مسئلہ کشمیر پاک بھارت مذاکرات کے ذریعےحل کرنیکا مطالبہ

مسئلہ کشمیر پاک بھارت مذاکرات کے ذریعےحل کرنیکا مطالبہ

  

                      اسلام آباد (اے این این)کشمیر کاز کانفرنس میں پاکستان آزاد کشمیر اور حریت کانفرنس کے قائدین نے مقبوضہ کشمیر میں الیکشن ڈرامے کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کردار ادا کریں،فوجی بندوقوں کے سائے میں ہونے والے جعلی الیکشن حق خود ارادیت اور استصواب رائے کے نعم البدل نہیں ہو سکتے،بھارت جذبہ آزادی کو کچلنے لئے الیکشن جیسے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںکا نوٹس لےا جائے،تمام سیاسی قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے،بھارت وادی سے فوج واپس بلائے،پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کریں،بات چیت میں کشمیریوں کو شامل کیا جائے۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو اسلام آباد میں پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کے زیراہتمام ”کشمیر کاز اور مقبوضہ کشمیر میں انتخابات“ کے عنوان سے خصوصی گول میز کانفرنس کا انعقادکیا گیا جس میں پاکستان اور کشمیر سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے شرکت کی اور خیالات کا اظہار کیا۔ جن میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور چئیرمین سینٹ راجہ ظفرالحق ، وفاقی وزیر برائے کشمیر اور گلگت بلتستان چودھری برجیس طاہر، پیر محمد ابراہیم شاہ ، پیپلز پارٹی کی رہنماءروبینہ خالد، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل، حریت رہنماءغلام محمد صفی،محمود احمد ساغر، سید یوسف نسیم،جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی رہنماءامان اللہ خان، عبدالحمید بٹ، رفیق بٹ ،ترجمان یاسین ملک سلیم ہارون، ڈاکٹر توقیر گیلانی، چیئرمین جموں کشمیر پیپلز پارٹی سردار خالد ابراہیم ،سابق وزیراعظم آزاد کشمیر،صدر مسلم لیگ (ن) راجہ فاروق حیدر، سابق سپیکر آزاد کشمیر اسمبلی، سیکرٹری جنرل پی ایم ایل (این) شاہ غلام قادر، رہنماءجماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر غلام نبی نوشہری، ڈاکٹر ولید (کشمیر امریکن کونسل)، سینیٹر جعفر اقبال، چیئرمین یوتھ فورم کشمیر احمد قریشی، اکرم ذکی، سابق سفیراور چیئرمین آف انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز خالد محمود، ڈی جی انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز ڈاکٹر رسول بخش ، ڈاکٹر عالیہ ایچ خان (ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسز)، سردار زاہد تبسم چیف ایڈیٹر کشمیر ایکسپریس، ڈاکٹر جواد ہمدانی پروفیسر اسلامک یونیورسٹی، تجزیہ کار ہارون الرشید، شیخ تجمل اسلام (ڈائریکٹر کشمیر میڈیا سروس)، رئیس میر (کے ایم ایس)، کالم نگار ارشاد محمود، میر عدنان لیکچرار اے جے کے یونیورسٹی، راجہ وسیم (پریس فار پیس) ، عارف کمال سابق سفیر، ڈائریکٹر گلوبل سٹیڈیز این ڈی یو، سید ضیاءالنور چیئرمین مسلم ہینڈز سمیت دیگر صحافی، دانشور، سماجی کارکن، سفارتکار، اساتذہ، مفکر، شاعر اور ادیب شامل تھے۔اس موقع پر کشمیر کاز اور مقبوضہ کشمیر میں زبردستی کرائے جانے والے جعلی انتخابات کے حوالے سے باری باری سب نے خیالات کا اظہار کیا۔ شرکاءنے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرتے ہوئے اسے جاری رکھنے پر زور دیا۔عالمی برادری سے مطالبہ کیا گہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوںکا نوٹس لےا جائے۔کانفرنس میں چودہ نکات پر مشتمل قرارداد بھی منظور کی گئی جو پیس اینڈ کلچر آرگنائزیشن کی سیکرٹری جنرل سبین حسین ملک نے پیش کی۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیاکہ پاکستان اور بھارت کی حکومتیں جلد از جلد مسئلہ کشمیر کو حل کریں، تمام مراحل میں کشمیریوں کی رائے کو شامل رکھا جائے، حل اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہی ہونا چاہیے۔ شہید مقبول بھٹ اور افضل گورو کے جسد خاکی واپس کیے جائیں۔ مقبوضہ کشمیر میں نافذ تمام کالے قوانین فی الفور ختم کےے جائیں۔ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری پر کی جانے والی بلااشتعال فائرنگ کی بھرپور مذمت کی گئی۔

کشمیر کاز کانفرنس

مزید :

علاقائی -