افغانستان میں گیارہ ہزار امریکی فوجی موجود رہیں گے

افغانستان میں گیارہ ہزار امریکی فوجی موجود رہیں گے

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) افغانستان کے ساتھ جامع سٹریٹجک معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ جنوری 2015ءمیں اس کے نو ہزار آٹھ سو فوجی بدستور افغانستان میں موجود رہیں گے۔ تاہم پینٹا گون نے القاعدہ کی سرکوبی کیلئے اپنی ضروریات پر نظر ثانی کرتے ہوئے یہ تعداد بڑھا کر گیارہ ہزار کرنے کا فیصلہ کی اہے۔ پینٹا گون کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی باقاعدہ اعلان ابھی تک نہیں کیا گیا تاہم ذرائع تصدیق کرتے ہیں کہ ایسا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ چک ہیگل کے بارے میں اگرچہ پینٹا گون کے پریس سیکرٹری ایڈمرل جان کربی یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ”ابھی تک وہی پیڈل چلا رہے ہیں“ لیکن اندرونی حالات سے باخبر ذرائع اس کی نفری کرتے ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق مستعفی ہونے کے بعد چک ہیگل غیر موثر ہوچکے ہیں اور اب پینٹا گون میں نئی بدلتی ہوئی سوچ پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے۔ افغانستان میں انخلاءکے بعد پہلے سے طے شدہ تعداد میں ایک ہزار کا اضافہ اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔

چک ہیگل ڈیموکریٹک صدر باراک اوباما کی کابینہ میں ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن تھے۔ انہوں نے سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی میں اوبامہ کے ساتھ مل کر اس وقت کام کیا تھا جب دونوں سینئر تھے جس سے ان کی دوستی ہوگئی۔ چک ہیگل اپنی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے سخت نقاد تھے جس بناءپر انہیں اوبامہ نے فروری 2013ءمیں وزیر دفاع کے طور پرمتعین کیا۔ لیکن بالآخر بدلتے ہوئے حالات میں اوباما نے ان سے استعفیٰ طلب کرلیا جو انہوں نے 24 نومبر کو پیش کردیا۔

چک ہیگل کے ماتحت کام کرنے والے ڈپٹی سیکرٹری آشٹن کارٹر دسمبر 2013ءمیں اس لئے چھوڑ کر چلے گئے تھے کہ وزیر دفاع بننے کیلئے وہ اپنے آپ کو حق دار سمجھتے تھے۔ چک ہیگل کے مستعفی ہونے کے بعد وائٹ ہاوس میں نئے وزیر دفاع کے طور پر نامزدگی کے لئے جن ناموں پر گور کیا جارہا ہے انم یں وہ اس وقت سرفہرست ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ آشٹن کارٹر کے علاوہ مشعل فلورنے اور سینیٹر جیک ریڈ کے نام بھی نئی پوزیشن کیلئے زیر غور تھے لیکن ان دونوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس عہدے کے خواہش مند نہیں ہیں۔ اس لئے امکان یہی ہے کہ آشٹن کارٹر ہی نئے وزیر دفاع بنیں گے۔

مزید :

علاقائی -