یوم تشکر مناتے ہوئے شامی مہاجرین کو نہ بھولیں : اوبامہ

یوم تشکر مناتے ہوئے شامی مہاجرین کو نہ بھولیں : اوبامہ

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی عوام نے ملک بھر میں روایت کے مطابق بلاخوف یوم تشکر منایا۔ سب سے بری پریڈ نیویارک میں ہوئی جس میں لاکھوں شہریوں نے شرکت کی۔ صدر جارج واشنگٹن نے پہلی بار 3 اکتوبر 1789ء سے اس کا آغاز کیا تھا۔ تاہم بعد میں ابراہم لنکن نے اسے نومبر کی آخری جمعرات کو منانے کا اعلان کیا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ سرکاری اعلان سے قبل یہ صرف نیو انگلینڈ کی چند ریاستوں میں منایا جاتا ہے۔ یوم تشکر کا پس منظر یہ ہے کہ امریکہ کی شمال مشرقی ریاستوں کے ایک گروپ میں جسے ’’نیو انگلینڈ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ برطانیہ کے نوآباد کار جب پہلی مرتبہ 1620ء میں آئے تو بھوک، سردی اور بیماری کا شکار ہوگئے اور تقریباً آدھے ہلاک ہوگئے۔ باقی آبادکاروں کو مقامی ریڈ انڈینز نے کھانا فراہم کرکے بچا لیا، جس میں ٹرکی، مکئی اور مچھلی بھی شامل تھی۔ اس طرح اس دعوت کے دن کو یوم تشکر کے طور پر منانے کا آغاز ہوا۔

صدر اوبامہ نے وائٹ ہاؤس کی روایت کے مطابق یوم تشکر کی ڈنر ٹیبل سے ایک ٹرکی کو آزاد کیا اور ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں امریکی شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس موقع پر شامی مہاجرین کو نہ بھولیں اور ان کے لئے فراخدلی کا مظاہرہ کریں۔ صدر اوبامہ نے امریکی شہریوں کو یاد دلایا کہ یہ شامی مہاجرین اسی طرح اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوگئے جس طرح 1620ء میں پہلی بار آبادکار ظالمانہ کارروائی سے بچنے کیلئے امریکہ کی سرزمین پر پناہ لینے کیلئے آئے تھے۔ صدر اوبامہ نے دس ہزار شامی پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس پر کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید بھی ہو رہی ہے۔ صدر اوبامہ نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ ’’مے فلاور‘‘ نامی بحری جہاز کے ذریعے تقریباً چار صدیاں قبل امریکہ میں پناہ گزین آئے تھے اور آج ایک دفعہ پھر دنیا بھر میں پناہ گزین پھیل گئے ہیں۔ ان مردوں، عورتوں اور بچوں کو اپنے خاندان کیلئے بہتر مستقبل اور رہنے کے لئے محفوظ مقام کی تلاش ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔ تاہم صدر اوبامہ نے امریکی عوام کو یقین دلایا کہ کوئی مہاجر ایک بھرپور سکیورٹی نظام سے گزر کر ہی امریکہ میں داخل ہوسکے گا۔

جمعرات کو واشنگٹن سمیت پورے ملک میں امریکی شہریوں نے اپنے گھروں و اور ہوٹلوں میں یوم تشکر کی دعوتوں میں شرکت کی جن کے مینو کا اہم حصہ ٹرکی تھا۔ اس موقع پر مختلف شہروں میں پیریڈیں بھی ہوئیں۔ اس سلسلے کی سب سے بڑی پریڈ نیو یارک میں ہوئی جس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات تھے۔

امریکی بزنس کی یہ روایت بھی ہے کہ یوم تشکر کے بعد اگلے دن کو ’’بلیک فرائیڈے‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے جب تمام بڑے بزنس آن لائن اور سٹورز پر صرف ایک دن کیلئے سستی سیل لگاتے ہیں۔ اس دفعہ بھی یوم تشکر میں بھرپور شرکت کے بعد عام شہریوں نے ’’بلیک فرائیڈے‘‘ کی سستی سیل کا پورا فائدہ اٹھایا اور سٹوروں میں جاکر اور آئن لائن پر بھرپور خریداری کی۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ شہریوں نے صرف چند گھنٹوں میں اربوں ڈالر کی خریداری کی۔ صدر اوبامہ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی فیملی کے ساتھ یوم تشکر کی دعوت منائی اور اس سے پچھلی رات بے گھر لوگوں کے ادارے ’’فرینڈ شپ پلیس‘‘ میں اپنے خاندان کی طرف دعوت کی میزبانی کی۔ صدر اوبامہ اپنی بیوی اور بیٹیوں کے ساتھ ڈنر ٹیبل کے ایک طرف کھڑے ہوئے بے گھر لوگوں کی اس دعوت میں خود ان کی پلیٹوں میں کھانا ڈالا۔

مزید : ملتان صفحہ اول