شہرت زیادہ کر دی گئی اب ہر جیالا یہ چاہتا ہے کہ وہ اس اجلاس کا حصہ ہو جس سے بلاول خطاب کرنے والے ہیں، لیکن منتظمین کے نزدیک یہ ممکن نہیں۔ انہوں نے پوری تقریب کو ہی محدود کر دیا ہے، ابتدائی طور پر چھ ہزار افراد کے لئے گنجائش پیدا کی گئی ہے، پانچ ہزار جیالے پنجاب اور ایک ہزار مہمان پورے ملک سے ہوں گے۔ یوں مجموعی طور پر چھ ہزار کی گنجائش رکھی گئی ہے، جیالوں کے نقطہ نظر سے یہ بہت کم ہے۔ اس سے پہلے کہ اس مسئلہ پر مزید بات کی جائے، پس منظر جاننا اور بیان کرنا ضروری ہے، ہوا یوں کہ کراچی کے جلسہ کے بعد ہی بلاول بھٹو نے لاہور میں جلسہ کا اعلان کر دیا اور کہا کہ یوم تاسیس شاندار طریقے سے منایا جائے گا اور اس روز جلسہ ہو گا۔ یہ جلسہ مینارِ پاکستان کے زیر سایہ ہونا تھا، پھر نامعلوم وجوہات کی بناءپر جلسہ منسوخ کر دیا گیا اور یوم تاسیس کو ورکرز کنونشن میں تبدیل کر دیا گیا۔ شاید قائدین کو باور کرایا گیا تھا کہ جلسہ سیکیورٹی رسک ہو گا،چنانچہ مدارالمہام حضرات نے فوراً ہی حکمت عملی تبدیل کر دی اور یوم تاسیس کو زیادہ دنوں پر پھیلا دیا اور بلاول ہاﺅس والے ورکرز کنوشن کو بھی محدود کر دیا۔

اس حوالے سے اندر جو کچھ ہوا وہ کچھ خوشگوار نہیں، ہمیں تمام تفصیل کا علم ہے، لیکن یہ موقع نہیں کہ بتایا جائے۔ البتہ کنونشن کے بعد ممکن ہو گا کہ کھل کر بات کر لی جائے،اختلافات کوئی بُری بات نہیں، لیکن پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس کو چار دیواری میں محدود کرنے سے ان حضرات کی بات اچھی لگتی ہے کہ عوام بلاول کو سننا چاہتے ہیں اور وہ پارٹی کی آئندہ پالیسی اور حکمت عملی بھی جاننا چاہتے ہیں۔ ورکرز کنونشن سے پہلے ہی اعتراضات پر جواب ملنا شروع ہو گئے، جس سے فضا مکدّر ہوئی ہے۔

اب انتظامیہ (بلاول+بلاول ہاﺅس+پارٹی) نے جو منصوبہ بنایا ہے وہ کارکنوں کا پسندیدہ نہیں۔ وہ کھلے دربار کے طور پر کھلے بندوں کنونشن میں شرکت کرنا چاہتے ہیں، لیکن منتظمین کے پاس چھ ہزار سے زیادہ گنجائش نہیں اور یہ سب قطعاً خوشگوار تاثر نہیں بنا رہا،کارکن زیادہ آئیں گے اور اندر بھی جانا چاہیں گے۔ یہاں پابندی ہو گی۔ پیپلزپارٹی کے اپنے سیکیورٹی والے کارکنوں کو روکیں گے اور پھر یہاں جیالا کلچر ہی دیکھنے کو ملے گا، توتکار سے دھکوں تک کی نوبت آئے گی اور پھر کھینچاتانی کا بھی امکان ہے، نعرہ بازی یقینا ہو گی۔

اب تک انتظامات کے حوالے سے جو اطلاعات مشتہر ہوئیں وہ تو یہی ہیں کہ بلاول ہاﺅس میں داخلہ خصوصی کارڈوں کے ذریعے ہو گا جو مدعوئین کو جاری کئے جائیں گے۔ محروم رہنے والے گیٹ کے باہر پرانے دور جیسے حالات پیدا کریںگے اور پھر خبر بھی بنے گی۔ اس صورت حال میں صرف یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ایسے محدود کنونشن سے پارٹی کے احیاءکا مسئلہ حل ہو سکے گا؟ تو جواب نفی میں ہے۔جماعت کی واپسی اور بحالی اس انتظام کے تحت ممکن ہے؟ یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہو گا۔ بہرحال بات زیادہ دور کی نہیں ایک دن باقی رہ گیا۔

بلاول بھٹو زرداری کے علاوہ خود آصف علی زرداری بھی موجود ہوں گے، پارٹی کی موجودہ میڈیا مینجمنٹ نے (جو یقینا پی پی کے پروگرام کے مخالف لوگوں پر مشتمل ہے) میڈیا کے لئے کیا انتظامات کئے یہ بھی تاحال کسی کے علم میں نہیں کہ یہ میڈیا منیجر ماضی میں پارٹی کے مخالف تھے اور آج بھی ان کی فکر و نظر پارٹی مخالف ہے، اِسی لئے تو بی بی کا زمانہ یاد آ رہا ہے۔

مزید :

کالم -