سیاسی جرگے کا اجلاس، تحریک انصاف اور حکومت کو معاملات کے حل کیلئے خطوط ارسال

سیاسی جرگے کا اجلاس، تحریک انصاف اور حکومت کو معاملات کے حل کیلئے خطوط ارسال
سیاسی جرگے کا اجلاس، تحریک انصاف اور حکومت کو معاملات کے حل کیلئے خطوط ارسال

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کیلئے قائم کردہ سیاسی جرگے نے ایک بار پھر حکومت اور تحریک انصاف کو خطوط ارسال کر دیئے ہیں جن میں فوری طور پر مذاکرات کی بحالی پر زور دیتے ہوئے مختلف تجاویز بھی دی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سیاسی جرگے کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں سراج الحق کا کہنا تھا کہ خطرات کے باوجود 30 نومبر خیریت سے گزر جائے گی کیونکہ تحریک انصاف نے مذاکرات سے انکارنہیں کیا تھا بلکہ حکومت نے مذاکرات کے دروازے بند کر لئے تھے، جرگے نے جوڈیشک کمیشن کے قیام کی تجویز دی تو حکومت نے اس معاملے پر خامشی اختیار کرلی تھی، اب صرورت ہے کہ تحریک انصاف اور حکومت اس بحران کے حل کیلئے دوبارہ مذاکرات کا آغاز کریں۔ جرگے کے رکن رحمان ملک نے کہا کہ تحریک انصاف اور حکومت سے رابطے میں ہیں اور جوڈیشل کمیشن کی تجویز جو ہماری طرف سے ہی دی گئی تھی وہ ابھی بھی قابل عمل ہے، تحریک انصاف کے رہنماءجہانگیر ترین سے آج ملاقات میں مثبت بات چیت ہوئی ہے اور چاہتے ہیں کہ تحقیقاتی کمیشن کا قیام جلد عمل میں لایا جائے تا کہ با معنی مذاکرات ہو سکیں۔ سراج الحق نے واضح کیا کہ عمران خان سے ملاقات میں کافی معاملات طے پا گئے تھے، وہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل اورٹائم فریم طے کرنے کے علاوہ وزیر اعظم نواز شریف کے استعفے کے مطالبے سے بھی پیچھے ہٹنے کو تیار تھے کیونکہ اگر دھاندلی ثابت ہو جائے تو ذمہ داران کو سزا سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن گاڑی کے دو پہیے ہیں، اچھی اپوزیشن آئینے کی طرح ہوتی ہے،پر امن احتجاج ہر کسی کا حق ہے جو صلب نہیں کیا جا سکتا، حکومت احتجاج کرنے والوں کو روکنے کی بجائے انہیں سہولت فراہم کرے۔ رحمان ملک نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذاکرات کیلئے دل چسپی ظاہر کرے کیونکہ تحریک انصاف تو آج بھی مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ اس سے قبل سیاسی جرگے کا اجلاس رحمان ملک کی رہائش گاہ میں ہوا تو اس میں سراج الحق، رحمان ملک، لیاقت بلوچ، میر حاصل بزنجو، کلثوم پروین اور جی جی جمال شریک ہوئے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -