خواتین کے ووٹ ڈالنے کو لازمی قرار دینے کیلئے قانون سازی نہ ہو سکی

خواتین کے ووٹ ڈالنے کو لازمی قرار دینے کیلئے قانون سازی نہ ہو سکی

لاہور(شہباز اکمل جندران) ملک میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کو لازمی قرار دینے کے لیے قانون سازی نہ ہوسکی۔ کسی بھی قومی ، صوبائی یا بلدیاتی حلقے میں کاسٹ شدہ کل ووٹوں میں خواتین کا ٹرن آؤٹ 10فیصد نہ ہونے پر ایسے حلقے میں دوبارہ الیکشن کروانے کی الیکشن کمیشن کی تجویز بھی ردی کی ٹوکری کی نظر ہوگئی۔ قانون سازی نہ ہونے سے خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا معمول کاحصہ بن گیا 2008 اور 2013کے عام انتخابات کے بعد پنجاب اور سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں بھی بہت سے علاقوں میں خواتین کے پولنگ بوتھ بننے اور خواتین ووٹروں کی فہرستیں موجود ہونے کے باوجود ایک بھی خاتون ووٹر کو اپنا ووٹ کاسٹ کرنے نہ دیا گیا۔بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے۔ جہاں بہت سے علاقوں میں آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ 2008 اور 2013کے عام انتخابات میں خواتین کے پولنگ بوتھ بننے اور خواتین ووٹروں کی فہرستیں موجود ہونے کے باوجود ایک بھی خاتون ووٹر کو اپنا ووٹ کاسٹ کرنے نہ دیا گیا۔ذرائع کے مطابق 2008کے انتخابات میں خواتین کے پولنگ بوتھ بننے اور خواتین ووٹروں کی فہرستیں موجود ہونے کے باوجود ایک بھی خاتون ووٹر نے اپنا ووٹ کاسٹ نہ کیا۔ ان میں پنجاب کے 31پولنگ اسٹیشن ۔سندھ کے11۔ کے پی کے ، کے 478۔ بلوچستان کے 20۔ فاٹا کے 23اور اسلام آباد کاایک پولنگ اسٹیشن شامل ہے۔ مذکورہ 5سو 64 پولنگ اسٹیشنوں کو مد نظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا کہ 2013کے عام انتخابات میں ملک کے ایک ہزار سے زیادہ پولنگ اسٹیشنو ں پر خواتین ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کی مکمل سہولت اور سیکیورٹی فراہم کی جائے۔ لیکن اس کے باوجودخواتین کے ووٹ کاسٹ کرنے کی شرح نہ ہونے کے برابر رہی۔بتایا گیا ہے کہ خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکنے کے حوالے سے سب سے زیادہ کے پی کے کا نام سامنے آتا ہے۔جہاں خواتین کے ووٹ ڈالنے کے عمل کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اور جرگوں یامیٹنگوں میں فیصلہ کیا جاتا ہے کہ خواتین ووٹ نہیں ڈالیں گی۔اور بعد ازاں اس کا مساجد وغیر ہ سے اعلان بھی کیا جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسے حلقوں میں امیدواروں کو خواتین کے ووٹوں کی اہمیت کا احساس دلانے کے لیے تجویز پیش کی تھی کہ جہاں کہیں کل کاسٹ شدہ ووٹوں کا 10فیصد ٹرن آؤٹ خواتین کے ووٹوں پر مشتمل نہ ہو وہاں دوبارہ سے الیکشن کروایا جائے۔ لیکن کمیشن کی اس تجویز پر عمل کرتے ہوئے تاحال اس قانون کی شکل نہیں دی جاسکی۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں بھی پنجاب سندھ کی بعض ایسی یونین کونسلیں اور وارڈ سامنے آئے ہیں۔ جہاں خواتین نے ایک بھی ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔

مزید : صفحہ آخر