بجلی کے بعد گیس کا بحران، چولہے ٹھنٹدے پڑ گئے

بجلی کے بعد گیس کا بحران، چولہے ٹھنٹدے پڑ گئے

  

لاہور(خبرنگار)سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی گیس کی لوڈ شیڈنگ میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور یہ سلسلہ خطرناک حدوں کو چھونے لگا ہے صنعتوں اور سی این جی اسٹیشنوں کو گیس کی بندش کے باوجود گھریلو صارفین آگ کی لو کو ترسنے لگے ہیں، بجلی کے ستائے ہوئے عوام کو اب گیس کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے جلتی پر تیل کا کام کرنے والی سوئی گیس نے گھریلو صارفین کے چولہے ٹھنڈے کردیئے جس پر گیس کی لوڈ شیڈنگ کے ستائے ہوئے صارفین نے گیس کمپنی کے دفاتر کا گھیراؤ کرنا شروع کردیالاہور میں گزشتہ روز بھی سینکڑوں صارفین گیس کی لوڈ شیڈنگ کی شکایات لے کر گیس کمپنی کے دفاتر میں مارے مارے دھکے کھاتے رہے اور گیس کمپنی کے افسران کو کوستے رہے۔اس میں سوئی گیس کے ریجنل آفس گلبرگ ،ہربنس پورہ سب آفس، ملتان روڈ سب آفس سمیت شمالی لاہور میں واقع گیس کے سب آفس میں سب سے زیادہ صارفین کا رش رہا اور افسران گیس کی لوڈشیڈنگ کی شکایت لے کر آنے والے صارفین کی شکایت کو دور کرنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لیتے رہے،تفصیلات کے مطابق گیس حکا م کی تمام ترکوششوں اوراقدامات کے باوجود گیس کے بحران میں ذرہ بھربھی کمی نہیں آسکی لاہورمیں شمالی لاہورکی درجنوں آبادیایوں سمیت ٹاؤن شپ،گرین ٹاؤن ،سمن آباداورساندہ سمیت گنجان علاقوں میں گیس کا پریشر10سے12گھنٹے ڈاؤن رہا جس پر شہریوں کوکھانے پکانے کے دوران شدید دشواری سے دوچار ہونا پڑا گیس کمپنی کے دفاتر میں شنوائی نہ ہونے پر ’’پاکستان‘‘کے دفترمیں کوٹ خواجہ سعید ،اچھرہ،رسول پارک،سمن آباداورانگوری باغ سکیم سمیت غازی آباد(عثمان نگر)کے مکینوں نے فون کرکے شکایات درج کروائیں۔ جن میں مکینوں کا کہنا تھا کہ گیس کا پریشرصبح 6بجے ڈاؤن ہوجاتاہے اوردوپہرڈیڑھ بجے تک ڈاؤن رہتا ہے اوردوپہرکے اوقات میں تھوڑاساگیس کا پریشربحال ہوتاہے جس سے صرف چائے کا کپ تیار ہو سکتاہے اورشام 4بجے گیس کا پریشرمکمل طورپرڈاؤن ہوجاتاہے اوررات 10بجے تک گیس کا پریشرمکمل طورپرڈاؤن رہتا ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک طرف مہنگائی سے دوچارہیں تودوسری طرف بجلی اورگیس کی بندش سے فیکٹریاں اورکارخانے بند ہوچکے ہیں حکمرانوں نے ووٹ لینے کے بعد بھی کبھی خبرتک نہیں لی جبکہ سردی شروع ہوتے ہی گیس کی لوڈشیڈنگ شروع ہوگئی ہے اوردن بدن گیس کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہورہا ہے۔ گیس کمپنی کے دفاترمیں جائیں تو کئی گھنٹے تک افسرسے ملاقات نہیں ہوتی اوراگرملاقات ہوجائے تو شکایت درج کرلیتے ہیں لیکن کوئی شکایت کودورکرنے نہیں آتا اوراب تو گیس کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے دن بھر گیس کی لوڈ شیڈنگ ہونے کے ساتھ ساتھ اب تو رات تک گیس کا پریشربحال نہیں ہوتا ہے اورجب بچے بھوکے سو جاتے ہیں تو گیس کا پریشربحال ہوتا ہے۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ایک دن سلنڈرمیں گیس ڈلوائیں تو صرف 24سے 48گھنٹے نکالتی ہے اوردوبارہ گیس ڈلوانے جائیں تو ایل پی جی نہیں ملتی حکمرانوں کوچاہیے کہ وہ الیکشن کے دوران کئے گئے وعدے پورے کریں نہ فیکٹری چل رہی ہے نہ روزگار مل رہا ہے ، کم سے کم بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ ہی نہ کریں شہریوں کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے نوٹس نہ لیا تو پھر گیس کمپنی کے دفاتر کا گھیراؤ کریں گے دوسری جانب لاہور سمیت پنجاب بھر میں گیس کی ڈیمانڈ حیرت انگیز حد تک بڑھ گئی ہے جس کے باعث گیس بحران سنگین صورتحال میں تبدیل ہو گیا ہے جس سے لاہور کے بارہ لاکھ سے زائد صارفین شدید دشواری سے دوچار ہونے لگے ہیں۔ ادھر گیس حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی طلب اور رسید میں 1200 ملین کیوبک فٹ کافرق ہے اس میں صارفین گیزر اور گیس ہیٹرز کا بالکل استعمال نہ کریں۔ صارفین کمپریسر کے استعمال کے دوران استعمال کریں تاکہ جن علاقوں میں گیس کا پریشر ڈاؤن ہے وہاں گیس پہنچ سکے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -