بھارتی جیولری کی نمائش کیخلاف جیولرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کی دھمکی

بھارتی جیولری کی نمائش کیخلاف جیولرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کی دھمکی

لاہور(کامرس رپورٹر)آل پاکستان جیم مرچنٹ اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے سارک ینگ ٹریڈرز اور وویمن انٹرپرینورز کی آڑ میں بھارتی جیولری کی دسمبر میں نمائش کیخلاف ملک گیر احتجاج کی دھمکی دیدی ہے اور کہا ہے کہ مفاد پر ست مافیاپا کستان کو کنزیو مر سو سائٹی کی طرف دھکیل کر ملکی انڈسٹری کو تباہ کر نے کی سازش رچا رہے ہیں۔لاہور میں ہونے والی نمائش کا نام اور مقاصد اور ہیں جس کے لیے100ڈالر والا سٹال انڈیا میں ایک ہزارڈالر میں بک کیاجارہا ہے، حکومت جیولری کی صنعت کو بچائے، بھارتی تاجر آئے تو ایکسپو کے سامنے دھرنادیاجائیگا۔گزشتہ روز لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک بھر سے آئے عہدیداروں مظہر سعید، حاجی طاہر نوید،شیخ معین الدین، شہزاد اقبال، رضوان شمسی، میاں طارق فیروز، حافظ عطاء الرحمن، معظم وحید ، سلمان حنیف اور حاجی رشید کا کہنا تھا کہ ایکسپو سینٹر لاہور میں 4تا 6دسمبر سارک ینگ ٹریڈرز اور وویمن انٹرپرینورز کی نمائش کی آڑ میں بھارتی جیولری کی نمائش منعقد ہورہی ہے، اس نمائش میں بھارتی زیورات کی صنعت اور ان کے پاکستانی ایجنٹوں کی ملی بھگت سے 9اور14کیرٹ کے غیر معیاری زیورات انتہائی مہنگے داموں پر پاکستانی امراء کو فروخت کئے جائیں گے، بھارتی جیولر مافیا تمام سامان پاکستانی وی آئی پی پروٹوکول کے ذریعے بغیر کسٹم اورسیلز ٹیکس ادا کئے پاکستانی خریداروں کو بیچنا چاہتی ہے۔ تمام بلیک منی کو ہنڈی کے ذریعے غیر ملکی کھاتوں میں منتقل کردیاجائیگاجیسا کہ پچھلے سال بھی نمائش کے موقع پر کیاگیاگیا تھا۔ ایک طرف بھارتی حکومت پاکستانیوں کیساتھ شرمناک سلوک کررہی ہے تو دوسری طرف پاکستان میں معاملات ملکی مفاد کیخلاف چل رہے ہیں ۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ایک ارب ایکسپورٹ والی جیولری کی صنعت صرف دو سال میں ہی دو سو ملین پر آگئی ہے ، دس لاکھ سے زیادہ لوگ پاکستان میں اس صنعت سے وابستہ ہیں لیکن حکومت کو اس کا ادراک نہیں ہے۔ ایکسپو سینٹر میں ہونیوالی جیولری نمائش پر ہمارے تحفظات ہیں کیونکہ یہ جیولری کی نمائش ہے ہی نہیں ۔ ہم نے ارباب اختیار چیمبرز، وفاقی وزراء سب کوخط لکھے لیکن کسی کے پاس جواب دینے کا وقت نہیں ہے اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ باہمی مشاورت سے علامتی ہڑتال کریں گے اور نمائش کے موقع پر ایکسپوسینٹر کے باہر دھرنا دیں گے۔علاوہ ازیں پر یس کانفرنس کے بعد کثیر تعدادمیں جیو لرز انڈسٹری سے وابستہ افراد نے ہونے والی نمائش کے خلاف شد ید احتجاج کر تے ہوئے گو انڈ یا اور نو انڈیا کی نعرہ بازی کی ۔ سوالات کے جوابات دیتے ہوئے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ 100ڈالر والا سٹال انڈیا میں ایک ہزار ڈالر میں کیوں بیچا جارہا ہے اور اس کے پیچھے کن سیاسی افسران کی بیگمات ہیں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ انکا کہنا تھا کہ گیس، بجلی، ٹیکس بحران کے باعث پاکستانی جیولری کی صنعت روبہ زوال ہے ۔ عام شہریوں کو اس نمائش کے ذریعے لوٹا جائیگا ایک کروڑ والے بھارتی سیٹ کی قیمت بعد از فروخت پچاس لاکھ نہیں رہتی جبکہ وہ مرمت کے قابل بھی نہیں ہوتا اس کے باوجود ملی بھگت سے یہ سب کچھ کیاجارہا ہے جس پر ہم سراپا احتجاج ہیں اور جلد اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

مزید : صفحہ آخر