سیکورٹی انتظامات نہ بنانے پر پرنسپل اورہیڈ ماسٹر کے وارنٹ جاری

سیکورٹی انتظامات نہ بنانے پر پرنسپل اورہیڈ ماسٹر کے وارنٹ جاری

صوابی(بیوورپورٹ)صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کی روک تھام کے لئے سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کے لئے سرکاری سکولوں اور کالجوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہ کر نے اور چار دیواری اونچا نہ کر نے پر کئی سکولوں و کالجز کے پرنسپل و ہیڈ ماسٹرز کے خلاف ضلع صوابی کی پولیس نے ایف آئی آردرج کر کے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔ کئی تعلیمی اداروں کے سر براہان نے گرفتاری سے بچنے کے لئے مقامی عدالتوں سے قبل از گرفتاری ضمانت کرائی سرکاری تعلیمی اداروں کے سر براہان کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ ادارے سرکاری ہے اس لئے سیکیورٹی کے لئے حکومت اور محکمہ تعلیم کو سکولوں اور کالجز کو فنڈز فراہم کر نی چاہئے لیکن حکومت اور محکمہ تعلیم نے یہ ذمہ داری تعلیمی اداروں کے سربراہان اور انتظامیہ پر ڈالی ہے جو کہ وہ بر داشت کر نے کے قابل نہیں اور نہ ہی ان تعلیمی اداروں کو سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر نے اور چار دیواری اونچا کر نے کے لئے وافر مقدار میں فنڈز موجود ہے۔ دیوار اونچا کر نے اور سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر نے پر کم از کم فی سکول 3لاکھ روپے خرچ آتی ہے جب کہ اکثر تعلیمی اداروں کے سر براہان نے اپنی مدد آپ کے تحت سی سی ٹی وی کیمرے اور چار دیواری اونچا کر دی مگر بعض سکول ایسے ہیں جہاں پر کسی قسم کی کوئی فنڈز موجود ہے وہاں سکول انتظامیہ سیکیورٹی انتظامات کر نے سے مجبوراً قاصر ہے ضلع صوابی کے سیاسی مذہبی جماعتوں ، سماجی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے ان ایف آئی آرز کو انتہائی مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سکولوں کو فنڈز فراہم کر تی نہیں اور سکولوں کے خلاف ایف آئی آرز کاٹتی ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم سے اپیل کی کہ سیکیورٹی انتظامات کے لئے تعلیمی اداروں کو وافر مقدار میں فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور ان اداروں کے سر براہان کے خلاف درج ایف آئی آرز فی الفور ختم کرائیں کیونکہ سیکیورٹی کا انتظام حکومت اور محکمہ ہذا کی ذمہ داری ہے سکول انتطامیہ کی ہے لہٰذا حکومت انصاف سے کام لیں #

مزید : پشاورصفحہ اول