امتیازی قوانین، گونگی فاطمہ حسن اے ٹی ایم کارڈ سے محروم

امتیازی قوانین، گونگی فاطمہ حسن اے ٹی ایم کارڈ سے محروم

لاہور(ڈی این ڈی) بولنے کی صلاحیت سے محروم 23سالہ فاطمہ حسن کو معلوم نا تھا کو قسمت کی ستم ظریفی کے ساتھ ساتھ ملک میں رائج قوانین بھی اس کے عزم وحوصلے اور کامیابیوں کی راہ میں رکاوٹ بن کر سامنے آ جائیں گے۔فاطمہ نے معاشرے اور اپنی فیملی پر کسی قسم کا بھی بوجھ بننا گوارا نہ کیا اور اپنی سخت محنت اور خود اعتمادی کے ساتھ لاہور کی بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی سے بصری مواصلات ڈیزائن میں گریجویشن کی۔تعلیمی میدان میں کامیابیاں سمیٹنے کے بعد فاطمہ حسن نے پیشہ وارانہ زندگی میں بھی قدرت کی جانب سے عطا کردہ ہر نعمت کے حامل افراد کی طرح پر اعتماد انداز میں جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔تاہم جب فاطمہ نے ملک میں میسر سہولیات اور آسائشوں سے استفادہ کرنا چاہا تو بے رحم معاشرہ اور امتیازی قوانین راہ میں حائل ہو گئے۔فاطمہ نے ایک نجی بینک ’’بینک الحبیب‘‘ میں اپنا بینک اکاؤنٹ کھلوایالیکن جب اس نے اے ٹی ایم کارڈ کے لئے درخواست دی تو وہ رد کر دی گئی۔بینک حکام کے مطابق فاطمہ گونگی ہونے کی باعث بینک کی طرف سے اے ٹی ایم کارڈ کے حصول کے لئے مقرر کردہ طریقہ کار پر مکمل طور پر عمل پیرا نہیں ہو سکتیں لہذا انہیں اے ٹی ایم کارڈ نہیں دیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ بینک کسی بھی فرد کو اے ٹی ایم کارڈ فراہم کرنے سے پہلے اس فرد کی جانب سے دی گئی تفصیلات کی زبانی طور پر تصدیق کرتا ہے جس کے بعد ہی متعلقہ فرد کویہ سہولت فراہم کی جاتی ہے۔لیکن چونکہ فاطمہ حسن زبانی طور پر درکار معلومات کی تصدیق کرنے سے قاصر تھی لہذا بینک نے اسے اے ٹی ایم کارڈ جاری کرنے سے معذرت کر لی۔تاہم بینک نے فاطمہ کو آفر کی کہ اگر وہ جوائنٹ اکاؤنٹ کھلواتی ہیں تو انہیں اس صورت میں اے ٹی ایم کارڈ جاری کیا جا سکتا ہے۔پاکستانی معاشرہ فاطمہ جیسی مثالوں سے بھرا پرا ہے جہاں قدرتی طور پر معذور افراد کے ساتھ امتیازی سلوک بر تا جا تا ہے۔لیکن دوسری طرف دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو بلا کسی تفریق کے مساوی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کا حکم دیتا ہے لیکن اس کے باوجود اسٹیٹ بینک کی جانب سے دیگر بینکوں کے لئے بنائے گئے قوانین پاکستان کے آئین کے منافی ہیں۔لہذا اسٹیٹ بینک کو چاہئے کو وہ اپنے قوانین میں فی الفور ترامیم کرے تاکہ معاشرے کے تمام افراد کو یکساں حقوق حاصل ہو سکیں۔

مزید : صفحہ اول