نواز شریف اور مودی کے مصافحہ سے امید کی کرن پیدا ہو گئی

نواز شریف اور مودی کے مصافحہ سے امید کی کرن پیدا ہو گئی

  

 کھٹمنڈو(عمر شامی سے)نریندر مودی اور نواز شریف کا مصافحہ وہ گھڑی ثابت ہوئی جس کا سارک کانفرنس کو انتظار تھا، کل سارک کانفرنس کے اختتام کے موقع پر نواز شریف اور نریندر مودی کا مصافحہ دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دونوں اطراف سے اس مصافحہ کو غیر اعلانیہ قرار دیا گیا ہے۔ اصرار یہ ہے کہ یہ قدرتی طریقے سے وقوع پذیر ہوا اور اس میں دونوں ملکوں کے درمیان رابطوں کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نریندر مودی سے ہاتھ ملانے کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے افغان صدر اشرف غنی کا ہاتھ بھی پکڑ کر بلند کیا۔ اس پر ہال میں موجود سارک ممالک کے سربراہان نے جس پرتپاک اور مندوبین انداز میں تالیاں بجائیں اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سارے ممالک چاہتے ہیں کہ تعلقات ٹھیک ہوں اور بات آگے بڑھے تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگرچہ باقاعدہ ملاقات نہیں ہو سکی لیکن دونوں ملکوں کو حالات کی نزاکت کا بخوبی اندازہ ہے اور اسی وجہ سے دونوں وزراء اعظم پچھلے چند دونوں سے ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کی بات کرتے وقت نہایت محتاط نظر آئے اور دونوں رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں بھی ایک دوسرے پر براہ راست تنقید نہیں کی۔ نیپالی وزیرخارجہ اس معاملے میں خاصے سرگرم رہے اور انہوں نے میڈیا کے سامنے دونوں سربراہان کے درمیان ملاقات کروانے کی خواہش کا اعتراف بھی کیا تھا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے مصافحہ کیلئے ماحول سازگار بنایا جا رہا تھا اور دونوں رہنماء غیر رسمی طور پر اس بات پر متفق تھے کہ ماحول سازگار ہونے تک کسی بھی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ دونوں سربراہان کے درمیان درجہ حرارت کو کم رکھنے کی کوششوں پر بھی اتفاق ہوا ہے اور اس کے اثرات آنے والے دنوں میں نظر آئیں گے. امکانات موجود تھے کہ کانفرنس کی اختتامی تقریب سے پہلے کل صبح تفریحی مقام پر دونوں سربراہان میں غیر رسمی ملاقات ہو گی اور اس حوالے سے بھارتی میڈیا دن بھر خبریں بھی چلاتا رہا۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ دونوں وزراء اعظم کے درمیان غیر رسمی ملاقات ہوئی ہے ، ان خبروں کی تصدیق تو نہیں کی گئی تاہم اثر ضرور نظر آ رہا ہے۔ جب نریندر مودی ہوٹل میں آئے تو انہوں نے پاکستانی صحافیوں سے مصافحہ کیا۔ اس موقع پر ان سے پوچھا گیاکہ ملاقات کیسی رہی تو وہ بس مسکرا دیئے، پاکستان آمد کے سوال پر بھی ان کا جواب ’یہی‘ رہا تاہم ان کی باڈی لینگوئیج میں واضح فرق دیکھنے میں آیا اور وہ بہت خوشگوار موڈ میں نظر آئے۔ وزیر اعظم نواز شریف بھی گزشتہ روز کے مقابلے میں کافی پرسکون نظر آئے . کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بڑا بریک تھرو تو نہیں ہوا لیکن امید کی کرن ضرور پیدا ہو گئی ہے۔ اس حوالے سے وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے خارجہ امور طارق فاطمی سے پوچھا گیا کہ پاکستانی حکومت اس ملاقات کو کس طرح دیکھتی ہے تو انہوں نے بھی اعتراف کیا کہ کل سے آج کا دن اس طرح بہتر تھا کہ کل تک دونوں وزراء اعظم ایک دوسرے سے آنکھیں چرا رہے تھے لیکن آج مصافحہ ہوا اور دونوں ممالک کے سربراہان نے گرم جوشی دکھائی، آج بننے والی تصویر کل سے مختلف ہو گی۔ ساتھ ہی انہوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ مذاکرات کا عمل وہیں سے شروع ہو گا جہاں سے ٹوٹا تھا اور امید کرتے ہیں کہ بھارت پہل کرے گا۔ دونوں ملکوں کے ہائی کمشنر اس پر کام کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جس انداز سے ہال میں موجود سربراہان اور دیگر شرکاء نے مصافحے کو سراہا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خطے کے تمام لوگ اپنے تنازعات کو حل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ طارق فاطمی نے سارک کانفرنس کا اعلامیہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ تین معاہدے دستخطوں کیلئے تجویز کئے گئے تھے جن میں دو آمد و رفت سے متعلق (موٹر وہیکل اور ریلوے) اور ایک توانائی کا معاہدہ تھا۔ ان میں سے توانائی کے معاہدے پر پاکستان کی طرف سے پیش کردہ ترامیم کے بعد دستخط کر دیئے گئے جبکہ بقیہ 2 معاہدوں پر مزید کام کی ضرورت ہے اور انہیں اگلی سارک کانفرنس تک حتمی شکل دے دی جائے گی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سارک ممالک نے پاکستان کی میزبانی کی پیشکش متفقہ طور پر قبول کر لی ہے اور اگلی سارک کانفرنس پاکستان میں منعقد کی جائے گی۔

مزید :

صفحہ اول -