امریکی وزیر دفاع کا اچانک استعفیٰ!

امریکی وزیر دفاع کا اچانک استعفیٰ!
امریکی وزیر دفاع کا اچانک استعفیٰ!

  

ویسے تو کہا جا سکتا ہے کہ امریکی وزیر دفاع اگر از خود استعفیٰ دے دے یا صدرِ امریکہ اس سے جبراً استعفیٰ طلب کر لے تو اس سے پاکستان کو کیا فرق پڑتا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ امریکہ کا اندرونی معاملہ ہے۔ ہمیں اس پر کوئی کالم لکھنے یا پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔ لیکن میرے پاس اس موضوع پر قلم اٹھانے کی دو وجوہات ہیں۔ ایک عمومی اور دوسری خصوصی!

عمومی وجہ یہ ہے کہ امریکہ دنیا کی سب سے طاقتور جمہوریت ہے، چونکہ پاکستان بھی ایک جمہوری ملک ہے اس لئے ہمیں اس جدید ترین، طاقتور ترین اور خوشحال ترین جموری معاشرے کے آداب و رسوم کو بغور دیکھنا چاہئے تاکہ اس میں اپنے لئے اسباق اخذ کر سکیں۔ امریکہ میں اگرچہ صدارتی نظامِ حکومت رائج ہے اور پاکستان میں پارلیمانی، لیکن دونوں نظاموں میں جمہوری اقدار کی پاسبانی و پاسداری اور ان کی غرض و غائت ایک ہی ہے۔امریکہ میں جو اختیارات صدر کو حاصل ہیں پاکستان میں تقریباً وہی اور ویسے ہی اختیارات وزیراعظم کو حاصل ہیں۔ اگر وزیراعظم پاکستان، اپنے کسی وزیر سے ناخوش ہو یا اس کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہو تو اس سے استعفیٰ طلب کر سکتا ہے۔ جبری استعفے اور رضا کارانہ استعفے میں جو فرق ہے وہ تو ہر قاری کو معلوم ہے، لیکن جبری استعفے کو رضاکارانہ استعفیٰ بنا کر دنیا کو دکھانا، جمہوری قدروں کی وہ کرپشن ہے جسے نرم ترین الفاظ میں منافقت کہا جا سکتا ہے۔ ایک طرف امریکی وزیر دفاع چک ہیگل (Chuck Hagel) کا اچانک اور رضا کارانہ مستعفی ہو جانا اور دوسری طرف میڈیا پر اوباما اور چک ہیگل کے معانقے، امریکی جمہوری اقدار کی وہی منافقت ہے جس پر وہ صدیوں سے عمل پیرا ہے....اور اس موضوع پر کالم لکھنے کی خصوصی وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق براہ راست پاکستان کے دفاعی موضوع سے ہے۔ ہیگل کا یہ استعفیٰ اس لئے طلب کیا گیا کہ صدر اوباما اور ہیگل کے درمیان افغانستان اور عراق کی پالیسیوں پر اختلاف پیدا ہو گیا تھا۔ مَیں اسی اختلاف کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔ اس سے قارئین کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ اس کا براہ راست تعلق پاکستان سے کیا ہے۔

چیک ہیگل کو وزارت دفاع کا قلم دان سنبھالے تقریباً دو سال کا عرصہ گزرا ہے۔ وہ صدرِ امریکہ کی کابینہ میں واحد ری پبلکن ہیں۔ جبکہ باقی سارے ڈیمو کریٹ ہیں کیونکہ اوباما کی حکومت ہی ڈیمو کریٹک پارٹی کی ہے۔ صدارتی نظام ان معنوں میں پارلیمانی نظام سے مختلف ہے کہ صدر، مخالف پارٹی کے جس رکن کو چاہے کسی بھی وزارت کا عہدہ سونپ سکتا ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ عہدیدار کسی سیاسی پارٹی کا رکن ہو، یعنی جب امریکی عوام اپنا صدر چُن لیتے ہیں تو اس کو کامل اختیار دے دیتے ہیں کہ وہ حکومت کا کاروبار چلانے کے لئے جس شخصیت کو مناسب اور موزوں سمجھے، کابینہ کا رکن بنا لے۔وزارت خارجہ اور وزارت دفاع دو ایسی وزارتیں ہیں جن کا باہم تعلق الم نشرح ہے اور یہ دونوں وزارتیں کسی بھی نظامِ حکومت میں وزارتِ خزانہ کے بعد اہم ترین وزارتیں شمار ہوتی ہیں۔

کچھ عرصے سے چک ہیگل، اپنے صدر کی افغانستان اور عراق پالیسیوں کا نقاد تھا۔ اس کا موقف تھا کہ ان دونوں ممالک میں امریکہ نے جن مقاصد کے حصول کے لئے فوجیں اتاری تھیں، وہ حاصل نہیں ہو سکے، بلکہ الٹا امریکہ کا جانی اور مالی نقصان زیادہ ہوا ہے اور عالمی برادری میں امریکی امیج کو بھی سخت نقصان پہنچا ہے اس لئے ان دونوں مسلم ممالک سے امریکہ کو نکل جانا چاہئے۔ لیکن امریکہ جس تیزی سے کسی ملک میں آتا ہے،اتنی تیزی سے جاتا نہیں۔ یہ تجربہ اس نے افغان جہادِ کے آٹھ سالہ دور میں کر کے دیکھ لیا تھا اور ناکام رہا تھا، اس لئے امریکہ اب نہیںچاہتا تھا کہ عراق و افغانستان سے اچانک نکل جائے۔ وہ آہستہ آہستہ نکلنا چاہتا تھا اور نکلتے ہوئے ایسے انتظامات کرنا چاہتا تھا جو اس کے مقاصد کے حصول کی پیروی کرتے رہیں۔

عراق سے امریکہ کو جب جانا پڑا تو اپنے بعد نوری المالکی کی ایسی حکومت قائم کی جو امریکی سٹرٹیجک مفادات کی نگہبانی کرے۔امریکی افواج کی عراق سے واپسی میں ہیگل کی رائے بھی شامل تھی۔نہ صرف ہیگل بلکہ بہت سے دوسرے امریکی تھنک ٹینک بھی اسی حق میں تھے کہ عراق سے امریکی افواج کو نکل جانا چاہئے۔لیکن حال ہی میں ”داعش“ نے اچانک نمودار ہو کر عراق اور شام کا سارا منظر تبدیل کر دیا۔ ایک طرف عراقی افواج میں ”داعش“ فورسز سے مقابلہ کرنے کا دم خم نہیں اور دوسری طرف شام میں بشار الاسد کی وفادار فوج، باغیوں کے تابڑ توڑ حملوں سے کمزور ہو چکی ہے۔ شام کے باغی جنوبی شام میں مورچہ زن ہیں اور داعش (ISIS) نے شمالی شام میں آ کر شامی اقتدار کو سینڈوچ کرنے کی کوشش شروع کر رکھی ہے۔ یہ تو جب داعش کی فورسز عراق میں موصل پر قبضے کے بعد بغداد کی طرف بڑھنے لگیں اور بغداد کو سنبھالنا عراقی حکومت کے بس میں نہ رہا تو امریکی صدر اور ان کی ٹیم کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا پڑی۔ یعنی مزید فضائی حملے اور مزید زمینی دستے داعش کے خلاف عراق میں بھیجنے پڑے۔ ہیگل اس نئی پالیسی کے خلاف تھا۔

یہی کچھ افغانستان میں ہوا۔.... یہاں امریکہ کو (بمعہ ناٹو) زیادہ مار پڑی۔ اور مزید مار پڑنے کا خطرہ بھی تھا اس لئے اس نے بھارت سے ساز باز کر کے افغانستان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس کے نام سے دو سیکیورٹی فورسز قائم کر کے انہیں اپنے پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے علاوہ تقریباً10,000یا اس سے کم و بیش امریکی ٹروپس بھی کابل اور قندھار وغیرہ کے آس پاس رکھنے کا اہتمام کیا.... ہیگل اس سے بھی متفق تھا۔ .... لیکن جب داعش نے افغان طالبان کے ساتھ اپنے گٹھ جوڑ کی ”نوید“ سنائی تو امریکہ کو یہاں بھی اپنا فیصلہ بدلنا پڑا۔ اب اس نے تازہ فیصلہ یہ کیا ہے کہ بجائے دسمبر 2014ءکے دسمبر2015ءتک امریکی فوج کی ایک معتدبہ نفری افغانستان میں سٹیشن رکھی جائے جس کو امریکی فضائیہ کی بھرپور امداد حاصل ہو.... ہیگل کو اس پالیسی سے بھی اختلاف تھا۔

ان اختلافات کی وجہ چک ہیگل کا ماضی تھا!....وہ ویت نام کی جنگ میں ایک سارجنٹ (سینئر حوالدار) تھا۔ جس انفنٹری بٹالین میں وہ ویت نام میں بھیجا گیا، اس میں اس کا ایک سگا بھائی بھی تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو مختلف اوقات میں جان کی بازی لگا کر بچایا اور بہادری کے پانچ تمغے حاصل کئے۔ اس کے علاوہ سارجنٹ چک ہیگل اپنی پلٹن میں بے حد مقبول تھا اور ایک دلیر اور نڈر سپاہی کے طور پر اس کی بڑی شہرت تھی۔ بعد میں وہ ایک سارجنٹ سے امریکہ کا وزیر دفاع کیسے بنا، یہ ایک مختلف داستان ہے جس کو یہاں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ قارئین کو یہ بتایا جائے کہ چک ہیگل عراق اور افغانستان میں جب بھی جاتا، اپنے ٹروپس کے ساتھ اظہارِ یک جانی و یک قلبی کرنے میں بخل سے کام نہ لیتا۔ اس نے ویت نام میں جنگلوں، دلدلوں اور آگ کے طوفانوں میں جو دن گزارے تھے وہ کہانیاں اسے یاد تھیں اور ان امریکی ٹروپس سے بھی وہ یہی کہانیاں شیئر کیا کرتا تھا۔ دنیا بھر کے سپاہیوں میں یہ مشترک پیشہ ورانہ بندھن (Bond) ایک ایسی سریش ہے جو اردگرد کے سپاہیانہ ماحول کو اپنے ساتھ چپکا کے رکھتی ہے۔ یہی سبب تھا کہ ہیگل افغانستان میں بے وجہ اپنے ہم پیشہ نوجوانوں کو مزید مروانا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن واشنگٹن میں وائٹ ہاﺅس میں بیٹھے ”چند لوگوں“ کو یہ منظور نہ تھا۔ یہ چند لوگ صدر اوباما کے نیشنل سیکیورٹی کے مشیر تھے!

امریکہ کی افغانستان میں دوبارہ واپسی کی ایک اور وجہ یہ بھی ہوئی کہ افغانستان کے سابق صدر نے کابل اور قندھار کے فوجی زونوں(Zones) میں شبانہ امریکی حملوں پر پابندی لگا دی تھی۔ ان حملوں میں افغان عورتوں اور بچوں کو بڑی تعداد میں قتل کئے جانے کے بعد یہ پابندی لگائی گئی تھی۔

طالبان کو اس پابندی کا فائدہ یہ ہوا کہ وہ رات کو بلاروک ٹوک نقل و حرکت کرنے لگے اور اپنی پوزیشنوں کو مضبوط و مستحکم بنانے لگے۔ یہ صورت حال دیکھ کر موجودہ صدر جناب اشرف غنی کے فوجی کمانڈر بلبلا اٹھے۔ قندھار میں افغان نیشنل آرمی کی 205 کور (Corps) مقیم ہے جس کے کور کمانڈر، میجر جنرل عبدالحمید ہیں۔ پچھلے دنوں ان کا یہ بیان میڈیا پر آیا:”ہمیں شبانہ چھاپہ مار کارروائیوں میں غیر ملکی (ناٹو) فورسز کی امداد کی شدید ضرورت ہے۔ ہیلی کاپٹر، رات کو دیکھنے والی عینکیں، گلوبل پوزیشنگ سسٹم (GPS) کا سازو سامان اور بہتر کمانڈ مشاورت کی بھی ضرورت ہے۔ طالبان کو اب فری ہینڈ ملا ہوا ہے۔ وہ بلا روک ٹوک رات رات بھر دندناتے پھرتے ہیں، نئے رنگروٹ بھرتی کرتے ہیں، ہماری سیکیورٹی فورسز سے افسروں اور جوانوں کو توڑ لیتے ہیں اور اس طرح سخت نقصان پہنچاتے ہیں۔“

چنانچہ موجودہ صدر نے اپنے کور کمانڈر کی اس رپورٹ کے بعد شبانہ چھاپہ مار کارروائیوں پر پابندیاں ختم کر دیں۔

ہم ہر روز سنتے ہیں کہ شمالی وزیرستان میں پاکستان آرمی کے لئے وہاں کے10فیصد علاقے کو کلیئر کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ہمارےIDPs بھی چھ ماہ سے اپنے گھروں سے باہر مشکلات میں رہ رہے ہیں۔ بعض مبصر یہ کہتے ہیں کہ جب تک امریکی، افغانستان میں ہیں، افغان طالبان، شمالی وزیرستان میں اُن10فیصد علاقوں سے نہیں جائیں گے،جن تک پہنچنا پاک فوج کے لئے نہایت دشوار ہے۔ ان علاقوں کی ٹیرین ایسی ہے کہ دفاع کندہ کی مدد گار ہے۔ مزید یہ کہ ان علاقوں پر موثر ہوائی حملے بھی نہیں کئے جا سکتے۔

چیک ہیگل کو اس طرح اچانک نکال دینے کا مطلب یہ ہے کہ افغانستان میں امریکی فورسز 2015ءتک مقیم رہیں گی اور کون جانے اس کے بعد بھی ایسا ہی ہو۔ سادہ الفاظ میںکہنا چاہئے کہ آپریشن ضرب ِ عضب کی 100فیصد کامیابی کا تعلق افغانستان سے 100فیصد امریکی ٹروپس کے انخلا کے ساتھ وابستہ ہے۔....چیک ہیگل اس انخلا کے حق میں تھا لیکن صدر اوباما کے وہ مشیر جن کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ کے تیل کے ذخائر کی بے روک ٹوک یورپ اور امریکہ کو منتقلی ہے، وہ اس100 فیصد انخلا کے حق میں نہیں تھے۔ چنانچہ انہوں نے یہی بہتر سمجھا کہ ”صرف“ چک ہیگل کا ”انخلا“ کر کے اس مخمصے سے جان چھڑا لی جائے!

....................

اعتذار

کل( 27نومبر2014ئ) میرا جو کالم بعنوان ”سارک سُمٹ2014ئ“ اسی صفحے پر شائع ہوا اس میں سارک ممالک کی تعداد غلطی سے8کی بجائے 7 لکھی گئی۔ آٹھواں ملک (سری لنکا) ہے۔ قارئین کرام سے اس فروگزاشت کی معذرت!

مزید :

کالم -