ایران میں ایسے پہاڑ کا دعویٰ جہاں ڈیڑھ سال گزرنے پر ایڈز سے نجات ملتی ہے

ایران میں ایسے پہاڑ کا دعویٰ جہاں ڈیڑھ سال گزرنے پر ایڈز سے نجات ملتی ہے
ایران میں ایسے پہاڑ کا دعویٰ جہاں ڈیڑھ سال گزرنے پر ایڈز سے نجات ملتی ہے

  

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک ) ایڈز کی مہلک بیماری جب سے معرضِ وجود میں آئی ہے تب سے لے کر اب تک اس بیماری سے کروڑوں انسان اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ ایڈز کے علاج کے حوالے سے مختلف دعوے بھی سامنے آ تے رہے ہیں لیکن اب ایران میں ایک ایسا بڑا اور پُر اسرار دعویٰ سامنے آیا ہے کہ وہاں ایک پہاڑ پر کچھ عرصہ گذارنے والے ایڈز کے مریض اس بیماری سے چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں ۔

العربیہ  کے مطابق ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج عرب کی عسلویہ بندرگاہ سے متصل بوشہر گورنری میں ایک پہاڑ ایسا ہے جہاں ایڈز کے مریض کچھ وقت بیتانے پر صحتیاب ہوجاتے ہیں۔ یہ حیران کن خبر ایران کے علاوہ دنیا بھر کی میڈیا میں بھی شائع ہورہی ہے کیونکہ اس خبر کا مآخذ ایک برطانوی ڈاکٹر "ٹیم ھابکنیز" ہیں جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ عسلویہ بندرگاہ کے پہاڑ پر ڈیڑھ سال تک وقت گذارنے والے ایڈز کے مریض اس جان لیوا بیماری سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔برطانوی ڈاکٹر ہابنکینز نے دلچسپ اور حیران کن یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ اس پہاڑ کی خصوصیت ہے کہ یہ کرہ ارض کا سورج سے قریب ترین پہاڑ ہے۔ سورج سے قربت کی بناء پر یہاں خاص قسم کی مقناطیسی شعاعیں پیدا ہوتی ہیں جو ایڈز کے انسداد اور علاج میں مدد گار ہے ۔ رپورٹ میں برطانوی اخبار "ٹائمز" کا بھی حوالہ شامل ہے جس میں برطانوی ڈاکٹر نے ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عسلویہ پہاڑ کو "اینٹی ایچ ، آئی وی پہاڑ" کا نام دے اور اس کے قریب شہر آباد کرے تاکہ ایڈز کے مریضوں کو وہاں پر علاج کے لیے رکھا جا سکے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس