نواز شریف مودی مصافحہ نے سارک کانفرنس کو ناکام ہونے سے بچا لیا

نواز شریف مودی مصافحہ نے سارک کانفرنس کو ناکام ہونے سے بچا لیا

  

وزیر اعظم کے طیارے سے) عمر شامی )وزیر اعظم نریندر مودی کے رویے میں تبدیلی پاکستان کے موقف کی تائید ہے ،پاکستان بھارت سے باعزت ، بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات چاہتا ہے ، ایسے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں جو صرف دکھاوے کیلئے ہوں ۔یہ گفتگو وزیر اعظم نواز شریف نے 18ویں سارک کا نفرنس سے واپسی کے موقع پر طیارے میں صحافیوں سے کی۔وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ بھارت سے ڈائیلاگ میں سب سے بڑا ایشو کشمیر ہے اس کے حل کے بغیر کوئی بات آگے نہیں بڑھ سکے گی دونوں ملکوں کواس کے حل کیلئے سنجیدہ بات چیت کرنا ہو گی ۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بھارت کی طرف سے یک طرفہ طور پر مذاکرات کا خاتمہ بلا جواز تھا ، کشمیری حریت رہنماؤں سے ملاقات کو اس کا جواز بنایا گیا جو نہایت غیر مناسب تھا ، کشمیر ی رہنماؤں سے اس طرح کی ملاقاتیں معمول کا حصہ ہیں اور گذشتہ 65سال سے کی جاتی رہی ہیں ۔نواز شریف نے بھارتی ہم منصب نریندرمودی سے مصافحے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی دن میں ان کا وزیر اعظم مودی سے دوسرا مصافحہ تھا ، پہلی ملاقات اور مصافحہ ان سے صبح دولخیل کے تفریحی مقام پر ہوا تھا اور وہاں کھانا بھی اکٹھے کھایا تھا البتہ وہاں رسمی بات چیت ہوئی ،لائن آف کنٹرول پرخلاف ورزی کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی کیونکہ یہ ایشو اس وقت اٹھائے جائینگے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ دور شروع ہو گا ۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پوری دنیا چاہتی ہے کہ پاک بھارت مذاکرات کا آغاز ہو اور دونوں ملک باہمی اختلافات بات چیت کے ذریعے حل کریں ۔

کھٹمنڈو (خصوصی رپورٹ) سارک کانفرنس کے اختتام پر وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی نے مصافحہ کیا، اس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی ہوا جبکہ پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ تفصیل کے مطابق سارک سربراہ کانفرنس کے اختتام پر فوٹو سیشن کے بعد نریندر مودی سربراہان مملکت سے ہاتھ ملاتے ملاتے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کے پاس بھی پہنچ گئے۔ انہوں نے ہاتھ بڑھایا تو نواز شریف نے بھی کْھلے دل اور گرمجوشی کا مظاہرہ کیا۔ مصافحے کے دوران دونوں وزراء اعظم کے درمیان مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا۔ نریندر مودی نے پہلے نواز شریف کے کان میں کچھ کہا، پھر کندھا تھپتھپایااور قہقہہ لگایا۔ نریندر مودی اور نواز شریف نے ایک دوسرے کی خیریت بھی دریافت کی۔ دونوں وزراء اعظم کے ہاتھ مِلتے ہی پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ بھارتی وزیراعظم دیر تک نواز شریف کا ہاتھ تھامے فوٹو گرافرز کی جانب دیکھتے رہے۔ دوسری جانب بھارتی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ نیپال میں وزیراعظم نواز شریف اور نریندر مودی کے درمیان غیر رسمی ملاقات ہوئی ہے۔ پہاڑ کی چوٹی پر ہونے والی اس ملاقات میں تمام سارک رہنماؤں نے پانچ گھنٹے ایک ساتھ گزارے۔ نیپالی وزیرخارجہ مہندرا بہادر پانڈے کے حوالے سے بھارتی اخبار نے دعویٰ کیا کہ نیپالی وزیراعظم سشیل کوئرالہ کی جانب سے دیے گئے عشائیے میں بھی دونوں رہنماء آپس میں باتیں کرتے نظر آئے۔ بھارتی اخبار کے مطابق نریندر مودی اور نواز شریف کے درمیان علیحدگی میں کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

کٹھمنڈو (خصوصی رپورٹ) کٹھمنڈو میں ہونے والی اٹھارہویں سارک سربراہ کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی اور سارک سربراہ کانفرنس کا 36نکات پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ جاری، مشترکہ اعلامیے کے مطابق رکن ممالک نے دہشتگردی کی ہر شکل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کے خاتمے کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ رکن ممالک سارک ڈویلپمنٹ فنڈ کے قیام اور علاقائی تعاون بڑھانے پر بھی متفق ہوگئے جبکہ سارک ممالک کے سائبر کرائم مانیٹرنگ ڈیسک کے قیام پر بھی اتفاق ہوگیا۔ سربراہان مملکت سارک ڈویلپمنٹ فنڈ کے قیام پر متفق ہوگئے۔ علاقائی تعاون، زمینی رابطے بڑھانے اور جنوبی ایشیاء اقتصادی یونین کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا۔ سارک رہنماؤں نے خطے سے غربت کے خاتمے اور 2030ء تک خطے کو ایچ آئی وی ایڈز اور ٹی بی سے پاک کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ تجارت کے فروغ کیلئے بحری راستوں کے استعمال پر بھی زور دیا گیا۔ سارک ممالک زراعت اور غذائی تحفظ کیلئے تحقیقی اور فنی تعاون بڑھانے پر بھی متفق ہوگئے۔ فوڈ بینک کے قیام پر اتفاق کرتے ہوئے رکن ممالک نے سارک سیڈ بینک کے معاہدے کی توثیق پر بھی زور دیا۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے ریپڈ رسپانس معاہدے پر جلد عمل پر بھی اتفاق ہوا۔ اعلامیے کے مطابق اگلی سارک سربراہ کانفرنس پاکستان میں ہوگی جبکہ 2016ء سارک ثقافتی سال کے طور پر منایا جائے گا۔ توانائی کی ضرورتیں پوری کرنے کیلئے ہوا، پانی، شمسی اور بائیو فیول منصوبوں پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اختتامی سیشن سے قبل رکن ممالک نے توانائی کے شعبے میں تعاون کے فریم ورک پر دستخط بھی کئے۔

مزید :

صفحہ اول -