پولنگ کے روز فوج کی تعیناتی کا مسئلہ

پولنگ کے روز فوج کی تعیناتی کا مسئلہ

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ حلقہ این154(لودھراں) کے ضمنی انتخاب کے موقع پر فوج تعینات کی جائے۔ یہ ضمنی الیکشن23دسمبر کو ہو رہا ہے۔اس سے پہلے بھی عمران خان پولنگ سٹیشنوں پر فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں پورے مُلک یا کسی صوبے میں بیک وقت انتخاب ہو رہے ہوں تو انتظامیہ کے لئے ایسے مطالبے کو پورا کرنا شاید ممکن نہیں ہوتا، لیکن ایک حلقے کے ضمنی انتخاب میں جو ایک محدود علاقے میں ہو رہا ہوتا ہے، ایسا مطالبہ ماننے میں چنداں مضائقہ نہیں۔ اگر عمران خان کا یہ مطالبہ پورا کر کے اُنہیں آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف الیکشن کے حوالے سے مطمئن کیا جا سکتا ہے، تو ہمارے خیال میں یہ مطالبہ ضرور مان لینا چاہئے۔ اگرچہ فوج کی تعیناتی محض امن و امان قائم رکھنے تک ہی محدود ہو گی تاہم اگر عمران خان کے لئے اس میں اطمینان کا پہلو ہے تو یہ مطالبہ مان کر اُن کے اطمینان کا سامان کر دینا چاہئے۔

ادھر سندھ کی صوبائی حکومت نے الیکشن کمیشن سے باضابطہ درخواست کر دی ہے کہ کراچی کے چھ اضلاع میں 5 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کے موقع پر فوج تعینات کی جائے، کراچی کے مخصوص حالات کے پیش نظر الیکشن کمیشن کو سندھ حکومت کے اس مطالبے پر بھی غور کرنا چاہئے۔ اگرچہ کراچی کے حالات بہتر ہیں تاہم اب بھی وہاں اکا دکا وارداتیں ہو جاتی ہیں، چند روز پہلے رینجرز کی موبائل کو نشانہ بنایا گیا، ان حالات میں سندھ حکومت کی درخواست قابل پذیرائی ہونی چاہئے، تاکہ الیکشن والے روز امن و امان قائم رکھنے میں مدد مل سکے، کراچی گنجان آبادی کا شہر ہے اور ایک شہر چھ ضلعوں میں تقسیم ہے، اس لئے فوج کا شہر میں تعین کرنا ضروری ہے۔

مزید : اداریہ