شام کی صورت حال

شام کی صورت حال

ترکی کی جانب سے روسی طیارے SU-24 کو گرائے جا نے کے بعد پیدا ہو نے والی تلخ صورت حال میں اب ایک حد تک یوں بہتری آرہی ہے کہ ترکی کے صدر طیب اردوان اور وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو کی جانب سے بیا نات سامنے آچکے ہیں کہ ترکی کسی بھی صورت میں روس کے ساتھ کشیدگی نہیں چا ہتا، جبکہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے بھی اپنے بیا نات میں ترکی کے اس اقدام کی بھر پور مذمت کرنے کے ساتھ واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اس واقعہ کو بنیا د بنا کر روس ، ترکی کے ساتھ جنگ نہیں کرے گا،تاہم مشرق وسطیٰ ،خاص طور پر شام کے حالات میں اتنی زیا دہ پیچیدگی آچکی ہے کہ اس نوعیت کے کسی بھی واقعہ کے اثرات کو مکمل طور پر نظر انداز کر نا ممکن نہیں۔سب سے پہلے تو ا س بات کی جانب توجہ دینا ضروری ہے کہ کیا ترکی، روس جیسے ملک کے طیا رے کو محض اپنی منشا پر تبا ہ کر سکتا ہے؟ روس 30ستمبر سے با قاعدہ شامی جنگ میں شریک ہونے کے بعدکئی مرتبہ ترکی کی فضائی سرحد کی خلاف ورزیاں کر چکا ہے جس پر ترکی احتجاج بھی کرتا رہا ۔اس مرتبہ اس نے روسی طیا رے کو تبا ہ کر دیا۔

یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ جب 2012ء میں شام نے فضا ئی سرحد کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر ترکی کے ایک لڑاکا طیا رے کو ما ر گرا یا تو اس وقت ترکی کے وزیر اعظم طیب اردوان نے شدید احتجاج کر تے ہو ئے کہا تھا کہ سرحد کی معمولی خلا ف ورزی پر طیا رے کو تباہ کر نا درست نہیں، مگر اب ترکی نے معمولی سرحدی خلاف ورزی پر روسی طیا رہ ما رگرا یا،جبکہ روس کا دعوی ٰہے کہ اس نے سرے سے خلاف ورزی کی ہی نہیں۔مغربی میڈیا کے کئی حلقے یہ دعوی ٰکرتے ہیں کہ نیٹو ملک کا رکن ہونے کی حیثیت سے ترکی نے امریکہ کو اعتما د میں لیا تھا کہ اگر روس کی جانب سے اس کی فضا ئی سرحد کی خلاف ورزی کی گئی تو وہ اس کا طیا رہ مارگرائے گا۔ امریکہ نے بھی ترکی کو اس اقدام کے لئے بھر پور آشیر با د دی۔فرانسیسی صدر اولاند کے ساتھ پریس کا نفرنس میں امریکی صدر اوباما نے ترکی کی جا نب سے روسی طیا رہ ما ر گرائے جانے کی بھر پو ر حما یت کی ۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹالن برگ نے بھی ترکی کے اس اقدام کی حما یت کی،جبکہ نیٹو کے لئے امریکہ کے سابق سفیرنکولس برنز نے کسی لگی لپٹی کے بغیر یہ بیا ن دیا کہ روس کا طیارہ گرا کر ترکی نے امریکی پراکسی کا ہی کردار ادا کیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے بھی ایک بیا ن میں کہا ہے کہ روسی طیا ر ے کو گرانے پر ترکی کو امریکی آشیر با د حاصل تھی۔ یہاں یہ دیکھنا بھی ضرو ری ہے کہ روسی طیارے کو ما ر گر انے کی ٹائمنگ کیا ہے؟

13نومبر کو پیرس حملوں کے فو راً بعد فرانسیسی صدر اولاند کی جانب سے واضح اعلان کیا گیا کہ اب داعش پر حملوں کے لئے فرانس ، روس کے ساتھ بھی بھر پو ر تعاون کرے گا۔یہی وہ اعلان تھا جس سے واشنگٹن ڈی سی میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔جب 30ستمبر2015ء کو روس نے با قاعدہ طور پر شامی خانہ جنگی میں شریک ہو کر اپنے اتحا دی بشار ا لاسد کو بچانے کے لئے کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا تو امریکہ نے اعلانیہ طور پر شام کی خانہ جنگی میں روسی مداخلت کی مخالفت کی ۔ امریکہ کو معلوم تھا کہ روس داعش پر حملوں کے ساتھ ساتھ اسد مخا لف’’ آزاد شامی فوج‘‘ النصرہ فرنٹ،آرمی آف کنکوسٹ،احرار الشام اور چیچنیا کے جہا دی گروپ جیسی مسلح تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کر ے گا، جن کو امریکہ اور اس کے عرب اتحادی شام میں امداد فراہم کر رہے ہیں۔یوں مشرقی یورپ کے بعد روس اب مشرق وسطیٰ میں بھی امریکی سامراجی عزائم میں رکا وٹ ثابت ہو نے لگا۔ایسے میں روس کو اگر فرانس کا تعاون بھی مل جا تا تو شام کی حد تک امریکی عزائم نا کام ہو جاتے۔

ابھی فرانس، روس کے ساتھ تعاون کا ہا تھ بڑھا ہی رہا تھا کہ نیٹو کے رکن ملک ترکی کی جا نب سے فضائی خلاف ورزی پر روسی طیا رہ ما ر گرائے جانے کا ڈرامائی واقعہ ہو گیا، جس سے نیٹو اور روس کے تعلقا ت کشیدہ ہو گئے۔مشرق وسطیٰ میں فرانس اور روس کے تعاون سے امریکی عزائم کو کس قدر نقصان ہو تا، اس کا ایک ثبو ت 24نومبر کو امریکہ کے ایک ایسے اہم تھنک ٹینک ،جس کا امریکی افواج اور انٹیلی جنس اداروں سے قریبی رابطہ ہے۔۔۔ Center for Strategic and International Studies (CSIS)۔۔۔کی ایک رپورٹ میں ملتا ہے۔ اس تھنک ٹینک کی سینئر نا ئب صدر ہیتھر کونلے نے رپورٹ میں فرا نسیسی صدر اولاند کو داعش کے خلاف روس کا تعاون حاصل کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنا یا۔اس رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ شام کے مسلئے پر روس کے ساتھ اتحا د کسی بھی صورت میں امریکی مفا دات کے مطابق نہیں ہے۔رپورٹ میں تسلیم بھی کیا گیا ہے کہ اب ترکی کی جانب سے روسی طیا رہ ما ر گرائے جانے کا ایک مثبت اثر یہ ہو گا کہ شام کے مسئلے پر روس اور فرانس کے تعاون کی کوششیں بھی ختم ہو جا ئیں گی۔اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ روسی طیا رہ گرانے اور نیٹو کے ساتھ روس کی کشیدگی کا فائدہ امریکہ کو ہی ہوا ہے۔

مشرق وسطی ٰمیں جہاں تک روس کے کردار کا تعلق ہے تو روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی پالیسی سے وا ضح ہے کہ وہ مشرقی یو رپ کے بعد اب مشرق وسطیٰ میں بھی روس کے لئے سوویت یو نین کے دور جیسا اثرو رسوخ حا صل کرنے کے خواہاں ہیں۔سوویت دور کے اتحادی شام کو بچا نے کے ساتھ ساتھ پو ٹن چیچنیاکے ایسے جہا دی گروپ، جو اس وقت شام میں بشارلا اسدکے خلاف دیگر گرو پوں کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں ،ان کو ختم کرنا چا ہتے ہیں۔روس جانتا ہے کہ اگر امریکی اور سعو دی معا ونت سے جہادی گروپ بشا ر الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے میں کا میا ب ہو گئے تو اس سے چیچنیامیں روس مخالف جہا دی تنظیمو ں کو بھی ایک طرح سے تقویت حاصل ہو گی۔روس کے کردار کو دیکھتے ہو ئے یہ با ت بھی مدنظر رکھنا ضرو ری ہے کہ روسی صدر و لا دیمیر پو ٹن روس میں انتہا ئی سخت آمرانہ پا لیسیاں اپنا ئے ہو ئے ہیں۔ پو ٹن کسی بھی طر ح کی مخا لفت کو برداشت کرنے کے روادار نہیں ۔ روسی عوام کی توجہ حا صل کرنے کے لئے وہ روسی قوم پر ستی کا سہا را لے رہے ہیں۔

کسی بھی سامراجی ملک کی طرح روس کی خارجہ پالیسی بھی اخلاقی اصولوں پر استوار نہیں، بلکہ اپنے سامراجی عزائم کے لئے ہی ہے،تاہم اگر مشرق وسطیٰ کی بات کی جائے تو حالیہ تاریخ میں مشرق وسطیٰ کو جتنا نقصان امریکی پالیسیوں سے پہنچا ہے ،اتنا اور کسی سے نہیں پہنچا۔ماضی میں جانے کے بجا ئے اگر صرف حال پر ہی نظر ڈالی جائے تو آسانی سے معلوم ہو جا ئے گا کہ شام کی موجودہ تبا ہی میں امریکی کردار کلیدی ہے۔ شام میں محض بشار ا لاسدکی حکومت ختم کرنے کے لئے امریکہ ایسے دہشت گرد گروپس کو معا ونت فراہم کر رہا ہے جو کل کو اس پو رے خطے کے لئے تباہی کا با عث بنیں گے۔اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا دوہرا معیا ر بھی عیاں ہو تا ہے۔ ایک طرف وہ دنیا سے تما م جہادی تنظیموں کو ختم کرنے کی بات کرتا ہے، مگر دوسری طرف اپنے مفا دات کے لئے کئی جہا دی گروپوں کو حما یت بھی فراہم کر تا ہے۔ *

مزید : کالم