3کھرب روپے کی امداد ،جرمن کرسمس تحائف سے زیادہ مہاجرین پر رقم خرچ کرینگے

3کھرب روپے کی امداد ،جرمن کرسمس تحائف سے زیادہ مہاجرین پر رقم خرچ کرینگے
3کھرب روپے کی امداد ،جرمن کرسمس تحائف سے زیادہ مہاجرین پر رقم خرچ کرینگے

  


برلن(مانیٹرنگ ڈیسک)جرمنی میں کیے گئے ایک جائزے کے مطابق اس سال جرمن شہری کرسمس کے تحائف پر خرچہ کم کر کے لاکھوں کی تعداد میں جرمنی آنے والے مہاجرین کے مدد کرنے والے اداروں کو دل کھول کر چندہ دیں گے۔صارفین کے رجحانات پر تحقیق کرنے والے ایک جرمن ادارے، جی ایف کے نے اپنے ایک حالیہ جائزے میں بتایا ہے کہ رواں برس جرمن شہری کرسمس کے تحائف پر اوسطا 274 یورو خرچ کریں گے۔ یہ رقم 2014ءکے مقابلے میں گیارہ یورو یا چار فیصد کم ہے۔

جی ایف کے سے منسلک تجزیہ کار وولف گانگ آڈل وارتھ نے برطانوی خبر رساں ادارے سے کی گئی ایک گفتگو میں بتایا کہ اس برس کرسمس کے دوران 14.3 بلین یورو کی تجارت متوقع ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں پانچ فیصد کم ہے۔ آڈل ورتھ نے یہ بھی بتایا کہ اس برس سب سے زیادہ تحائف نقد رقم کی صورت میں دیے جائیں گے۔ نقدی کے طور پر دیے جانے والے تحائف کی رقم کا مجموعی تخمینہ 3.5 بلین یورو زجو کہ پاکستانی تقریبا تین کھرب 91ارب روپے سے زائد بنتے ہیں رہنے کا امکان ہے۔دوسری جانب جرمن شہریوں کی جانب سے عطیات دینے کے رجحان میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔ اس سال کے پہلے نو ماہ کے دوران جرمنوں کی جانب سے عطیات کی مد میں دی گئی رقم میں چودہ فیصد کے قریب اضافہ ہوا ہے۔آڈل وارتھ کا کہنا ہے، ”موسم بہار کے دوران نیپال میں آنے والے زلزلے کے بعد جرمنوں نے عطیات دیے۔ لیکن چندے کی مد میں دی گئی رقوم میں اضافے کے ایک واضح وجہ ستمبر کے بعد سے لاکھوں کی تعداد میں آنے والے تارکین وطن بنے۔“ اس سال جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد دس لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے جو دیگر یورپی ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہے۔رقم بطور عطیہ دینے کا سب سے زیادہ رجحان ان جرمن شہریوں میں دیکھا جا رہا ہے جن کی عمریں تیس برس کے لگ بھگ ہیں۔ اس عمر کے افراد کرسمس کے تحائف پر اوسطا 24 یورو کم خرچ کریں گے لیکن اس برس عطیات کی مد میں اس عمر کا ہر فرد اوسطا63 یورو دےگا۔

جی ایف کے کی جانب سے کیا گیا یہ سروے فرانس میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات سے پہلے کیا گیا تھا، جن میں 130 لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ کرسمس کے دن قریب آنے کے باوجود تحائف پر کم خرچنے اور عطیات میں اضافے کا یہ رجحان سال کے آخر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

مزید : بین الاقوامی