سب سے بڑی خبر، تاریخ میں پہلی مرتبہ اسرائیل متحدہ عرب امارات میں دفتر کھولے گا تاکہ ۔ ۔ ۔

سب سے بڑی خبر، تاریخ میں پہلی مرتبہ اسرائیل متحدہ عرب امارات میں دفتر کھولے ...
 سب سے بڑی خبر، تاریخ میں پہلی مرتبہ اسرائیل متحدہ عرب امارات میں دفتر کھولے گا تاکہ ۔ ۔ ۔

  


یروشلم(مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیل نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باوجود وہاں اپنا پہلا سفارتی مشن کھولنے کا اعلان کردیا ۔اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ابو ظہبی میں قائم کیا جانے والا یہ سفارتی مشن بین الاقوامی انرجی آرگنائزیشن کا حصہ ہو گا۔اسرائیل خلیجی ریاستوں میں اس سے پہلے اپنے تجارتی اور دوسرے دفاتر کھول چکا ہے تاہم اس کے ان ریاستوں کے ساتھ سرکاری تعلقات نہیں ہیں۔دوسری جانب متحدہ عرب امارت کی وزارت خارجہ امور کی ڈائریکٹر مریم الفلاسائی کاکہنا ہے کہ ابوظہبی میں اسرائیلی سفارتی مشن سے یو اے ای اور یہودی ریاست کے درمیان تعلقات میں فرق نہیں آئے گا۔بین الاقوامی انرجی آرگنائزیشن کا حصہ ہونے پر اسرائیل سے کیا جانے والا یہ معاہدہ اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان تعلقات کی پوزیشن میں تبدیلی کا باعث نہیں بن سکے گا۔واضح رہے کہ سنہ 1948 میں عرب، اسرائیل تنازع شروع ہونے کے بعد سے متحدہ عرب امارات کی طرح دوسری عرب ریاستوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا ہے۔اسرائیل کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ایمینوئل نہسون نے ہاریٹز اخبار میں شائع ہونے والی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتی مشن انٹرنیشل رینوایبل انرجی ایجنسی (آئی آر ای اے) سے منسلک ہو گا۔اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل ڈور گولڈ نے منگل کو ابو ظہی کا دورہ کیا اور اس حوالے سے منصوبے کو حتمی شکل دی۔اخبار کے مطابق ابھی یہ طے نہیں ہے کہ یہ سفارتی مشن کب کھولا جائے گا۔خلیجی ریاستیں عام طور پر اسرائیلیوں کو اپنے ملک میں آنے کی اجازت نہیں دیتی تاہم اس کے کھلاڑی وہاں ہونے والے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرتے ہیں۔خیال رہے کہ اسرائیل کے سابق وزیرِاعظم شمعون پیریز نے سنہ 1996 میں خلیجی ریاستوں کا دورہ کیا تھا جس کے بعد وہاں اس کے تجارتی دفاتر نے اپنا کام شروع کیا تھا۔اسرائیل کے سابق وزیرِاعظم یتزک رابن نے بھی سنہ 1994 میں عمان کا دورہ کیا تھا۔عمان نے سنہ 2000 میں اسرائیل کی فلسطین کے خلاف دوسری کارروائی کے بعد عمان میں اسرائیل کا سفارتی مشن بند کر دیا تھا جبکہ غزہ میں سنہ 2009-2008 میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ کے بعد قطر نے احتجاجاً اسرائیل کا دفتر بند کر دیا تھا۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں