اہل سیاست اور اہل صحافت نے مل کر ملکی معشیت کا جھٹکا کیا: مجیب الرحمٰن شامی

اہل سیاست اور اہل صحافت نے مل کر ملکی معشیت کا جھٹکا کیا: مجیب الرحمٰن شامی

  

لاہور(کامرس رپورٹر)سی پی این ای کے صدر ، چیف ایڈیٹر روزنامہ ’’پاکستان‘‘ مجیب الرحمن شامی نے کہا ہے کہ پاکستان میں بینکنگ سیکٹر کی ترقی میں عام آدمی کی فلاح و بہبود ہے اہل سیاست اور اہل صحافت نے مل کر پاکستان کی معیشت کا جھٹکا کیا ہے، معیشت کے بارے میں لکھنے والے صحافی اس کے بنیادی اصولوں سے نا بلد ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز بینکنگ سیکٹر سے متعلقہ انگریزی روزنامہ ’’دی پاک بینکر‘‘ کی چھٹی سالگرہ کے موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں کیا اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر اعجاز اے ممتاز، کمشنر لاہور ڈویژن راشد محمود لنگڑیال، نیشنل بینک کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ ارتضیٰ کاظمی،پنجاب پراونشنل کوآپریٹو بینک کے سینئر نائب صدر اصرار الحق،تجزیہ نگار یاسر پیر زادہ، اخبار کے چیف ایڈیٹر اجمل شاہ دین ، سینئر صحافی رضوان رضی سمیت بینکرز اور سینئر اکنامک جرنلسٹس کی بڑی تعداد موجود تھی مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ پورے ملک کے صرف 14 فیصدکھاتے داروں کی بدولت بینکنگ 12000 ارب روپے کا سیکٹر ہے جو مجموعی ملکی پیداوار(جی ڈی پی ) میں نمایاں حصہ رکھتا ہے اس کی اہمیت اور پاکستان میں رائج قوانین کی روشنی میں ہمیں اس شعبے کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی بجائے اس کی بہتری کیلئے اقدامات کرنا ہونگے انہوں نے کہا کہ مختلف طبقات مخصوص مقاصد کے حصول کیلئے بینکنگ کے شعبے کو سودی نظام کہہ کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرے میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں چند مولوی صاحبان سود سے پاک نظام کا نام لے کر لوگوں کے اربوں روپے لوٹ کر فرار ہو گئے اس لئے ریاست کے رائج قانون پر نکتہ چینی نا مناسب ہے۔انہوں نے کہاکہ70 فیصد ’’ان فارمل اکنامی‘‘ پاکستان کا بڑا مسئلہ ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی ہوتی چلی جاتی ہے لیکن مخصوص کلاس اس سے متاثر نہیں ہوتی اور جو طبقہ متاثر ہوتا ہے اس کی آواز سنی نہیں جاتی لہٰذا پاکستانی معیشت کو فارملائز کرنے کی ضرورت ہے جس کیلئے ٹیکس نیٹ کو وسعت دیتے ہوئے صرف پرانے ٹیکس دہندگان کی بجائے نئے لوگوں سے ٹیکس وصولیاں کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان کا ایک مقصد تھا جس کے شہریوں کیلئے قانون و انصاف کے ساتھ ساتھ ان کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھنا تھا جس کیلئے ضروری ہے بینک 3 یا 5 مرلے کے مکان کیلئے آسان شرائط پر قرضہ دیں، پاکستان میں بینک کام کرینگے معیشت ’’فارملائز ‘‘ ہوگی تو عام آدمی کی فلاح ہوگی۔ سی پی این ای کے صدر نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ 1948 ء کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک مشاعرے کیلئے جمع کی گئی چندے کی رقم میں معمولی اخراجات ہوئے جس کی رسیدیں نہ ہونے پر قائد اعظم برہم ہوئے اور نصیحت کی ہر شہری کو ہر قسم کی خرید و فروخت میں رسید لازمی لینی چاہیے۔مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھا کہ بیشتر سیاستدان اور صحافی معیشت کے اصولوں سے واقف نہیں ، ایک دور میں جب زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافے کیلئے مرکزی بینک مارکیٹ سے ڈالرخرید رہا تھا تب ایک بڑے اخبار نے اداریہ لکھا کہ امریکی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے پاکستان کا سٹیٹ بینک ڈالر خرید رہا ہے ، جو انتہائی مضحکہ خیز بات تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اتنے بڑے سیکٹر کی نمائندگی کیلئے روزنامہ ’’پاک بینکر‘‘ اچھا اضافہ ہے جسے صحافت اور معیشت دونوں کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے ۔لاہورچیمبر کے صدر اعجاز اے ممتاز نے کہا کہ پاکستان میں بینکنگ کا شعبہ تیز رفتار ترقی کی جانب گامزن ہے جو آئے روز دنیا سے بہترین سروسز کے ایوارڈ وصول کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کے فروغ اور کاروبار کی ترقی کیلئے مضبوط بینکاری نظام لازمی ہے۔کمشنر لاہور ڈویژن راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ پاکستانی بینکنگ بہترین ہے تاہم اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے بینکوں کو اپنے صارفین کیلئے قرضوں کا حصول آسان بنانے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔نیشنل بینک کے اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ اور وزیر اعظم یوتھ لون سکیم کے کوآرڈینیٹر ارتضیٰ کاظمی نے کہا کہ پاکستان میں بینک اکاؤنٹ ہولڈر کی تعداد خطے کے باقی ممالک سے بہت کم ہے، پاکستان کی مجموعی آبادی میں بینک کے کھاتے دار صرف 14 فیصد ہیں جبکہ بھارت میں 44 فیصد اور پورے جنوبی ایشیاء میں اوسطاً 41 فیصد تک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بینک اکاؤنٹ ہولڈر ہونا ترقی اور تعلیم کی علامت ہے یہی وجہ ہے کہ سنگا پور میں جہاں شرح خواندگی 100 فیصد ہے وہاں کے 100 فیصد شہری بینک اکاؤنٹ ہولڈر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق 18 کروڑ کی آبادی میں 9کروڑ 10 لاکھ لوگ قومی شناختی کارڈ رکھتے ہیں جو ٹوٹل آبادی کا 48 فیصد ہے جبکہ ٹیلی کام سیکٹر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 13 کروڑ 50 لاکھ موبائل سمیں ہیں تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ بینک اکاؤنٹ ہولڈر مجموعی آبادی کا صرف 14 فیصد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینکنگ سیکٹر کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ سینئر صحافی رضوان رضی نے کہا کہ کمرشل بینک مرکزی بینک کو جرمانہ ادا کردیتے ہیں مگر کھاتے داروں کو زرعی قرضے جاری نہیں کرتے اس سلسلے میں اقدامات کرنا ہونگے۔

اہل سیاست اور اہل صحافت نے مل کر ملکی معشیت کا جھٹکا کیا: مجیب الرحمٰن شامی

لاہور(کامرس رپورٹر)سی پی این ای کے صدر ، چیف ایڈیٹر روزنامہ ’’پاکستان‘‘ مجیب الرحمن شامی نے کہا ہے کہ پاکستان میں بینکنگ سیکٹر کی ترقی میں عام آدمی کی فلاح و بہبود ہے اہل سیاست اور اہل صحافت نے مل کر پاکستان کی معیشت کا جھٹکا کیا ہے، معیشت کے بارے میں لکھنے والے صحافی اس کے بنیادی اصولوں سے نا بلد ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز بینکنگ سیکٹر سے متعلقہ انگریزی روزنامہ ’’دی پاک بینکر‘‘ کی چھٹی سالگرہ کے موقع پر اپنے صدارتی خطاب میں کیا اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر اعجاز اے ممتاز، کمشنر لاہور ڈویژن راشد محمود لنگڑیال، نیشنل بینک کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ ارتضیٰ کاظمی،پنجاب پراونشنل کوآپریٹو بینک کے سینئر نائب صدر اصرار الحق،تجزیہ نگار یاسر پیر زادہ، اخبار کے چیف ایڈیٹر اجمل شاہ دین ، سینئر صحافی رضوان رضی سمیت بینکرز اور سینئر اکنامک جرنلسٹس کی بڑی تعداد موجود تھی مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ پورے ملک کے صرف 14 فیصدکھاتے داروں کی بدولت بینکنگ 12000 ارب روپے کا سیکٹر ہے جو مجموعی ملکی پیداوار(جی ڈی پی ) میں نمایاں حصہ رکھتا ہے اس کی اہمیت اور پاکستان میں رائج قوانین کی روشنی میں ہمیں اس شعبے کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی بجائے اس کی بہتری کیلئے اقدامات کرنا ہونگے انہوں نے کہا کہ مختلف طبقات مخصوص مقاصد کے حصول کیلئے بینکنگ کے شعبے کو سودی نظام کہہ کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرے میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں چند مولوی صاحبان سود سے پاک نظام کا نام لے کر لوگوں کے اربوں روپے لوٹ کر فرار ہو گئے اس لئے ریاست کے رائج قانون پر نکتہ چینی نا مناسب ہے۔انہوں نے کہاکہ70 فیصد ’’ان فارمل اکنامی‘‘ پاکستان کا بڑا مسئلہ ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی ہوتی چلی جاتی ہے لیکن مخصوص کلاس اس سے متاثر نہیں ہوتی اور جو طبقہ متاثر ہوتا ہے اس کی آواز سنی نہیں جاتی لہٰذا پاکستانی معیشت کو فارملائز کرنے کی ضرورت ہے جس کیلئے ٹیکس نیٹ کو وسعت دیتے ہوئے صرف پرانے ٹیکس دہندگان کی بجائے نئے لوگوں سے ٹیکس وصولیاں کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان کا ایک مقصد تھا جس کے شہریوں کیلئے قانون و انصاف کے ساتھ ساتھ ان کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھنا تھا جس کیلئے ضروری ہے بینک 3 یا 5 مرلے کے مکان کیلئے آسان شرائط پر قرضہ دیں، پاکستان میں بینک کام کرینگے معیشت ’’فارملائز ‘‘ ہوگی تو عام آدمی کی فلاح ہوگی۔ سی پی این ای کے صدر نے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ 1948 ء کے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک مشاعرے کیلئے جمع کی گئی چندے کی رقم میں معمولی اخراجات ہوئے جس کی رسیدیں نہ ہونے پر قائد اعظم برہم ہوئے اور نصیحت کی ہر شہری کو ہر قسم کی خرید و فروخت میں رسید لازمی لینی چاہیے۔مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھا کہ بیشتر سیاستدان اور صحافی معیشت کے اصولوں سے واقف نہیں ، ایک دور میں جب زر مبادلہ کے ذخائر میں اضافے کیلئے مرکزی بینک مارکیٹ سے ڈالرخرید رہا تھا تب ایک بڑے اخبار نے اداریہ لکھا کہ امریکی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے پاکستان کا سٹیٹ بینک ڈالر خرید رہا ہے ، جو انتہائی مضحکہ خیز بات تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اتنے بڑے سیکٹر کی نمائندگی کیلئے روزنامہ ’’پاک بینکر‘‘ اچھا اضافہ ہے جسے صحافت اور معیشت دونوں کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے ۔لاہورچیمبر کے صدر اعجاز اے ممتاز نے کہا کہ پاکستان میں بینکنگ کا شعبہ تیز رفتار ترقی کی جانب گامزن ہے جو آئے روز دنیا سے بہترین سروسز کے ایوارڈ وصول کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کے فروغ اور کاروبار کی ترقی کیلئے مضبوط بینکاری نظام لازمی ہے۔کمشنر لاہور ڈویژن راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ پاکستانی بینکنگ بہترین ہے تاہم اس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے بینکوں کو اپنے صارفین کیلئے قرضوں کا حصول آسان بنانے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔نیشنل بینک کے اسسٹنٹ وائس پریذیڈنٹ اور وزیر اعظم یوتھ لون سکیم کے کوآرڈینیٹر ارتضیٰ کاظمی نے کہا کہ پاکستان میں بینک اکاؤنٹ ہولڈر کی تعداد خطے کے باقی ممالک سے بہت کم ہے، پاکستان کی مجموعی آبادی میں بینک کے کھاتے دار صرف 14 فیصد ہیں جبکہ بھارت میں 44 فیصد اور پورے جنوبی ایشیاء میں اوسطاً 41 فیصد تک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بینک اکاؤنٹ ہولڈر ہونا ترقی اور تعلیم کی علامت ہے یہی وجہ ہے کہ سنگا پور میں جہاں شرح خواندگی 100 فیصد ہے وہاں کے 100 فیصد شہری بینک اکاؤنٹ ہولڈر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق 18 کروڑ کی آبادی میں 9کروڑ 10 لاکھ لوگ قومی شناختی کارڈ رکھتے ہیں جو ٹوٹل آبادی کا 48 فیصد ہے جبکہ ٹیلی کام سیکٹر کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 13 کروڑ 50 لاکھ موبائل سمیں ہیں تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ بینک اکاؤنٹ ہولڈر مجموعی آبادی کا صرف 14 فیصد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینکنگ سیکٹر کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ سینئر صحافی رضوان رضی نے کہا کہ کمرشل بینک مرکزی بینک کو جرمانہ ادا کردیتے ہیں مگر کھاتے داروں کو زرعی قرضے جاری نہیں کرتے اس سلسلے میں اقدامات کرنا ہونگے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -