ترکی ٹرکوں میں بھر بھر کر داعش کو کیا چیز بھیجتا رہا؟ دو صحافیوں نے ایسا خطرناک دعویٰ کردیا کہ حکومت نے گرفتار کرلیا

ترکی ٹرکوں میں بھر بھر کر داعش کو کیا چیز بھیجتا رہا؟ دو صحافیوں نے ایسا ...
ترکی ٹرکوں میں بھر بھر کر داعش کو کیا چیز بھیجتا رہا؟ دو صحافیوں نے ایسا خطرناک دعویٰ کردیا کہ حکومت نے گرفتار کرلیا

  

انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) داعش کو اسلحے و گولہ بارود کی فراہمی کے حوالے سے کئی رپورٹس پہلے بھی منظرعام پر آ چکی ہیں جن میں امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ شدت پسند تنظیم کو امداد فراہم کر رہے ہیں مگر اب ترکی کے حوالے سے بھی یہی الزامات سامنے آ گئے ہیں۔ گزشتہ روز ترک پولیس نے ترک روزنامہ ”کم حوریت“ (Cumhuriyet)کے ایڈیٹر ان چیف کین داﺅندر اور اسی اخبارکے انقرہ کے بیورو چیف اردیم گل کو گرفتار کر لیا۔ حکام کی طرف سے دونوں صحافیوں پر جاسوسی اور ملک سے غداری کے الزامات عائد کیے گئے ہیں مگر درپردہ کہانی کچھ اور بتائی جا رہی ہے۔ ترک میڈیا کے مطابق ان دونوں صحافیوں نے ترک پولیس کی نگرانی میں شامی سرحد کی طرف جانے والے ٹرکوں کی ویڈیو بنا کر نشر کر دی تھی۔ ویڈیو میں ترک پولیس اہلکاروں کو ٹرکوں میں موجود ڈبے کھولتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔

مزیدجانئے: جاپان کی تاریخ کی سب سے بڑی بینک چوری جو 44 سال بعد بھی عوام اور پولیس کیلئے معمہ بنی ہوئی ہیں، ایسی تفصیلات کہ عقل دنگ رہ جائے

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان ڈبوں میں اسلحہ و گولہ بارود موجود تھا جو مبینہ طور پر شام میں بشارالاسد کی حکومت کے مخالف گروپوں کو فراہم کیا جانا تھا۔ یہ ویڈیو صحافیوں نے رواں سال 29مئی کو نشر کی تھی۔ صحافیوں پراسیکیوٹرز کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہم پر جاسوسی اور غداری کے الزامات لگائے ہیں۔ ہم نہ تو غدار ہیں نہ ہی جاسوس، اور ہم کوئی ہیرو بھی نہیں۔ ہم محض صحافی ہیں۔ ہم نے جو کچھ کیا وہ ہماری صحافتی ذمہ داری تھی۔ ان دونوں صحافیوں کو ترکی کے ایک کالعدم دہشت گرد گروپ کا رکن ہونے اور ان کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے خود ان دونوں کے خلاف انقرہ کے چیف پراسیکیوٹر آفس میں2جون کو رپورٹ درج کروائی تھی۔

مزید : بین الاقوامی