سپریم کورٹ،حکم تحریر کروانے کے دوران مداخلت ، سینئر وکیل کی سخت سرزنش

سپریم کورٹ،حکم تحریر کروانے کے دوران مداخلت ، سینئر وکیل کی سخت سرزنش

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ نے عدالتی حکم تحریر کروانے کے دوران مداخلت پر سینئر وکیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ وکلاء عدالتی روایات بھول گئے ہیں جسے برداشت نہیں کیا جاسکتا۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مسٹرجسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے یہ ریمارکس اس وقت دیئے جب جسٹس میاں ثاقب نثار بلدیاتی انتخابات کے ایک امیدوار کی درخواست میں فیصلہ تحریر کروا رہے تھے، فاضل جج فیصلہ لکھوانے لگے تو درخواست گزار کے وکیل الطاف ابراہیم نے مداخلت کر دی، جس پر جسٹس میاں ثاقب نثار نے سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سینئیر وکیل ہونے کے باوجود یہ علم ہی نہیں کہ جب آرڈر لکھوایا جا رہا تو اس دوران خاموشی اختیار کی جائے،عدالتی روایات نظر انداز کرنے پر کیوں نہ شوکاز نوٹس جاری کر کے وکالت کا لائسنس معطل کر دیا جائے۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکلاء عدالتی روایات کا پتہ بھول گئے ہیں سپریم کورٹ کو سول کورٹ نہ سمجھا جائے جہاں خاتون ججوں کی عدالتوں کو تالے لگا کر بند کر دیا جاتا ہے،آئندہ ایسی کسی چیز کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔عدالت نے وکیل کی جانب سے معافی مانگنے پر مزید کارروائی ختم کر دی۔

مزید : صفحہ آخر