عوام کے مسائل حل کرنے کی ضرورت

عوام کے مسائل حل کرنے کی ضرورت
عوام کے مسائل حل کرنے کی ضرورت

  

پاکستان بناتے وقت ہمارے اسلاف نے جس طرح کی مشکلات اور مصائب کا سامنا کیا وہ شایدقابل بیان بھی نہیں لوگوں نے اس سائبان کی امید میں 1947میں انڈیا پاکستان بارڈر رضا کارانہ طور پر عبور کیا کہ وہاں مذہبی جنونیت کی بجائے آزادی ہو گی فکری انقلاب نے ایک ایسے پاکستان کا راہ دکھایا تھا جو دو قومی نظریے کی معراج تھا جہاں برابری کا سلوک ‘ مساوات ‘ اور امن ‘ اخوت ‘ اور بھائی چارے کی فضا انکی منتظر ہوتی ‘ رشوت ‘ چور بازاری ‘ جھوٹ ‘ بے ایمانی ‘ اقربا پروری ‘ سفارش ‘ اور دوہرا تعلیمی نظام نہ ہوتا بلکہ علامہ اقبال کے امہ کے فلسفے سے مزین ایک ایسا ملک جو عالم اسلام کی راہنمائی کرتا اور صیحح معنوں میں قائد اعظمؒ کے افکار اور اقبالؒ کے اشعار کا عملی نمونہ ہوتا ‘ علامہ اقبالؒ کے اس شعر کو ہم عملی صورت میں دیکھتے :

مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے

 خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

سیاست کی طرف دیکھیں تو بیرسٹر اعتزاز احسن ‘ یوسف رضا گیلانی ‘ رضا ربانی ‘ فاروق نائیک ‘ اور قمرزماں کائرہ کے ہوتے ایک نوجوان بلاول زرداری کے ذمے ملک کی سب سے بڑی پارٹی کی قیادت لگا دی گئی ہے اگر بھٹو ہی درکار تھا تو صنم بھٹو ‘ فاطمہ بھٹو‘ اور ذو الفقار جونیئر بھی تو میدان میں موجود تھے جمہوریت کے نام لیوا ہی جمہوریت سے خائف ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا ‘ کیمرج اور آکسفورڈ کی تعلیم بھی اگر جاگیردارانہ زہنیت میں تبدیلی نہ لا سکے تو قصور وار عام لوگوں کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا ‘ متحدہ قومی موومنٹ نے متوسط طبقوں کی نمائندگی کی آواز اٹھائی لیکن 12مئی 2007سے جاری اندرونی چپقلش سے فرار حاصل نہ کر سکی اب وہ تو بندوق چھوڑتے ہیں بندوق ہی انکو نہیں چھوڑتی ابھی تحریک انصاف نے کراچی کے انتخابات کا رخ نہیں کیا جہاں پارٹی کے خلاف ووٹ ڈالنا جرم نہیں گناہ تصور کیا جاتا ہے اور تو اور افغانستان کے بارڈر سے ملحقہ کچھ علاقوں میں تو جرگوں کے ذریعے عورتوں کو اس قابل بھی نہیں سمجھا گیا کہ ووٹ ڈالنے کا حق استعمال کر سکیں۔

 قائد اعظمؒ نے اپنی محترم بہن فاطمہ جناح جنہیں مادر ملت کا خطاب ملا کو ہر وقت جدوجہد پاکستان میں ساتھ ساتھ رکھا لیکن کیا ہوا کہ تعمیر پاکستان میں عورتوں کی نمائندگی پارلیمان میں چند مخصوص نشستوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ‘ شہلا رضا ‘ شازیہ خٹک ‘ شرمیلا فاروقی ‘ ماروی میمن ‘ اور تہمینہ جی پارلیمان کے ایوانوں میں نہ ہوں تو یہ مردوں کی پارلیمان کا حقیقی رخ پیش کرے جہاں 50فیصد سے زائد آبادی غیر حاضر ہوعمران خان کی تحریک انصاف کی تو بات کرنا ہی فضول ہے جو انقلاب ‘ تبدیلی اور انصاف کا نعرہ تو لگاتے ہیں لیکن انکا کنٹینر لوٹوں کا مینا بازار ہے جن کے پاس نہ پارٹی ہے نہ پالیسی ‘ اور نہ ہی مناسب ٹیم ‘ الزامات کے بے دریغ استعمال نے انکی خواہش کہ وہ وزیر اعظم بنیں نے انہیں مالیخولیا میں مبتلا کر دیا ہے اور اگر وہ اس مقام پر پہنچ بھی گئے تو وہ سب سے مل کر چلنے سے قاصر رہیں گے ۔مسلم لیگ(ق)کے پاس کچھ ایسے دماغ اور لوگ ضرور موجود تھے جو ملک کے کام آ سکتے تھے لیکن بہرحال مصلحت اور دھڑا بازی کی بھی کوئی قیمت ہوتی ہے وسیم سجاد‘مشاہد حسین سید ‘ اور سینیٹر ایس ایم ظفر کے ان ایام میں ملک کی خدمت نہ کر سکنے کا مجھے دلی دکھ ہے۔

 اب آتے ہیں حکمران جماعت کی طرف ‘ پاکستان بنانے والی جماعت مسلم لیگ ن ایک کاروبار ی سلطنت کا سا تاثر دے رہی ہے میری دلی وابستگی ہونے کے ناطے یہ تحریر میرے اور لیڈر شپ دونوں کے لئے یکساں تکلیف دہ ہو گی جس کے لیے ایڈوانس معذرت کہ دل آزاری ہو گی مگر کیا کیا جائے ضمیر اور دل سچ کہنے کی پاداش میں پابند سلاسل تو ہو گا نہ کہنے سے مر جائے گا ‘ پارٹی کے لیڈر کو سونیا گاندھی جیسا عہدہ لیکر ملکی باگ ڈور اچھے ٹیکنوکریٹ کو عارضی طور پر دے کر اچھے نتائج حاصل کیے جا سکتے تھے چاہے وہ انکا بھائی یا سمدھی ہی کیوں نہ ہوتے لیکن دونوں بھائیوں نے دونوں عوامی عہدے اور پارٹی عہدے اپنے پاس رکھ کر اپنے آ پ کو پروٹوکول میں کہیں گم سا کر لیا ہے جس کے بعد عوام ‘ ان کے پارٹی عہدیداران اور سیاسی ساتھی انکی راہ تک رہے ہیں مسلم لیگ ہاﺅس ویران پڑے ہیں پارٹی عہدوں کا حال یہ ہے کہ ایک ایک شخص تین تین عہدوں پر براجمان ہے انکا سمدھی سینیٹر بھی ہے اور پارٹی میں اوورسیز کا انچارج بھی اور وزیر خزانہ بھی ‘ داماد قومی اسمبلی کا ممبر بھی ہے اور پارٹی کی نوجوان نسل کے ونگ کا صدر بھی ،بھائی وزیر اعلیٰ بھی ہیں اور پنجاب میں پارٹی کے صدر بھی ‘ انکا بیٹا حمزہ شہباز شریف بلا شرکت غیرے تخت پنجاب کا شہزادہ ہے جو پنجاب کے سیاہ اور سفید کا مالک اور ہیلی کاپٹر میں سفر کرنے کا حقدار ٹھہرا ہے کئی بھتیجے ‘ بھانجے بھی اس طرح ایک ٹکٹ میں دو مزے لے رہے ہیں اور تو اور انکی خواجہ برادری بھی بالواسطہ نہیں تو بلا واسطہ ان کرامات سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔

 جس طرح پرویز الٰہی کے دور میں جاٹ برادری یا ضیا الحق کے دور میں آرائیں برادری چاہتے نہ چاہتے فائدہ اٹھاتی رہی ہے اب ایسی چیزوں کا نقصان کیا ہوتا ہے یہ بھی کوئی بتلانے کی ضرورت ہے پارٹی جب ایک بزنس یا کاروبار کا سا تاثر دینے لگے تو کارپوریٹ منیجر ہر چیز کو پیسے میں تولنا شروع کر دیتے ہیں اقدار‘ اخلاقیات ‘ اور ادب لحاظ قصہ پارینہ بن جاتا ہے اور وہ لوگ جن کی ضرورت نہیں رہتی انکی عزت نفس بھی مشترکہ نہیں رہتی اقبال ظفر جھگڑا ‘ غوث علی شاہ اور ذو الفقار علی کھوسہ صرف کچھ مثالیں ہیں جن کی افادیت اب شاید اتنی نہ ہو جتنی پہلے تھی یا انہوں نے الیکشن کے دوران وہ نتائج نہ دیے ہیں لیکن ان کی مسلم لیگ کے ساتھ وابستگی اور جدوجہد سے انکار نہیں کیا جا سکتا انہیں عہدوں سے علیحدہ کیا جا سکتا ہے ریٹائرکیا جا سکتا ہے لیکن غیر موثر اور فالتو قرار نہیں دیا جا سکتا انکی صلاحیتوں سے بھر پور فائدہ اٹھانا قدرے ممکن ہے اگر پارٹی میں پروموشن اور آگے جانے کا رواج ڈالا جائے اگر انتظامیہ پارٹی اور سنٹرل ورکنگ کمیٹی یا کسی تھنک ٹینک کے سامنے جواب دہ ہو تو ایسے افراد کی ماہانہ مشاہرے(تنخواہ) کے ساتھ ایسے فورم میں جگہ بنتی ہے جس طرح کسی بھی فٹ بال کلب میں ان کے پرانے منیجر یا کھلاڑی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور ان کی صلاح سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

 نواز شریف مسلم لیگ ن کے صدر ہونے کے ناطے ان عوامل اور وجوہات کا ضرور جائزہ لیں جن کی وجہ سے جاوید ہاشمی جیسے لوگ اس عمر میں مسلم لیگ کے سحر انگیز نعرے سے بددل ہو گئے اور پارٹی چھوڑ گئے جس پارٹی کے کمانڈر اس کے مستقبل کے لائحہ عمل سلیقے اور اسلوب سے اتفاق نہ کریں اس میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہوتی ہے پارٹی کے صدر اگر خود پارٹی کی مجلس عاملہ کا اجلاس نہیں بلائیں گے اور جنرل سیکرٹری اجلاس کے ایجنڈے کے لیے در بدر مارا مارا پھرے گا تو صوبائی اور ضلعی صدور کس کو خاطر میں لائیں گے اور انکی کیا مجال کہ وہ اپنے قائد کی تقلید نہ کریں جب نرسریاں ہی بچے دینا چھوڑ دیں گی تو جوان خون خاک پارٹیوں کے مستقبل کو تابناک کرنے کے لیے شامل ہو گا پھر ان کو بوڑھے لوگو ں سے کام چلانا پڑے گا جنکی مناسب ریٹائرمنٹ کا انتظام نہیں جو اگلی نسل کو اپنی انگلی ‘ پکڑانے کے لیے صحیح معنوں میں ٹرین ہی نہیں کیے گئے 10سال سے زائد اپنے پارٹی عہدوں پر اٹکے رہنے سے جمود پورے تالاب کو گندہ کر دیتا ہے اور اسکی دیواروں میں کوڑھ پلنا شروع ہو جاتا ہے ابھی بھی وقت ہے کہ پارٹی کے تمام عہدوں سے وزرا اور مشیروں کو فارغ کر کے جواب دہی کے عمل کو تیز تر کیا جائے اور پارٹی مضبوط کی جائے کیونکہ حکومت تو آنے جانے والی چیز ہے ایسا کریں کہ لوگ پارٹی عہدہ لینے پر فخر محسوس کریں۔

 مسلم لیگ کے صدر ایک اور معاملے میں تساہل کا شکار ہیں اقتدار میں آنے کے بعد بھی اگر وہ تمام مسلم لیگیوں کو ایک جھنڈے تلے جمع نہیں کرتے تو یہ انکی بڑائی نہیں کمزوری ہے پاکستان بنانے والی نمائندہ جماعت اگر متحد اور مضبوط ہو گی تو ملک کی بہتر خدمت کر سکے گی پیر پگاڑا ‘ شجاعت حسین ‘ اعجاز الحق ‘ اور جنرل مشرف کی مسلم لیگ تمام ایک چھت تلے جمع کی جا سکتی ہیں اور کی جانی چاہئیں،اگر زرداری کی قیادت میں چوہدری برادران نائب وزیر اعظم بن سکتے ہیں تو پھر کچھ بھی ناممکن نہیں مسلم لیگوں کو اکٹھی کرنا ایک احسن اقدام ہو گا جس سے ملک کا فائدہ ہو گا نقصان نہیں ‘ وزیر اعظم کا کابینہ کی کارکردگی کا جائزہ لینا ایک احسن اقدام ہے اور اس اجلاس میں پارٹی چیئرمین اور جنرل سیکرٹری کو شامل کرنا اور بھی قابل تحسین ہے لیکن یہ دیر آید درست آید کے مترادف وہ کام ہیں جو شروع سے ہی کرنے چاہیے تھے اب بھی اگلے 100دنوں میں انقلابی اقدامات کے ذریعے لوگوں کو یہ احساس دلایا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) ایک حکمران جماعت کے طور پر جمود کا شکار نہیں اور نہ ہی دھرنوں اور مظاہروں کی وجہ سے اپنے اصل مقاصد سے ہٹی ہے توجہ ضرور بٹی ہے خدمت کے اولین مشن سے ہٹی نہیں ہے 100دن میں سو کام نواز شریف کی آنے والے انقلابی تبدیلیوں کا پتہ دے سکتے ہیں ۔

 بلدیاتی انتخابات جمہوریت کی روح ہیں اور نچلی سطح پر اختیار کی منتقلی سے ہی عام لوگوں کو مطمئن کیا جا سکتا ہے کہ ان کے چھوٹے چھوٹے کام انکے ناظمین کے ذریعے ناظم اور یونین کونسل کی سطح پر ہو سکتے ہیں اگر بلدیاتی انتخابات وقت پر ہو جاتے ہیں ‘ اصلاحات کے بعد تو کوئی شک نہیں کہ اگلا الیکشن بھی قابل قبول حد تک منصفانہ ہو سکتا ہے اور اسمبلی کی مدت چار سال کرنا بھی ایک احسن اقدام ہو گا جواب دہی کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر میرے جیسا آدمی بھی پنجاب کے وزیر اعلی کی جواب دہی کرتا تو وہ یہ ضرور پوچھتا کہ 6سالہ جلا وطنی کے بعد آپ چھ سال سے پنجاب کے اقتدار پر براجمان ہیں لیکن ہر بارش کے مہینے میں آپکے کپڑے اور بوٹ بدلے ہیں عام لوگوں کے گھروں کے آگے سے سیلابی پانی میں کمی نہیں ہوئی انکی نالیاں اور سیوریج سسٹم صیحح نہیں ہوا اگر یہ ضروری تھا تو سرمایہ یہاں لگایا جا سکتا تھا اور اگر ضروری نہیں تو اس نوٹنکی کی پھر کیا ضرورت ہے امید ہے اگلی برسات تک پنجاب اور لاہور شہر کی نالیاں سیلاب کا سا سماں نہیں باندھیں گی اور اسکا سہرا بھی وزیر اعلی کے سر ہو گا انکے باقی کام قابل تعریف ہیں اور دوسرے صوبوں کی نسبت انکی کارکردگی بہتر ہے یہ بھی خوش آئند ہے ۔

 یہ بھی مسلمہ ہے کہ یہ انکی تیسری باری ہے ‘ وزیر اعظم سے ملاقاتوں اور ان کے خیالات سننے کے بعد یہی لگتا ہے کہ وہ پاکستان کے لیے درد دل رکھتے ہیں کچھ کرنا چاہتے ہیں کرنے دیا نہیں جا رہا یا نہ کرنے کے لیے ارد گرد پنجاب کی بیوروکریسی نے گھیرا ڈالا ہوا ہے ان کو اس حصار سے باہر نکلنا ہو گا انکی اپنی بیوروکریسی کو نکیل ڈالنا ہو گی اور اپنی پارٹی کی مجلس عاملہ سے ہر سہ ماہی ملاقات کرنا ہو گی وزرا کو پارٹی کی پالیسی اور انتظامیہ اور اپنے ووٹروں و سپورٹروں کے سامنے جواب دہ کرنا ہو گا تب ہی جا کر یہ پارٹی صیحح معنوں میں مسلم لیگ بن سکے گی جو کہ قائد اعظم کی اصل پارٹی ہے ‘ 15ماہ میں بھی روشنی ایک خواب ہے ‘ گیس اور صاف پانی ‘ تعلیم اور روزگار نعروں تک محدود ہے ‘ پیسے کمانے والے تو آئے کمایا وہ جا یہ جا لیکن کم از کم وہ وقت تو پورا کر گئے ہم تو مسلم لیگ ن کی حکومت کو ایسے دیکھ رہے ہیں جس کے آگے اسٹیبلشمنٹ بھی ہاتھ کھڑے کر رہی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے دروازوں کو توڑ کر گھسنے والے مظاہرین کو نہیں روک سکتے۔

 یہ کس طرح کے پاکستان کا تصور بنا رہے ہیں جہاں نظم و نسق ‘ ضبط ‘ برداشت ‘ اور تحمل کی جگہ تنگ ہوتی جا رہی ہے تحمل اور برداشت ہی وہ ذریعہ ہے جس کے ذریعے اپنا نقطہ نظر سمجھایا اور اگلے کا سمجھا جا سکتا ہے اگر ہم نے پاکستان کو اس سائباں کے بنانے میں اپنا حقیقی کردار ادا نہ کیا جس کے لیے 40لاکھ لوگوں نے اپنی جانیں دیں جہاں ان کے خوابوں کی تعبیر پنہاں تھیں اور جہاں ان کے استحصال کا خاتمہ ہونا تھا تو لوگوں کا بپھرا ہوا درد اور بے اعتنائی کسی خونی انقلاب کا راہ ہموار کرے گی ہمیں لوگوں کی صیحح مرادوں اور امیدوں پر پانی نہیں پھیرنا چاہیے میاں نواز شریف اس وقت مملکت پاکستان کے ان چند لیڈران میں سے ایک ہیں جو پاکستان کو اقتصادی اور معاشی طور پر مضبوط جمہوری پاکستان دے سکتے ہیں انکی اس سوچ کو سپورٹ کرنا چاہیے اور میڈیا و ذرائع ابلاغ کو چاہے کہ حزب اختلاف کی جائز تنقید پر معیاری کوریج کی جائے اور حکومت کے تعمیری کاموں پر مثبت شاباش دی جائے فوج کو آزما کر بہت دیکھ لیا آئیے اب خود کو صیحح معنوں میں آزما کر دیکھیں عوام جنہوں نے بھوک ‘ افلاس ‘ کم تعلیم کے باوجود ایک آدمی ایک ووٹ کے ذریعے پاکستان تشکیل کیا آئیے انہیں موقع دیں کہیں دیر نہ ہو جائے۔

مزید :

کالم -