لیگی کارکنوں کے گلے شکوے

لیگی کارکنوں کے گلے شکوے
لیگی کارکنوں کے گلے شکوے

  

اندر کی خبر یہ ہے کہاگر تحریک انصاف کے عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر دباﺅ بڑھا رکھا ہے تو خود لیگی کارکنوں نے بھی اپنی قیادت کے سامنے گلے شکوﺅں کا ڈھیر لگا رکھا ہے۔ ایسا نہیں کہ لیگی کارکن، تحریک انصاف کے کارکنوں کے مقابل آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ وہ تو اس بات پر گلہ مند ہیں کہ ان کے منتخب نمائندے ان کی بات نہیں سنتے، ان کے مسائل کی طرف دھیان نہیں دیتے اور وہ اپنے حلقوں کے عوام کو وقت نہیں دیتے۔ حلقہ این اے 120 کے سیاسی کارکن بار بار اسلام آباد جاتے ہیں اور محترمہ مریم نواز کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ مریم نواز صاحبہ بہت توجہ، محبت اور شفقت کے ساتھ ان کی باتیں سنتی ہیں۔ وہ اپنے کارکنوں کے سامنے ایک ایک گھنٹہ مبہوت بیٹھی رہتی ہیں۔ ساری بات سننے کے بعد نہایت نپا تلا فیصلہ صادر کرتی ہیں کسی کو کہنا سننا ہو تو فوراً فون بھی کر دیتی ہیں، لیکن بتانے والے بتاتے ہیں کہ اس کے باوجود کارکنوں کی سنی نہیں جا رہی۔ صورتِ حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ حلقہ این اے 120 کے تحت کام کرنے والی ایک یوسی کے لیگی سیکریٹری جنرل، تحریک انصاف میں جا چکے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ نقل مکانی کرنے والے یہ صاحب جنرل پرویز اشرف کے دور میںمسلم لیگ(ن) میں رہے۔ میاں نوازشریف کے نعرے لگاتے رہے، لیکن لیگی حکومت آئی تو اپنا بوریا بستر اٹھا کر تحریک انصاف کی طرف جا نکلے۔

 نون لیگی کارکنوں میں اس صورت حال نے خاصی بد دلی پھیلا رکھی ہے۔ کچھ ہمدرد کارکن اس صورتِ حال پر ناخوش تھے ،چنانچہ وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مریم نواز سے ملاقات کے لئے اسلام آباد گئے اور انہیں اصل صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ ان شاکی کارکنوں کو اپنے صوبائی حلقوں کے نمائندوں سے بھی کچھ گلے تھے جن کا انہوں نے مریم صاحبہ کے سامنے بر ملا اظہار کیا۔ یہ شاید اتفاق تھا یا کچھ اور کہ جس لیگی ایم پی اے کے خلاف شکوﺅں کا ڈھیر لگایا گیا تھا اس کے کچھ کارکن بھی عین اسی وقت مریم نواز صاحبہ کے سامنے پہنچ گئے اور انہوں نے اپنا موقف ان کے سامنے رکھا۔ معلوم ہوا ہے کہ کارکنوں کے دونوں گروپوں میں متحمل مزاج مریم نواز کے سامنے شدید تلخ کلامی بھی ہوئی۔ اس شدید تلخ کلامی کی وجہ خواہ کچھ بھی رہی ہو ، ایک بات محترمہ مریم نواز کو ذہن نشین کرنا ہی ہو گی کہ وزیر اعظم کے حلقے کے ووٹر شدید ناراض ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح مریم صاحبہ الیکشن کے دنوں میں یہاں روز آتی رہیں، اسی طرح اب بھی انہیں یہاں آنا چاہئے۔ اب تو وہ قرضہ سکیم کی نگرانی کے کام سے بھی فارغ ہو چکی ہیں پھر بھلا کون سی رکاوٹ ہے جو انہیں حلقہ این اے 120 میں آنے سے روک رہی ہے؟

لیگی کارکنوں کے پے در پے اسلام آباد دوروں کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب کچھ لوگوں کو نئی ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ میرے دوست اور ان تھک لیگی کارکن اویس بشیر خان کوپی پی 140کا کو آرڈی نیٹر بنایا گیا ہے۔ ان کے لئے حلقے میں تہنیتی بینر لگ گئے ہیں، لیکن دراصل اب ان کا امتحان شروع ہوا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس طرح لیگی کارکنوں کے مسائل حل کرتے ہیں؟ اور کس طرح ان کے گلے شکوے کے دور کرتے ہیں؟ اگر اب بھی کارکن محترمہ مریم نواز کے پاس اپنی شکایت لے کر جائیں گے تو سمجھا جائے گا کہ وہ بے اختیارکوآرڈی نیٹر ہیں ۔ اسی طرح حلقہ این اے 120کے کارکنوں کو سٹیٹ گیسٹ ہاﺅس میں بیٹھنے والی وزیراعظم کی ٹیم سے بھی گلے شکوے ہیں۔ لوگ اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل ان کے پاس لے کر جاتے ہیں لیکن بڑے لوگ تو بڑے بڑے مسائل حل کیا کرتے ہیں، اس لئے وہاں بیٹھے لوگوں سے کسی کا کوئی گلہ نہیں بنتا، اس کے باوجود لیگی کارکنوں کے دل کی آواز محسوس کرتے ہوئے نوجوان ایم این اے اور مستقبل کے بڑے سیاسی رہنما جناب حمزہ شہباز نے این اے 120 کے لیگی کارکنوں کی جائز شکایات سننے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے داتا گنج بخش ٹاﺅن میں کھلی کچہری کا آغاز کردیا ہے۔ پہلی کھلی کچہری میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری خواجہ عمران رضا نے حلقے کے کارکنوں کے مسائل سنے۔

 کمال کی بات یہ ہے کہ اس کھلی کچہری میں تقریباً تمام صوبائی محکموں کے متعلقہ حکام موجود تھے جن سے بعض مسائل کے حوالے سے موقع ہی پر بازپرس کی گئی، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواجہ عمران رضا یہ کام کب تک کریں گے ؟ یا کب تک کرسکتے ہیں؟ حلقے کے مسائل وہ شخص حل کرواسکتا ہے جس نے اپنی سیاست کی بہار اور خزاں کے سارے دن یہیں گزارے ہوں۔ اگر جناب حمزہ شہباز حلقہ این اے 120کی بے چینی ختم کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے معتمد اور پرانے لیگی کارکنوں تارابٹ کو شکایات سیل کا انچارج بنادیں۔ تارابٹ وہ شخص ہے جو ہمیشہ پچھلی صفوں میں بیٹھتا ہے لیکن بات ہمیشہ آگے کی کرتا ہے۔مَیں سمجھتا ہوں کہ یہی اس درویش صفت انسان کی انفرادیت ہے۔ مَیں نے دیکھا ہے کہ این اے 120 کے تقریباً تمام لیگی کارکن تارا بٹ کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔ تارا بٹ ، شہباز شریف کا ایسا دیوانہ ہے جس نے اپنی کار اور بائیک پر وہی نمبر لگوا رکھا ہے جو جناب شہباز شریف کی گاڑی کا ہے۔ اگر پی پی 139 اور 140 سے بالترتیب کامیاب ہونے والے ایم پی ایز جناب بلال یٰسین اور جناب ماجد ظہور سے کارکنوں کو کچھ گلے ہیں تو تارا بٹ جیسا متحمل مزاج شخص یہ سب بآسانی دور کر سکتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ جناب حمزہ شہباز اپنے حلقے کے ساتھ ساتھ اس حلقے کے مسائل بھی دیکھیں اور اسے بھی اپنا ہی حلقہ سمجھیں۔

مزید :

کالم -