فلور ملز مالکان کی دھمکی: حکومت مذاکرات کرے!

فلور ملز مالکان کی دھمکی: حکومت مذاکرات کرے!

حکومت نے فاضل گندم کی وجہ سے فلور ملز مالکان کو 12لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کی اجازت دی جو ان کو پسند نہیں آ رہی وہ آٹا، سوجی اور میدہ برآمد کرنا چاہتے ہیں ۔ اس سلسلے میں کئی مطالبات پیش کئے اور عذر تراشے جا رہے ہیں، اب فلور ملز مالکان کی طرف سے دھمکی دی گئی ہے کہ اگر ان کی خواہش کے مطابق تمام معاملات طے نہ کئے گئے تو وہ 2دسمبر سے ملیں بند کر کے تالہ بندی پر غور کریں گے۔ ان کا ایک الزام یہ بھی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی پالیسی میں فرق ہے۔جہاں تک فلور ملز مالکان کا تعلق ہے تو یہ منافع خوری پر آمادہ ہیں، آٹے، میدے اور سوجی کے نرخ کم از کم تین بار بڑھائے گئے اور پھر ایسا ہی ارادہ محسوس ہوتا ہے۔ حکومت ایک پالیسی کے تحت کام کرتی ہے تو اسے مطالبات پیش کرنے والوں کے کسی حتمی اعلان سے قبل مذاکرات کر لینا چاہئیں، ان فلور ملز کی طرف سے نرخ بڑھانے کے باعث بازار میں روٹی اور نان مہنگے فروخت ہونے لگے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور نان بائیوں کے درمیان الگ کشمکش شروع ہو چکی ہے۔حکومت (وفاقی+صوبائی) کو اس سارے عمل کا فوری نوٹس لینا چاہئے کہ ایسی حرکت کا بوجھ بالآخر عوام پر ہی منتقل ہوتا ہے۔ بادی النظر میں فلور ملز مالکان منافع خوری کی فکر میں ہیں، پھر بھی کوئی مسئلہ پیدا ہونے سے پہلے مذاکرات بری بات تو نہیں، ایسا کر لینا چاہئے۔

مزید : اداریہ