ریٹرننگ افسروں کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت کاروائی نہیں ہو سکتی

ریٹرننگ افسروں کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت کاروائی نہیں ہو سکتی
ریٹرننگ افسروں کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت کاروائی نہیں ہو سکتی

  

تجزیہ-:سعید چودھری

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بدھ کے روز لاہور میں الیکشن ٹربیونل میں پیش ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ریٹرننگ افسروں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت فوجداری مقدمہ درج کراؤں گا ۔اس سے قبل مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین بھی متعدد بار یہ مطالبہ کرچکے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات نہ کرانے پر حکمرانوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل ٰ6کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔کیا ریٹرننگ افسروں کے خلاف انتخابات میں دھاندلی کے الزام میں آئین کے آرٹیکل 6کے تحت سنگین غداری کے الزام میں مقدمہ چلایا جاسکتا ہے ؟اورکیا عمران خان کی درخواست پر آئین کے آرٹیکل6کے تحت کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے ؟ان دونوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔آرٹیکل 6ایک غیر معمولی جرم سے متعلق ہے ۔دستور کے اس آرٹیکل میں واضح کیا گیا ہے کہ \"کوئی شخص جو طاقت کے استعمال یا دیگر غیر آئینی ذریعے سے آئین کو منسوخ کرتا ہے یا آئین کو سبوتاژیا معطل یا معرض التواء میں رکھتا ہے یا پھر ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ سنگین غداری کا قصور وار ہوگا \"۔آرٹیکل 6(2) اور اس کاذیلی آرٹیکل 2(اے)کہتا ہے کہ مذکورہ جرم میں شریک ہونے والا یا اعانت کرنے والا بھی سنگین غداری کا مرتکب ہوگا جبکہ ملک کی سپریم کورٹ سمیت کوئی بھی اعلی ٰعدالت آئین توڑنے ،منسوخ یا معطل کرنے کے اقدام کو جواز فراہم نہیں کرسکتی ۔

عوام سیاستدانوں باالخصوص پارلیمنٹرین سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ قانون اور آئین کا مکمل ادراک رکھتے ہوں گے ۔یہ لوگ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے قوم کے مقدر کا فیصلہ کرتے ہیں۔ان لوگوں کو آئینی اور قانونی معاملات سے متعلق بیان بازی کرتے وقت جذبات سے زیادہ زمینی حقائق کو پیش نظر رکھنا چاہیے ۔ریٹرننگ افسر اگر دھاندلی کے مرتکب ہوئے بھی ہیں تو بھی وہ آرٹیکل 6کے زمرے میں نہیں آتے ۔آرٹیکل 6بنیادی طور پر مارشل لاء نافذ کرنے والے آمروں کی گرفت کے لئے ہے ،آر ۔اوزنے کون سا آئین منسوخ یا معطل کیا ہے کہ ان کے خلاف آرٹیکل 6حرکت میں آئے گا ۔اسی طرح آرٹیکل 140(اے )میں واضح کیا گیا ہے کہ ہر صوبہ قانون کے ذریعے مقامی حکومت کا نظام قائم کرے گا جس کے تحت سیاسی انتظامی و مالیاتی ذمہ داریاں اور اختیارات مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کو تفویض کئے جائیں گے اور یہ کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن پاکستان کی ذمہ داری ہے ۔اگر اس آرٹیکل پر عمل درآمد نہیں ہوتا یاپھر اس سلسلے میں لیت ولعل سے کام لیا جاتا ہے تو اسے آئین کی خلاف ورزی کہا جاسکتا ہے ،یہ آئین منسوخ یا معطل کرنے کے مترادف ہرگزنہیں ہے ۔اب تک کتنے ہی قانون اور حکومتی اقدامات کو عدالتیں کالعدم کرچکی ہیں کہ وہ آئین سے متصادم یا غیر آئینی تھے۔اگرآئین کے منافی اقدامات کو آئین کی منسوخی تصور کرلیا جائے تو پھر اب تک درجنوں پارلیمنٹیرین اور حکمران اس کی زد میں آچکے ہوتے ۔آئین کے آرٹیکل 6کا دائرہ کار صرف طاقت کے ذریعے آئین کو منسوخ یا معطل کرنے یا ایساکرنے کی کوشش کے جرم تک محدود ہے ۔آئین کے آرٹیکل 6کے تحت ہر شخص مقدمہ دائر نہیں کرواسکتا ۔سنگین غداری کی سزا کے قانون مجریہ 1973کے سیکشن 3کے تحت آرٹیکل 6کے تحت کارروائی شروع کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے اس قانون کے تحت کوئی عدالت بھی اس وقت تک سنگین غداری کے الزام میں کسی کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی جب تک کہ وفاقی حکومت یا اس کا مجاز نمائندہ باقاعدہ استغاثہ دائر نہیں کرتا اس حوالے سے کیس کی سماعت کے لئے ایک خصوصی عدالت تشکیل دی جاتی ہے جو قانون کے تحت ہائی کورٹس کے 3ججوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔اس سلسلے میں پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کی مثال دی جاسکتی ہے ۔عمران خان ریٹرننگ افسروں کے خلاف کیسے مقدمات درج کروائیں گے اور ریٹرننگ افسروں کے \"جرم\"کو کیسے آرٹیکل 6کے تابع لائیں گے اس کا جواب ان کے قانونی مشیر بھی نہیں دے سکتے ۔عمران خان اگر اپنے قانونی مشیروں کی بات سنتے ہیں تو انہیں عمران خان کو آئین اور قانون کے بنیادی تقاضوں کی بابت ضرور آگاہ کرنا چاہیے ۔

مزید :

تجزیہ -