مولانا ظفر علی خان ہماری تاریخ کا ایک درخشاں باب ہیں ،رفیق تارڈ

مولانا ظفر علی خان ہماری تاریخ کا ایک درخشاں باب ہیں ،رفیق تارڈ

  

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) مولانا ظفر علی خان ہماری تاریخ کا ایک درخشاں باب ہیں۔انگریز،ہندو اور قادیانی ہمیشہ ان کے قلم کی زد میں رہے۔ اسلامی اقدار کی پاسداری ہمیشہ ان کے نزدیک اولین ترجیح رہی۔ان خیالات کااظہار تحریک پاکستان کے نامور کارکن‘ سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان اور چےئرمین نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان میں تحریک پاکستان کے رہنما‘بابائے صحافت‘ قادرالکلام شاعر اورآل انڈیا مسلم لیگ کے بانی رکن مولانا ظفر علی خان کی58ویں برسی کے موقع پر منعقدہ خصوصی نشست سے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔اس نشست کا اہتمام نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ اس موقع پر وائس چیئرمین نظریۂ پاکستان ٹرسٹ ڈاکٹر رفیق احمد، چیئرمین مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ خالد محمود، ایڈیٹرانچیف روزنامہ پاکستان مجیب الرحمن شامی، سابق چیئرمین شعبۂ ابلاغیات پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر مغیث الدین شیخ،کالم نگار و دانشور ڈاکٹر اجمل نیازی، سیکرٹری جنرل مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ راجہ اسدعلی خان، کالم نگار و دانشور محمد آصف بھلی ،چیف نیوز ایڈیٹر روزنامہ نوائے وقت دلاور چوہدری، کنوینر مادرملتؒ سنٹر شعبۂ خواتین پروفیسر ڈاکٹر پروین خان،میاں ابراہیم طاہر ، مولانا محمد شفیع جوش، اساتذۂ کرام، طلباو طالبات سمیت مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد موجود تھی ۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن مجید‘ نعت رسول مقبولؐ اور قومی ترانے سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت قاری امجد علی نے حاصل کی جبکہ معروف نعت خواں حافظ مرغوب احمد ہمدانی نے بارگاۂ رسالت مابؐ میں ہدیۂ عقیدت اورماہ نور شفیق اور محمد عمید حسن نے کلام ظفر علی خان پیش کیا۔ نشست کی نظامت کے فرائض نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے اداکئے۔محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان ہماری تاریخ کا ایک بہت درخشاں باب ہیں۔انگریز،ہندو اور قادیانی ان کے قلم کی زد میں رہے۔حمد و نعت اور اسلامی اقدار کی پاسداری ہمیشہ ان کے نزدیک اولین ترجیح کے حامل رہے۔آپ کا نعتیہ کلام بہت روح پرور ہے۔مولانا ظفر علی خان نے ’’زمیندار‘‘اخبار کے ذریعے مسلمانوں میں بیداری کی لہر دوڑا دی۔متعدد باراخبار کی ضمانتیں ضبط ہوئیں مگر مسلمانوں کے تعاون سے دوبارہ نکلتا رہا۔’’زمیندار‘‘ اخبار کی ہندو اخبارات کے ساتھ کشمکش جاری رہی اور اس اخبار نے ملک میں تہلکہ مچا دیا۔بدیہہ گوئی میں مولانا ظفر علی خانؒ کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ مولانا ظفر علی خان شاعری میں سیاست اور سیاست میں شاعری فرمایا کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ نئی نسل ہمارا مستقبل ہے،میری دعا ہے کہ یہ نسل آگے چل کر ملک کے بہترین شہری بنے۔آپ ایک اصول پسند انسان تھے۔مولانا ظفر علی خان اعلیٰ کردارکے حامل تھے،ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ مولانا ظفر علی خان کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشے اور ان کے درجات بلند کر کے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ایڈیٹرانچیف روزنامہ پاکستان مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان کسی بڑے جاگیردار یا سرمایہ دار کے بجائے ایک عام کاشتکار کے گھر پیدا ہوئے اور اپنی محنت،ذہانت و دیانت سے وہ مقام حاصل کیا جو تاریخ میں بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 1906ء میں جب مسلم لیگ کی بنیاد رکھی گئی تو آپ اس اجلاس میں شریک تھے ،1946ء کے انتخابات میں بھرپور جدوجہد کی۔آپ آخر دم تک مسلم قوم اور ملت اسلامیہ کے مفادات کے تحفظ کیلئے سرگرم رہے۔مولانا ظفر علی خان ایک صاحب علم اور صاحب کردار شخصیت تھے ،آپ کو اردو،انگریزی،فارسی اور عربی سمیت متعدد زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔ آپ کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔آپ نے طویل قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن اپنے نظریات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔آپ ایک بے مثال خطیب،شاعر،ادیب ، مترجم اور ملت اسلامیہ کے اتحاد کے نقیب تھے۔ برصغیر کے کسی اور اخبار نویس نے عالم اسلام پر اتنے اثرات مرتب نہیں کیے جتنے مولانا ظفر علی خان نے کیے ہیں۔انہوں نے کہا آج صحافت کا معیار بدل گیا ہے لیکن مولانا ظفر علی خان جیسی شخصیت کی جتنی ضرورت آج سے پچاس قبل تھی‘ اتنی ہی آج ہے کیونکہ کردار کی طاقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔مولانا ظفر علی خان جو کہتے تھے وہی کرتے تھے اور ہمیں ان جیسا بننے کیلئے قول و فعل میں تضاد ختم کرنا ہو گا۔مولانا ظفر علی خان کی صحافت موجودہ میڈیا کیلئے مشعل راہ ہے۔آج ان کے نقش قدم پر چل کر ہم پاکستان کو عالم اسلام کا ایک ترقی یافتہ اور طاقتور ملک بنا سکتے ہیں ۔چیئرمین مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ خالد محمود نے کہا کہ آج اس تقریب میں ڈاکٹر مجید نظامی کی کمی بڑی شدت سے محسوس کی جارہی ہے ،آپ ہر سال مولانا ظفر علی خان کی یاد میں منعقدہ تقریب میں شریک ہوتے تھے۔مولانا ظفر علی خان اور مجید نظامی جیسے لوگ اپنے افکارو نظریات کی بدولت ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ۔مولانا ظفر علی خان پاکستان کے عظیم محسن تھے اور آپ نے تحریک پاکستان میں بھرپور حصہ لیا۔انہوں نے کہا کہ زندہ قومیں ا پنے محسنوں اور مشاہیر کو یادرکھتی ہیں ہمیں بھی نئی نسل کو ان مشاہیر کی حیات و خدمات سے آگاہ کرنا چاہئے۔مولانا ظفر علی خان انتہائی متحرک شخصیت تھے۔ آپ کا شمار تحریک پاکستان کی چند نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے جبکہ آپ نے تحریک خلافت میں بھی بھرپورحصہ لیا۔ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔پروفیسر مغیث الدین شیخ نے کہا کہ آج یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم مولانا ظفر علی خان کے پیغام کو آگے بڑھا رہے ہیں،مولانا ظفر علی خان عاشق رسولؐ تھے۔ہمیں نئی نسل کو ان کی حیات و خدمات سے ضرور آگاہ کرنا چاہئے۔مولانا ظفر علی خان کو اپنی تہذیب و ثقافت پر بڑا ناز تھا۔ہمیں بھی اپنی تہذیب پر فخر کرنا چاہئے اور آج ہمیں اپنے تہذیبی ورثے کے تحفظ کی تحریک کا آغاز کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ coke studio ملک کی بڑی پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے ساتھ ایک ایم اویو پر دستخط کررہا ہے جس کے تحت ان اداروں میں موسیقی کی محفلیں سجائی جائیں گی۔ایک سازش کے تحت پاکستان کی نئی نسل کو اس کی تہذیب سے دور کیا جا رہا ہے‘ ان حالات میں ہر محب وطن کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہو گا۔ڈاکٹر اجمل نیازی نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان نے صحافت کو مشن سمجھ کر کیا،آج کے صحافی کا ان سے کسی طور بھی موازنہ نہیں کیا جا سکتا ۔پنجاب کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس سرزمین پر مولانا ظفرعلی خانؒ اور علامہ محمد اقبالؒ جیسی شخصیات پیدا ہوئیں۔آپ قادرالکلام شاعر اور بہت بڑے انسان تھے۔آپ اعلیٰ پائے کے خطیب ،ادیب اوربہت بڑے عاشق رسولؐ تھے۔محمد آصف بھلی نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان نے پاکستان کیلئے طویل جیل کاٹی ۔ایسے بطل حریت کی یاد میں منعقدہ پروگرام میں شرکت سے ہمارا قد بھی بڑھ جاتا ہے۔ان کو یاد کرنے سے ہمارے اندر بھی ان جیسا جذبۂ حریت پیدا ہو گا۔نئی نسل کو ان کی حیات وخدمات سے آگاہ کیا جائے۔راجہ اسد علی خان نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان میں تعصب نام کی کوئی چیز نہیں تھی اور ان کے سیاسی حریف بھی ان کی عظمت کے قائل تھے۔مولانا ظفر علی خان کی زندگی میں کوئی تحریک ان کی شمولیت کے بغیر نا مکمل سمجھی جاتی تھی۔ آپ اعلیٰ کردار کے مالک تھے ، مولانا ظفرعلی خان نے ملک وقوم کیلئے بے پناہ قربانیاں دیں۔ڈاکٹر پروین خان نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان عظیم عاشق رسولﷺ تھے ۔آپ نے اپنی جان و مال اور تن من دھن ملت اسلامیہ کیلئے وقف کیا ہوا تھا۔آپ ایک شعلہ بیان مقرر اور کمٹڈ صحافی تھے ۔آپ نے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔آپ نے تحریک خلافت میں بھی نمایاں حصہ لیا۔آپ نے1940ء کی مشہور قرارداد پاکستان کا اردو ترجمہ کیا۔

مزید :

صفحہ آخر -