عمران خان:گنگا گئے تو گنگا رام....!

عمران خان:گنگا گئے تو گنگا رام....!
عمران خان:گنگا گئے تو گنگا رام....!

  

عمران خان کا لاڑکانہ کا جلسہ کئی لحاظ سے بے حد اہم تھا اور اب تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق جلسہ اگرچہ پنجاب کے جلسوںکا ہم پلہ تو نہیں تھا تاہم اچھا خاصا تھا۔عمران خان نے اس جلسے میں جو بات سب سے نمایاں طور پر کہی اور جسے اخبارات نے شہ سرخی بنایا وہ یہ تھی کہ سندھیوں کی مرضی کے بغیر کالا باغ ڈیم بنے گا نہ سندھ تقسیم ہو گا۔باقی سب باتیںوہی ہوائی باتیں ہیں جن میں یہ کروں گا وہ کروں گا کے سوا کچھ نہیں۔ انہی دو باتوں کو یوںبھی اہمیت حاصل ہے کہ یہ دونوں چیزیں تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہیں۔

عمران خان نے اپنے منشور میں وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ کالا باغ ڈیم بنائیں گے اور پاکستان کو مزید انتظامی یونٹوں میں تقسیم کریں گے۔اسی بنا پر وہ جنوبی پنجاب کے صوبے اور ہزارہ صوبے کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ سندھیوں کو غلام کہنے اور انہیں غلامی سے نجات دلانے کا عزم کرنے، سندھ کو فتح کرنے اور صحافیوں پر نواز شریف سے پیسے لینے کے الزامات اُن کے گلے پڑ چکے تھے۔ صحافیوں نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا، تود وسری طرف سندھ حکومت نے غلامی کے طعنے پر عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اس جلسے سے ایک دو روز پہلے ہی سندھ سے یہ بھی اطلاع مل گئی کہ اگر وہ کالا باغ ڈیم کی حمایت کریںگے اور سندھ کی تقسیم کو تسلیم کریں گے تو انہیں لاڑکانہ میں مشکل پیش آئے گی۔ اہل سندھ انہیں قبول نہیں کریں گے، لہٰذا ایک روز قبل ہی عمران خان نے اپنا موقف تبدیل کر لیا تھا، وہ کالا باغ ڈیم بنانے سے بھی دستبردار ہو گئے اور سندھ کی تقسیم سے بھی رجوع کر لیا۔ اگر کالا باغ ڈیم پاکستان کے مفاد میں ہے تو کچھ لوگوں کی وجہ سے اس مطالبے سے ہٹنا تعجب خیز ہے۔

بات یہ بھی ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم کو عمران خان ایک نعرے کے طور پر استعمال نہیں کرتے اور یہ اُن معاملات میں نہیں، جن میں دودھ اور شہد کی نہریں بنانے کے اُن کے وعدے شامل ہیں تو پھر انہیں چاہئے کہ سب سے پہلے خیبرپختونخوا اسمبلی سے کالا باغ ڈیم کے حق میں قرارداد منظور کرائیں اور نہیں تو پھر صرف اہل سندھ یا لاڑکانہ کے جلسے کی خاطر اگر اس مطالبے سے دست برداری اختیار کر ہی لی ہے تو پھر اب اسے اپنے منشور سے بھی نکال دیں۔اِسی طرح پاکستان کی مزید تقسیم کو اگر وہ انتظامی حوالے سے ضروری اور عوام کے لئے سود مند سمجھتے ہیں تو پھر سندھ تقسیم نہیں ہو گا، کا کیا مطلب؟ اُن کا یہ رویہ تو اس بہادر پہلوان کا سا ہے جس نے اپنی پشت پر شیر کی تصویر گُدوانا (ٹیٹو بنانا) چاہی، تکلیف ہوئی تو گودنے والے سے پوچھا کیا بنا رہے ہو، اُس نے بتایا شیر کی دُم بنا رہا ہوں۔ پہلوان نے کہا بہت درد ہو رہا ہے، دُم کو چھوڑو شیر کا کوئی اور حصہ بناﺅ۔گودنے والا پھر مصروف ہو گیا۔ پہلوان کے آنسو نکل آئے، دریافت کیا، کیا بنا رہے ہو؟ گودنے والے نے کہا شیر کے کان بنا رہا ہوں۔

 پہلوان نے آنسو ضبط کرتے ہوئے کہا کانوں کی کیا ضرورت ہے شیر کا کوئی اور حصہ بناﺅ۔ گودنے والے نے پھر اپنا کام شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر میں پہلوان کی چیخیں نکل گئیں اور چیختے ہوئے پوچھا: کیا بنا رہے ہو؟ گودنے والے نے کہا، شیر کا سر بنا رہا ہوں۔ پہلوان نے لجاجت سے کہا، سر بنانا چھوڑو کچھ اور بناﺅ۔ گودنے والے نے اپنی سُوئی ایک طرف رکھ دی اور کہا جناب مجھ سے یہ کام نہیں ہو گا۔ عمران خان بھی پہلوان نہ سہی کپتان تو ہیں۔ اس سے پہلے وہ کراچی میں جلسہ کرنے کے لئے ایم کیو ایم سے ”مک مکا“ کر چکے ہیں اس جلسے میں انہوں نے طاہرہ آپا کے قتل کا ذکر تک نہیںکیا۔ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کو بھی نظر انداز کر دیا۔گویا عمران رفتہ رفتہ اپنی مصلحتوں پر اپنا منشور قربان کرتے چلے جائیں گے یا پھر یوںسمجھ لیں کہ جہاںجائیںگے اُسی انداز میں ڈھل جائیں گے۔ گنگا گئے تو گنگارام جمنا گئے تو جمنا داس۔

خیال یہ بھی تھا کہ ان کا جلسہ عین پیپلزپارٹی کے قلب میں ہو گا، لیکن انہوں نے لاڑکانہ سے15کلو میٹر دور علی آباد میں یہ جلسہ کیا اِسی لئے پیپلزپارٹی نے اسے ”کارنر میٹنگ“ قرار دیا۔خیال یہ بھی تھا کہ سندھ کی کچھ موثر شخصیات اس موقع پر عمران خان کا ساتھ دیں گی اور یوں عمران خان سندھ کا فاتح قرار پائے گا، لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ سندھ کی کوئی قابل ذکر شخصیت عمران خان کی پذیرائی کے لئے موجود نہیں تھی۔ ان کا جلسہ شفقت انہڑ کی اراضی پر ہوا۔اس84ایکڑ اراضی کے مالک شفقت اُنہڑ کون ہیں یہ بھی سُن لیجئے تاکہ قارئین کو ”سٹیٹس کو“ کی تبدیلی میں کوئی شک و شبہ ہے تو دور ہو جائے۔ شفقت اُنہڑ حاجی غلام حسین اُنہڑ مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔ حاجی غلام حسین اُنہڑ کو ایک زمانے میں بے حد شہرت ملی تھی۔ انہوں نے دیار غیر سے آنے والے ایک پاکستانی کی ہسپتال بنانے کی خواہش پوری کرنے کے لئے اُس پاکستانی کو آصف علی زرداری سے ملوایا تھا، پھر اُس بے چارے کی ٹانگ کے ساتھ بم باندھ کر اسے بینک بھیجا گیا اور اسے بم سے اڑا دینے کی دھمکی دے کر اس کے اکاﺅنٹ سے رقم نکلوا لی گئی۔جب یہ مقدمہ سامنے آیا تو غلام حسین اُنہڑ نے جام صادق کی پناہ لے لی اور وعدہ معاف گواہ بن گئے۔ پھر ساری عمر عزیز دل کے عارضے کے بہانے ہسپتال میںگزار دی اور ہسپتال میں ہی دل کا ایک دورہ انہیں قید حیات سے نجات دلانے کا باعث بن گیا۔کون جانے شفقت اُنہڑ کی دولت میںاس پردیسی کے بینک سے لوٹی گئی رقم کتنی پھلی پھولی اور اس دولت میں اس لوٹی ہوئی دولت کی پنیری کا کتنا حصہ ہے؟

عارف علوی صاحب کو عمران خان کی ٹانگیں چیک کرا لینا چاہئیں اُن کے ساتھ کوئی بم تو بندھا ہوا نہیں ہے؟ اُن کے اور ان کے ہسپتال کے اکاﺅنٹس کے حساب کتاب کے بارے میں طرح طرح کی باتیں سننے میں آ رہی ہیں۔ عارف علوی صاحب یہ بھی چیک کر لیں عمران خان یا شوکت خانم ہسپتال کے اکاﺅنٹس سے لاڑکانہ جلسہ کے آگے پیچھے کوئی بھاری رقوم تو نہیں نکالی گئیں، کیونکہ چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں جاتا۔البتہ عمران خان کو اب ایک نیا منشور بنا لینا چاہئے جس میں واضح طور پر پہلے اصول کے طور پر درج ہو کہ ہمارا اولین اصول یہی ہے اور یہی رہے گا کہ گنگا گئے تو گنگارام جمنا گئے تو جمنا داس، اِسی اصول کے ماتحت منشور میںردوبدل ہوتا رہے گا اور نواز شریف نے سندھ میں جو سرکاری زمینیں ہاریوں میں تقسیم کی تھیں اگر اُن میں سے کچھ بچے تو اب ہم انہیں ضرور تقسیم کر دیںگے، کیونکہ اس پر اہل لاڑکانہ یا اہل سندھ حتیٰ کہ ایم کیو ایم کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔

مزید :

کالم -