حساس ادارے کے اہلکار کو قتل کرنے کے مقدمہ میں سزائے موت پانیوالے کو بری کرنے کا حکم

حساس ادارے کے اہلکار کو قتل کرنے کے مقدمہ میں سزائے موت پانیوالے کو بری کرنے ...

ملتان( خبر نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ کے ڈویژن بنچ نے حساس ادارے کے اہلکار کو قتل کرنے کے مقدمہ میں سزائے(بقیہ نمبر41صفحہ7پر )

موت پانے والے ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے بری اپیل دائر کی تھی کہ 20 جولائی 2009 ء کو مدعی دولا نے تھانہ صدر بوریوالا میں مقدمہ درج کرایا کہ اس کا بیٹا بشیر حساس ادارے کی میلسی دفتر میں تعینات تھا جو چھٹی پر گھرآیا ہوا تھا۔ جس کو اس کے سسر سمندر اور سالوں اللہ دتہ اور بشارت نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا کیونکہ مقتول بشیر اور کلثوم نے اپنی مرضی سے پسند کی شادی کر لی تھی جس کی رنجش پر قتل کیا گیا ہے۔ جس پر سیشن کورٹ نے 11 ستمبر 2009ء کو ملزم اللہ دتہ کو سزائے موت اور دیگر سزاؤں کا حکم دیا جبکہ ملزمان سمندر اور بشارت کو بری کرنے کا حکم دیا۔ جس کے خلاف اللہ دتہ نے اپیل دائر کی کہ مقتول نے 3 سال قبل اس کی ہمشیرہ سے شادی کی تھی اور پرانی رنجش ختم ہو چکی تھی جبکہ مدعی اور گواہان کی موقع پر موجودگی بھی ثابت نہیں ہوئی ہے اور بر آمدگی بھی غلط طور پر ظاہر کی گئی ہے۔ اس لیئے سزا کو کالعدم قرار دے کر بری کرنے کا حکم دیا جائے۔ فاضل عدالت نے اپیل منظور کر لی ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر