چودھری نثار علی اِن ارکان پارلیمنٹ کے نام بھی بتائیں

چودھری نثار علی اِن ارکان پارلیمنٹ کے نام بھی بتائیں

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ارکانِ پارلیمینٹ نے نادرا میں غیر ملکی بھرتی کرائے، قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا مَیں نے اپنا سر پھوڑا ہے، لیکن اِس گند کو صاف کرنے کے لئے ایوان کی حمایت چاہئے، شناختی کارڈ صرف پاکستانیوں کا حق ہے، جو غیر ملکی بنوائے گا جیل جائے گا،اسے چھڑانے والا بھی جیل جائے گا۔ ایک لاکھ شناختی کارڈ بلاک کئے ہیں، دو ہزار بدعنوان ملازمین فارغ کئے گئے ہیں، پاسپورٹ ڈائریکٹریٹ کو مافیا نے جکڑ رکھا ہے، پاسپورٹ اب چار دن میں ملے گا، مُدت دس سال ہو گی۔ آئندہ سال73 نئے پاسپورٹ آفس قائم کئے جائیں گے۔وزیر داخلہ نے قومی اسمبلی کے ارکان کو یہ تو بتا دیا کہ بعض ارکانِ پارلیمینٹ نے غیر ملکیوں کو نادرا میں بھرتی کرایا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہ ارکانِ پارلیمینٹ کون تھے اور کیا یہ اب تک ایوان کے رکن ہیں یا اب سابق ہو چکے۔ چودھری نثار علی خان کو یہ وضاحت بھی کر دینی چاہئے تھی کہ اِن غیر ملکیوں کو ملازمت کے لئے نادرا جیسا حساس ادارہ ہی کیوں پسند آیا اور اِس خاطر وہ یہاں تک گئے کہ انہوں نے ارکانِ پارلیمینٹ تک بھی رسائی حاصل کر لی اور اُنہیں سفارش کرنے پر بھی آمادہ کر لیا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کوئی پورا نیٹ ورک ہے، جو پاکستانی شناختی کارڈوں اور پاسپورٹوں کا کاروبار کرتا ہے یہ کاروبار خاصا منافع بخش ہے اور اِس کے ڈانڈے انسانی سمگلروں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ جو دنیا بھر میں انسانوں کو مختلف روٹوں کے ذریعے سمگل کرتے ہیں،چودھری نثار علی خان نے یہ بھی بتایا کہ پاسپورٹ ڈائریکٹریٹ کو مافیا نے جکڑ رکھا ہے اُنہیں اُن اقدامات کی تفصیل بھی بتانی چاہئے، جو ان کی جانب سے پاسپورٹ ڈائریکٹریٹ کو مافیا کی جکڑ بندی سے آزاد کرانے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس مقصد کے لئے ارکانِ پارلیمینٹ کا جو تعاون طلب کیا ہے ، معلوم نہیں وہ اُنہیں ملتا بھی ہے یا نہیں۔

پاکستان میں افغان مہاجرین نے بڑی تعداد میں شناختی کارڈ بنا رکھے ہیں،ان میں سے زیادہ تر لوگ خیبرپختونخوا میں آباد ہیں، وہاں مختلف نوعیت کے کاروبار کرتے ہیں، اندرون مُلک اُن کا کاروبار پاکستان کے کئی شہروں تک پھیلا ہوا ہے اور بعض صورتوں میں بیرون مُلک بھی ہے۔ان میں سے بعض لوگ منشیات وغیرہ کی سمگلنگ میں بھی ملوث پائے جاتے ہیں اور جب بیرونِ مُلک پکڑے جاتے ہیں تو پاکستانی پاسپورٹ کی وجہ سے ان کا تعارف اِسی حوالے سے ہوتا ہے، شکل و شباہت اور مقامی زبان بولنے کی وجہ سے پشاور اور خیبرپختونخوا کے دوسرے شہروں میں گھومتے پھرتے ہوئے اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ لوگ افغان ہیں یا پاکستانی، مزید براں اِن کے پاس چونکہ پاکستانی شناختی کارڈ بھی ہوتا ہے اس لئے کوئی ان کی پاکستانیت کو چیلنج بھی نہیں کر سکتا، کیونکہ شہریت کا ثبوت تو شناختی کارڈ ہی ہوتا ہے، جو انہوں نے کسی نہ کسی طرح بنوا لیا ہوتا ہے، اب اگر آپ کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہے تو پھر آپ پاکستانی پاسپورٹ بھی آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں، کیونکہ پاسپورٹ تو شناختی کارڈ کی بنیاد پر ہی ملتا ہے۔وقتاً فوقتاً یہ خبریں منظرِ عام پر آتی رہتی ہیں کہ جعلی شناختی کارڈ بناتے ہوئے نادرا کا کوئی ملازم پکڑاگیا، جو لوگ یہ دھندا کرتے ہیں اُن کا بھی ایک پورا مافیا ہے، پاسپورٹ ڈائریکریٹ کو جکڑنے کا تذکرہ تو خود چودھری نثار علی خان نے کر دیا۔ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ نادرا کو بھی تو کہیں کسی مافیا نے نہیں جکڑ رکھا، جعلی شناختی کارڈ بنانے کا کاروبار صرف وہی غیر ملکی نہیں کرتے، جنہوں نے ارکانِ پارلیمینٹ کی سفارش سے نادرا میں ملازمتیں حاصل کیں، دوسرے بہت سے پاکستانی ملازمین بھی اس میں ملوث ہیں اور اگر تحقیقات ہو تو بہت سے لوگ شریک ِ جُرم پائے جائیں گے۔

جہاں تک پاسپورٹ کا تعلق ہے بہت سے ایسے لوگوں نے سرکاری اور ڈپلومیٹک پاسپورٹ بنا رکھے ہیں، جو نہ تو سرکاری ملازم ہیں اور نہ ہی اُن کا یہ استحقاق ہے کہ وہ ڈپلومیٹک پاسپورٹ بنوائیں،لیکن وہ ارکانِ پارلیمنٹ کی ہی سفارش سے ایسے پاسپورٹ بنوا لیتے ہیں، سابق دور میں بعض بااثر وزراء بھی اس کام میں ملوث تھے، ان پاسپورٹوں کا وہ بعد میں غلط استعمال کرتے ہیں۔ بعض ارکانِ پارلیمینٹ نے اپنی جماعت کے دورِ حکومت میں اپنے علاقوں میں پاسپورٹ آفس بھی بنوائے، حالانکہ ان سے بڑے شہروں میں بھی یہ سہولت دستیاب نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ارکانِ پارلیمینٹ کا یہ استحقاق بھی ہے کہ وہ اپنے ووٹروں اور حامیوں کو خوش کرنے کے لئے غیر قانونی طریقوں سے یا کم از کم میرٹ کے بالکل برعکس پاسپورٹ آفس بنوا لیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر کسی نے درست طور پر ڈپلومیٹک پاسپورٹ بھی بنوا لیا تو اپنی یہ حیثیت ختم ہونے کے بعد نہ صرف یہ پاسپورٹ واپس نہیں کیا، بلکہ بعدازاں اِس کا غلط استعمال بھی کرتے رہے۔

چودھری نثار علی خان نے اعلان کیا ہے کہ ارجنٹ پاسپورٹ اب چار روز میں بنا دیا جائے گا، جبکہ عام پاسپورٹ دس روز میں ملے گا، اِس فیصلے پر اگر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے تو اس سے عوام الناس کو سہولت میسر آ سکتی ہے۔ اِس وقت تو صورتِ حال یہ ہے کہ ارجنٹ پاسپورٹ بھی مقررہ وقت میں نہیں ملتا اور عام پاسپورٹ کے حصول میں تو کئی کئی ہفتے لگ جاتے ہیں۔ پاسپورٹ کے حصول کے لئے بینکوں میں فیس جمع کرانے کا مرحلہ بھی ایک ہفت خواں طے کرنے کے مترادف ہوتا ہے اور مقررہ بینکوں کی برانچوں کے باہر لمبی لمبی قطاریں محض فیس جمع کروانے کے لئے لگی ہوتی ہیں، مافیا نے اپنے کارندے ان بینکوں کے باہر چھوڑ رکھے ہیں، جو زائد رقم کے عوض آپ کی فیس ترجیحی بنیاد پر جمع کرانے کی پیشکش کرتے ہیں عموماً لوگ ان کی خدمات سے اس لئے فائدہ اُٹھا لیتے ہیں کہ کئی گھنٹے قطار میں لگنے سے یہ طریقہ بہتر ہے۔ اب تو ای گورننس کا دور ہے کیا یہ ممکن نہیں کہ بینکوں کو پاسپورٹ فیس آن لائن جمع کروا دی جائے۔اِسی طرح پاسپورٹ فارم بھی آن لائن جمع کرایا جا سکتا ہے۔ بہت سے غیر ملکی سفارت خانے ویزا درخواستیں آن لائن ہی طلب کرتے ہیں یہی سسٹم پاسپورٹ کے لئے بھی اپنایا جائے تو لمبی لمبی قطاروں کا کلچر ختم ہو سکتا ہے، لیکن ایسے لگتا ہے کہ عوامی خدمت کے یہ ادارے عوام کو بدستور ماضی میں زندگی گزارنے پر مجبور رکھنا چاہتے ہیں۔وزیر داخلہ نے قومی اسمبلی میں جن امراض کی نشاندہی کی ہے اب اُن کا علاج بھی اُنہیں کے ذمے ہیں۔ وہ اگرچہ اپنے بقول اپنا سر پھوڑتے رہتے ہیں، لیکن ضرورت اِس امر کی ہے کہ وہ اپنے ماتحت اداروں میں اپنے جیسے چند اور لوگ بھی تلاش کر لیں، جو اُن کے ساتھ مل کر سر پھوڑنے کے لئے آمادہ ہوں۔ سر پھرے آج بھی مِل سکتے ہیں، بس تلاش اور جستجو شرط ہے، ڈھونڈنے والوں کو تو دُنیا بھی نئی مل جاتی ہے۔ چودھری نثار علی خان مایوس نہ ہوں۔

مزید : اداریہ