بھتیجی کو چھیڑنے سے منع کرنے پر اوباش نے بھائی اور بھاوج کو قتل کر دیا، 6سال گزر گئے، کب انصاف ملے گا: مدعی چچا

بھتیجی کو چھیڑنے سے منع کرنے پر اوباش نے بھائی اور بھاوج کو قتل کر دیا، 6سال ...

لاہور(کامران مغل )میری بھتیجی کو چھیڑنے سے منع کر نے پرکرایہ دار محمدعمران نے رنجش دل میں رکھتے ہوئے پہلے غلیظ گالیاں دیں ،بعد میں اپنے ساتھی سے مل کرمیرے بڑے بھائی اوربھابی کو صبح سویرے 7بجے فائرنگ کے قتل جبکہ ماں باپ کو بچانے کے لئے آگے بڑھنے والے تین بہن بھائیوں 24سالہ شمائلہ ،18وقارسالہ اور6سالہ طیبہ کو بھی ظالموں نے بے دردی سے گولیاں مار کر لہولہان کردیا ۔گزشتہ 6سال سے عدالتوں میں انصاف ڈھونڈ رہا ہوں ۔بچوں کے اس سوال پررو پڑتا ہوں کہ "چچا"ہمارے ماں باپ کے قاتل کب اپنے انجام کو پہنچیں گے ۔اس ہولناک واقع کو یاد کر کے آج بھی بچے خوف زدہ ہوجاتے ہیں ۔پاکستان کی جانب سے "ایک دن ایک عدالت "کے سلسلے میں کئے جانے والے عدالتی سروے کے دوران ثمن زار کالونی سبزہ زار کے رہائشی محمد سجاد نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کے بارے میں بتایا کہ وہ کرایہ کے مکان کی دوسری منزل میں رہائش پذیر تھا جبکہ اس کے ساتھ اس کا بھائی عبدالزاق اپنی بیوی آمنہ بی بی اور8بچوں،24سالہ شمائلہ ،22سالہ نائلہ، 18سالہ وقار احمد، 16سالہ وقاص احمد،16سالہ اشتیاق ،11سالہ خرم شہزاد،9سالہ حیدر علی اور6سالہ طیبہ کے ساتھ رہتا تھا۔ مکان کی تیسرے منزل پر محمد عمران اپنے دوست محمد فیصل کے ساتھ رہائش پذیر تھا جو کہ اکثر اوقات مبینہ طور پر میری بھتیجی شمائلہ کو چھیڑتا تھا جس پر اسے متعدد بار منع کیا گیا لیکن وہ بعض نہ آیا ،مقدمہ مدعی محمد سجادنے الزام عائد کیاہے۔ 29اکتوبر2009کی صبح 7بجے جب وہ اپنے کمرے سے باہر نکلا تو اس کے سامنے عمران اپنے ساتھی فیصل کے ساتھ اوپر سے سیڑھیا اتر رہا تھا اور اس کے ساتھ میں پستول تھا ،مذکورہ ملزمان نے پہلے غلیظ گالیاں دیں اور بعد میں میرے بھائی عبدالزاق کو سینے پر گولیاں ماریں،شوہرکو بچانے کے لئے آگے بڑھنے والی میری بھابھی آمنہ بی بی کو ملزمان نے پہلے آنکھ اورپھر چھاتی پرگولی ماری ، بعد میں ماں باپ کو خون میں لت پت تڑپتا دیکھ کر جب میری بھتیجی 24سالہ شمائلہ اپنے والدین کو بچانے کے لئے آگے بڑھی تو اسے آنکھ اورکندھے پر گولی مارکر زخمی کردیا گیا ،اسی دوران میرے بھتیجے وقار احمد کو ملزمان نے پیٹ میں جبکہ میری کمسن بھتیجی 6سالہ طیبہ کو بھی فائرنگ کر زخمی کردیا ۔میرا بھائی عبدالزاق اور بھابھی آمنہ بی بی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے جبکہ دیگر زخمیوں کو طبی امداد کے لئے فوری ہسپتال پہنچایا گیا۔ گزشتہ 6سالوں سے عدالتوں میں انصاف کی خاطر چکر لگارہاہوں ،ہرتاریخ پر ناامید ہی گھر لوٹ جاتا ہوں ،مقتول بھائی کے بچے پوچھتے ہیں کہ"چچا"ہمارے ماں باپ کے قاتل کب اپنے کئے کی سزا بھگتے گیں لیکن میرے پاس ان معصوم بچوں کے سوالوں کا جواب دینے کے لئے الفاظ نہیں ہوتے ۔ سفاک ملزموں نے میرے بھائی اور بھابھی کو ناحق قتل کرکے بہت بڑا ظلم کیا ہے ،ظالموں نے میرے بھائی کا خوشیاں بھرا گھر اجاڑ کررکھ دیا ہے ،مقتول بھائی کے بچے آج بھی اس واقع کو یاد کرکے لرز جاتے ہیں لیکن میں انہیں صبر کی تلقین کے سوا کچھ نہیں دے سکتا ۔مذکورہ مقدمہ کے حوالے سے مقدمہ مدعی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ اب اس کیس کی ایڈیشنل سیشن جج محمد نوید اقبال کی عدالت میں سماعت جاری ہے اور گواہوں کی شہادتیں قلمبند کی جارہی ہیں ۔ آئے روز کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر مقدمہ کی تاریخیں لی جاتی ہیں۔

مزید : صفحہ آخر