عمران خان آج انتخابی دھاندلیوں کے ثبوت پیش کریںگے

عمران خان آج انتخابی دھاندلیوں کے ثبوت پیش کریںگے
عمران خان آج انتخابی دھاندلیوں کے ثبوت پیش کریںگے

  

تجزیہ: چودھری خادم حسین

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان آج ایک پریس کانفرنس میں اپنی طرف سے انتخابی دھاندلیوں کے ثبوت پیش کریںگے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس بہت ٹھوس ثبوت آ گئے ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے حلقہ پی پی147 کے بارے میں یہ الزام لگایا کہ اس کے ایک پولنگ سٹیشن سے20بیگ ہی غائب ہیں، جن کا کوئی پتہ نہیں۔ اس کے جواب میں وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ ثبوت ہیں تو عدالتوں میں جا کر پیش کریں۔ عمران خان گزشتہ روز الیکشن ٹریبونل کے سامنے خود پیش ہوئے اور درخواست کی کہ حلقہ پی پی147کا فیصلہ سُنا دیا جائے اسے122کے ساتھ منسلک نہ کیا جائے۔ عمران خان نے الیکشن ٹریبونل پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ان کے اس اظہار پر سیاسی اور قانونی ماہرین نے اطمینان کا اظہار کیا تاہم یہ شبہ بھی ظاہر کیا کہ عمران خان کا کوئی بھروسہ نہیں کہ کس وقت بداعتمادی کا اظہار کر کے الزام لگانا شروع کر دیں، کہ ماضی میں ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اگر ان کے پاس واقعی ایسے اہم ثبوت ہیں تو عدالت سے رجوع کریں، جس پر اب ان کو اعتماد ہے اور وہاں پیش کر کے فیصلہ حاصل کریں۔ یہ اچھا عمل اور اچھی تجویز بھی ہے اس پر عمل کرنا چاہئے۔

جہاں تک30 نومبر کا تعلق ہے، تو بہت زیادہ متضاد خبروں کی زد میں ہے، لیکن حقیقت یہی ہے کہ حکومت یہ دن بھی پُرامن طور پرگزارنا چاہتی ہے اور امکانی طور پر حکمرانوں کی طرف سے زیادہ سے زیادہ رعائت دینے کی کوشش کی جائے گی تاہم حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ عمران خان کی طرف سے بھی یقین دہانی موصول ہو کہ امن ہر صورت میں برقرار رہے گا، جہاں تک گرفتاریوں یا نظر بندیوں کا تعلق ہے تو ایسی تجاویز ضرور ہوں گی، لیکن ان پر عمل نہیں ہو رہا اور نہ ہی ایسے امکانات ہیں کہ حکومت خود ہی حالات کو خراب کرے۔ اس لئے تمام تر حفاظتی انتظامات اور ہر صورت حال کا مقابلہ کرنے کی تیاریوں کے باوجود جلسہ پُرامن طور پر منعقد کرانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے ایک چا لان عدالت میں پیش کیا گیا، جس میں50افراد نامزد ہیں۔ چالان واپس کیا گیا کہ بعض دستاویز نہیں لگائی گئیں۔ اس میں عوامی تحریک کے مرکزی رہنما گنڈا پور کو بھی ملزم ٹھہرایا گیا۔ حسب توقع عوامی تحریک نے اسے مسترد کر دیا اور یوں بھی اس حوالے سے درخواستیں عدالت عالیہ میں موجود ہیں، اس لئے اعتراض پر اعلیٰ عدالت سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف وزیراعظم کی نااہلی کے لئے دائر درخواستوں کی ابتدائی سماعت کے لئے چیف جسٹس نے اپنی سربراہی میں ایک سات رکنی لارجر بنچ تشکیل دے دیا جو سماعت کرے گا، پہلے تو یہ فیصلہ ہونا ہے کہ یہ درخواستیں قابل سماعت ہیں یا نہیں۔ ایسا احساس ہوتا ہے کہ فاضل بنچ یہ فیصلہ بھی ساتھ ہی کرے گا۔ سماعت اگلے ہفتے شروع ہو رہی ہے یہ بہت اہمیت کی حامل ہے۔

دعوٰی

مزید :

تجزیہ -