ناروے حکومت کی جانب سے افغان اخبارات میں اشتہار، کیا پیغام لکھ کر لوگوں کو ڈرایا؟ جان کر آپ کو بھی بے حد حیرت ہوگی

ناروے حکومت کی جانب سے افغان اخبارات میں اشتہار، کیا پیغام لکھ کر لوگوں کو ...
ناروے حکومت کی جانب سے افغان اخبارات میں اشتہار، کیا پیغام لکھ کر لوگوں کو ڈرایا؟ جان کر آپ کو بھی بے حد حیرت ہوگی

  

اوسلو(مانیٹرنگ ڈیسک) شام اور افغانستان جیسے جنگ سے متاثرہ ملکوں سے لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزین کئی سال سے یورپ کا رخ کر رہے ہیں لیکن یہ لوگ چوری چھپے یورپ میں داخل ہو رہے تھے، مگر چند ماہ قبل ترکی کے ساحل پر ایک شامی پناہ گزین معصوم بچے کے ڈوب کر جاں بحق ہونے کے واقعے کے بعد یورپی ملکوں نے ان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھول دیئے تھے۔ اب پیرس میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کے بعد یورپی ممالک نے ان پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے ایک بار پھر بند کر دیئے ہیں۔ دیگر یورپی ملکوں نے تو صرف پناہ گزینوں کو اپنے ملک نہ آنے کا کہا اور خاموش ہو رہے مگر ناروے نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے افغانستان کے اخبارات میں انتباہی اشتہارات شائع کروانے شروع کر دیئے ہیں۔

مزید جانئے: آئی ایس آئی ایس نے اسے داعش کہہ کر پکارنے والوں کی زبانیں کاٹنے کا اعلان کیوں کیا؟لفظ داعش کی حقیقت سامنے آ گئی

ان اشتہارات میں ناروے حکومت نے پناہ کے متلاشیوں کو مطلع کیا ہے کہ اگر وہ ان کے ملک میں داخل ہوئے تو انہیں زبردستی ملک سے واپس بھیج دیا جائے گا۔ ایک ہفتہ قبل ناروے کے ڈائریکٹوریٹ آف امیگریشن کی طرف سے ٹوئٹر پرافغان پناہ گزینوں کو پیغام دیا گیا تھا کہ ”جو شخص بھی روس کے راستے ناروے میں داخل ہوا اسے کابل کا ون وے ٹکٹ دے کرواپس روانہ کر دیا جائے گا۔ ناروے کا امیگریشن ڈیپارٹمنٹ ٹوئٹر کے علاوہ سماجی رابطے کی دیگر ویب سائٹس پر بھی مہاجرین کو اپنے ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے مہم چلا رہا ہے۔ ڈیپارٹمنٹ یہ اشتہارات افغانستان کے انگریزی، پشتو اور دری زبانوں کے اخبارات میں دے رہا ہے۔ اخباری اشتہارات کی یہ مہم گزشتہ پیر کے روز شروع ہوئی جو ایک ہفتے تک جاری رہے گی۔ اشتہار کی عبارت میں لکھا گیا ہے کہ افغانستان کے پرامن علاقوں سے آنے والوں کو فوری طور پر واپس بھیج دیا جائے گا اس کے علاوہ افغانستان کے جنگ سے متاثرہ علاقوں سے آنے والوں کو بھی ناروے میں نہیں رہنے دیا جائے گا بلکہ انہیں بھی افغانستان کے ان علاقوں میں واپس بھیجا جا سکتا ہے جو جنگ سے متاثرہ نہیں ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس