صوبائی جیلوں میں بیمار غریب قیدیوں کے لئے سختی، امیر زادوں کو خصوصی مراعات

صوبائی جیلوں میں بیمار غریب قیدیوں کے لئے سختی، امیر زادوں کو خصوصی مراعات

لاہور(رپورٹ،محمد یو نس با ٹھ)صو با ئی دا را لحکو مت میں واقع سینٹرل اور کوٹ لکھپت جیل دو نو ں میں ا بھی تک امیر اور غر یب کا فر ق ختم نہیں کیا جا سکااور پا بند سلا سل امیر زا دو ں و با اثر قید یو ں کو جیل ہسپتا ل میں وی آئی پی کا درجہ دیکر غر یب اسیر و ں کو ایڑ ھیا ں رگڑ رگڑ کر مو ت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے ۔جیل کے اند ر سر کا ر ی ہسپتا ل با اثر قید یو ں کے ریٹر ننگ رو مز میں تبد یل ہو چکے ہیں۔ جبکہ نز لہ ،زکا م ،بخا ر جیسی معمو لی بیما ر یو ں میں مبتلا لا وا ر ث قید ی کسی ابن مر یم کے منتظر ہیں جس سے ان لا وا رث قید یو ں کی ہلا کت دو نوں جیلو ں میں معمو ل بنتی جا رہی ہے ،جو ں جو ں سر دی کی شد ت میں اضا فہ ہو گا قید یو ں کی ہلا کت بھی بڑ ھتی جا ے گی ۔ با خبر زرا ئع سے معلو م ہوا کہ جیلو ں میں غر یبو ں کا کوئی پر سا ن حا ل نہیں ۔جیل انتظا میہ کی غفلت اور لا پر وا ہی سے لا ہو ر کی دو نو ں جیلو ں میں ہر مہینے ایک دو حوا لا تی یا قید ی مو ت کے منہ میں چلے جا تے ہیں ۔جیلو ں میں بہتر ین ہسپتا ل اور میڈ یکل آفیسر ہو نے کے با وجو د قید یو ں اور حوا لا تیو ں کی دیکھ بھا ل اور بیما ر ی پر تو جہ نہیں دی جا تی ۔کیمپ جیل میں 25 سے زائد جبکہ کو ٹ لکھپت میں 35 سے زا ئد بیڈ کے ہسپتا ل ہو نے کے با وجود وہا ں آئے روز قید یو ں اور حوا لا تیو ں کی پر اسرا ر ہلا کتیں انتہا ئی افسو س نا ک اور با عث تشو یش ہیں ۔ذرائع کے مطا بق ہسپتا ل کے وارڈ میں موجو د بیڈ پر صر ف سفارشی لو گو ں کو جگہ دی جا تی ہے ۔غر یب اور بیما ر اسیرا ن کو پہلے تو ہسپتا ل میں داخل ہی نہیں کیا جا تا ،اگر ان کو دا خل کر بھی لیا جا ئے ۔تو انھیں بیڈ نہیں دیے جا تے اور وہ ٹھنڈ ے فر ش پر سونے کے لیے مجبور ہو تے ہیں ۔ اگر یہ کہا جا ئے کہ انھیں زبر دستی فر ش پر لٹا دیا جا تا ہے تو بے جا نہ ہو گا ۔سفارشی اور با اثر اسیرا ن کا جیل انتظا میہ یہا ں تک خیا ل رکھتی ہے ۔کہ ان کے لیے ایمر جنسی کا بہا نہ بنا کر انھیں جیل سے با ہر بھی ہسپتا لو ں میں بھجوا دیا جا تا ہے بلکہ اگر یہ کہا جا ئے کہ مبینہ رشوت کے بل بو تے پر یہ سب کچھ ہو تا ہے تو بے جا نہ ہو گا ۔یہ بھی معلو م ہوا ہے کہ زہنی معزور اسیرا ن کا د ما غی معا ئنہ کروا نے کی بجا ئے انھیں پا گل خا نے کی چکیو ں میں بند رکھا جا رہا ہے ۔جس پر وہ وہیں تڑ پ تڑ پ کر مو ت کے منہ میں چلے جا تے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جا ئے کہ لا ہور کی دو نو ں جیلو ں کا ڈیتھ جیلو ں کا نا م دیا جا ئے تو بے جا نہ ہو گا ۔ہر زبا ن زد عا م ہے کہ جیلو ں میں وارڈر(بیرک انچارج) سے لیکر سپر نٹنڈ نٹ تک کا عملہ مبینہ طور پر کر پشن میں ملو ث ہے ۔ڈی آئی جی جیل خا نہ جا ت لا ہور ریجن ملک مبشر نے اس با ر ے میں مو قف اختیا ر کیا ہے کہ جیلو ں میں آبا دی کے تنا سب سے اموا ت زیا دہ نہیں ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر