صحافیو ں پر تشدد کرنے والے سرکاری اہلکارو ں کے خلافکارروائی نہ ہوسکی

صحافیو ں پر تشدد کرنے والے سرکاری اہلکارو ں کے خلافکارروائی نہ ہوسکی

لاہور(اپنے نمائندے سے)محکمہ ریونیو کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور کی جانب سے صحافیوں کو بدتمیزی سے کمرے سے اٹھانے ،کیمرے توڑنے کی مبینہ ویڈیوں کے بعد اے ڈی سی آر کے سٹاف کی جانب سے صحافیوں کی ٹانگیں توڑنے ،کچہری میں داخلے کی پابندی جیسی دھمکیاں دینے والے بااثر سرکاری افسر اور ملازمین کے خلاف تاحال کارروائی نہ کی جاسکی،معلومات کے مطابق 12روز پہلے ضلع کچہری میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور عرفان نوازمیمن کے سٹاف کی صحافیوں سے بدتمیزی اور تشدد کے افسوسناک واقعہ کے بعد پولیس ابھی تک مقدمہ درج کرنے سے پہلو تہی سے کام لے رہی ہے ،بااثر افسر کا صحافیوں سے ہتک آمیز رویہ، زبردستی اپنے کمرے سے نکالنے اور کیمرے چھیننے کے واضح احکامات کی مبینہ ویڈیوں کے منظرعام پر آنے کے بعد ریونیو سٹاف کے کلرک بادشاہ ملک ربانی اور ریاض حسین نے بھی اپنے آقا کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ضلع کچہری میں آنے والے صحافیوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں،گریبان پکڑنے اور ٹانگیں توڑنے کا عندیہ دینے کے ساتھ ڈی سی او لاہورکیپٹن (ر )محمد عثمان کو بھی ڈائریکٹ مخاطب ہو کر دھمکی دی کہ اگر اب ڈی سی او صاحب نے کسی بھی اخباری تراشے کی خبر پر کسی اہلکار کے خلاف کاروائی کی تو ڈی سی او کے خلاف بھی بھرپور احتجاج کیا جائے گا،جس کی مبینہ ویڈیوز بھی منظر عام پر آنے کے باوجود پولیس نے اب تک ملزمان کے خلا ف مقدمہ درج نہ کیا ہے ،۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کمشنر لاہور عبداللہ سنبل اور ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر)محمد عثمان نے بھی ابھی تک نوٹس نہیں لیا ۔ صحافی برادری کا کمشنر لاہور عبداللہ خان سنبل ،ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر)محمد عثمان آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا اور سی سی پی او لاہور امین وینس سے اپیل سے مطالبہ ہے کہ صحافیوں پر تشدد کے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے جلد از جلد قانونی کارروائی کی جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1