سیکیورٹی ایجنسیز ناکام ہو چکی، قومی اسمبلی ارکان کی اکرم درانی پر حملے کی شدید مذمت

سیکیورٹی ایجنسیز ناکام ہو چکی، قومی اسمبلی ارکان کی اکرم درانی پر حملے کی ...

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کے اجلاس میں جماعت اسلامی کے ممبر شیر اکبر کی جانب سے کورم کی نشاندہی پر ایوان زیریں کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا ۔ جمعہ کے روز وقفہ سوالات کے بعد جے یو آئی (ف) کے پارلیمانی لیڈر اکرم خان درانی پر حملے میں دو افراد کے جاں بحق ہونے پر اراکین اسمبلی کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ۔ وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے حملے میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے ایوان میں دعائے مغفرت کرائی جے یو آئی ف کے ممبر ڈاکٹر عباد اللہ نے اکرم خان درانی پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سیاستدانوں پر حملوں کو روکنے میں سکیورٹی ایجنسیز ناکام ہوچکی ہیں شیر پاؤ سمیت دیگر اراکین اسمبلی کو بھی دھمکیاں دی جارہی ہیں ایسے اراکین پارلیمنٹ کو سکیورٹی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ جے یو آئی ف کی رکن اسمبلی نعیمہ کشور نے کہا کہ اب حکومت کو سمجھ آجانی چاہیے کہ گھروں میں بیٹھ کر سیاست نہیں ہوتی ہے ہر بار جے یو آئی ف کے اراکین پارلیمنٹ کو ہی ٹارگٹ کیا جاتا ہے علمائے کرام پٹھانوں اور مسجدوں پر حملے کی ذمہ داری اب کس پرڈاتی جائے یہ جے یو آئی کیخلاف سازش ہے جس نے اسلام کی سربلندی اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کیلئے آواز بلند کی حکومت فوری طور پر حملے میں جاں بحق ہونے والوں کیلئے امدادی پیکج کا اعلان کرے اور مربوط سکیورٹی نظام تشکیل دے سپیکرنے کہا کہ امن وامان کے حوالے سے تمام صوبے اپنی ذمہ داری پوری کریں اور وی آئی پی موومنٹ کیلئے خاص انتظامات کئے جائیں ۔ جماعت اسلامی کے شیر اکبر خان نے بات کرنا چاہی تو ڈپٹی سپیکر جاوید مرتضی عباسی نے ان کو روک دیا کہ جے یو آئی ف کی جانب سے اس حوالے سے قرارداد پیش ہونی ہے اس میں موقع دیا جائے گا جس پر شیر اکبر خان نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے علامتی واک آؤٹ کیا ۔ وزیر مملکت برائے پٹرولیم جام کمال نے پیپلز پارٹی کی ممبر ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو کے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیا کہ اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں گیس کی لوڈ شیڈنگ وہاں پر کام میں مرمت کے دوران ہورہا ہے وہاں پر بارہ ہزار کنکشن ہیں ستر فیصد کام مکمل ہوچکا ہے پچاس فیصد بجلی گیس پر حاصل کی جاتی ہے انڈسٹری کو بھی گیس پر چلایا جاتا ہے وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ جونہی وزیر انچارج کابینہ ڈویژن شیخ آفتاب کی جگہ پودوں کی نسل افزائی بل دو ہزار پندرہ پیش کیا تو پیپلز پارٹی کی ممبر شازیہ مری نے کھڑے ہوک شور کرنے لگیں کے رولز کی خلاف ورزی ہورہی ہے ہاؤس کی تعداد پوری نہیں ہے جس پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے اراکین بھی مل کر شور کرنے لگے اور ڈیسک بجانے لگے اس دوران جماعت اسلامی کے رکن شیر اکبر نے کورم پوائنٹ آؤٹ کیا جونہی ایوان میں اراکین کی گنتی شروع ہوئی تو اس دوران پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے سوائے عائشہ گلالئی کے دونوں پارٹیوں کے اراکین ایوان سے اٹھ کر لابی میں چلے گئے بعد ازاں کورم پورا نہ ہونے کے باعث قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا اجلاس ملتوی ہونے پر نیمہ کشور نے آن لائن سے خصوصی گفتگو کرتے شیر اکبر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کا وطیرہ ہے کہ کبھی حکومت کے ساتھ تو کبھی اپوزیشن کے ساتھ مل جاتی ہے ہم نے آج اکرم خان دانی پر حملے کے حوالے سے اہم قرارداد پیش کرنی تھی شیر اکبر قرارداد پیش ہونے کے بعد بات کرلیتا کورم کی نشاندہی کی کیا ضرورت تھی جماعت اسلامی کے اس رویئے پر جے یو آئی ف اور جماعت اسلامی سے شکایت کرونگی واضح رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کی شیریں مزاری نے کورم کی نشاندہی کی تھی جس پر اجلاس ملتوی کردیا گیا تھا۔

مزید : صفحہ آخر