سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے صدارتی نظام حکومت کی تجویز دیدی

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے صدارتی نظام حکومت کی تجویز دیدی
سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے صدارتی نظام حکومت کی تجویز دیدی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ملک میں صدارتی نظام حکومت کی تجویز دی ہے اور کہا ہے کہ سستا انصاف تک میسر نہیں اور اس بارے میں وکلا برادری سے تجا ویز بھی طلب کی ہیں۔سابق چیف جسٹس نے میڈیا کے نام اپنے خط میں لکھا ہے کہ اب جو بنیادی سوال ہے وہ ایک متبادل جمہوری نظام کی تلاش ہے۔پارلیمانی جمہوریت کے نام پر ہما رے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ہم نے دیکھ لیا۔اب کیو ں نہ قائد اعظم کی فکر کی رو شنی میں ایک ایسے نظام کی جانب بڑھا جائے جو صدارتی نظام حکومت اور اعلیٰ قدروں پر کھڑا ہو۔عوامی نما ئندگان صرف قانون سازی کی حد تک محدود رہیں اوردیگر اختیارات عوام کو نچلی سطح پر منتقل کر دیئے جائیں۔انکا کہنا تھا ہمیں یہ سوچنا ہے کہ یہ نظام کب تک؟یہ محرومیا ں ،یہ ٹوٹتے خواب، یہ آرزوئوں کی کٹیا کب تک۔ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم کب تک پارلیمانی جمہوریت کے نام پر اس نام نہاد اشرافیہ کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈالے رکھیں گے ،ہم غلام کیو ں رہیں۔انہو ں نے کہا گیس ،بجلی، پانی یہ سب چیزیں ایک خواب بنتی جا رہی ہیں۔علاج معالجہ کی سہولت نہیں، سستا انصاف تک میسر نہیں،سکول ویران ہیں یا اہل ثروت کے جانوروں کا باڑہ بنتے جا رہے ہیں،قیمتی ریا ستی اداروں کو بہتری کے بجا ئے پرائیو ٹائز کیا جا رہا ہے۔سٹیل ملز ہو ،پی آئی اے ،واپڈا یا ریلو ے ہر طرف ایک انحطاط ہے۔پو لیس کو ایک ہمدرد اور خیر خواہ بنا نے کے بجا ئے ایک طاغوت کا روپ دیدیا گیا ہے اور اہل اقتدار نے ہمیشہ اس طاغوت کی سرپرستی کی ہے۔ افتخار محمدچوہدری نے کہا پاکستان میں آئین کتاب میں لکھے حروف کی صورت میں جگمگاتو رہا ہے مگر اہل اقتدار نے کبھی اس پر عمل نہیں کیا۔

مزید : لاہور