ڈی ٹی ایچ اور پاکستان

ڈی ٹی ایچ اور پاکستان
 ڈی ٹی ایچ اور پاکستان

  

گزشتہ چند دہائیوں میں جن کاروبار وں نے پاکستان میں بے پناہ ترقی پائی اُن میں ڈش اور کیبل نیٹ ورک سر فہرست ہیں پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے ، جہاں یہ سہولتیں نہایت سستے داموں دستیاب ہیں۔امریکہ جہاں سے کیبل کے سلسلے کا آغاز ہوا تھا وہاں صرف محدود چینل ہی ایک مخصوص قیمت میں دیکھے جا سکتے ہیں ۔ جتنے چینل پاکستان کی کیبل دکھاتی ہے یہ سہولت صرف وہاں کے امراء کو ہی نصیب ہے۔ اسی طرح ڈش کے بھی اپنے اسرار ورموز ہیں ، اس کا کارڈ بھارت سے سمگل ہو کر پاکستان لایا جاتا ہے اور یہ لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوتا ہے ۔ اس طرح پاکستان کے عوام اربوں روپیہ بھارت کو کما کر دیتے ہیں اور اپنے ملک کی بجائے اپنے دشمن ملک کی ترقی میں حصہ دار بنتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً 50لاکھ افراد ہندوستان کے ڈش کارڈ سے مستفید ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان سے تقریباً 300ملین ڈالر بھارت کی معیشت کا حصہ بن رہے ہیں یہ بہت خطیر رقم ہے اور اس کو اپنے بدترین دشمن کی جھولی میں ڈالنا بھلا کہا ں کی دانشمندی ہے۔ ہم سب ہی اس بات سے آشنا ہیں کہ کیبل والے اپنی من مانی سے چینل کو آگے پیچھے کرتے رہتے ہیں مجھے کچھ عرصہ پاکستان ٹیلی ویژن لاہور میں کام کرنے کا اتفاق ہوا دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ کیبل آپریٹرز کے ساتھ روابط رکھنا اور لاہور کے ہرعلاقے میں پی ٹی وی کو پہلے 10چینلز میں رکھنا بھی میرے ذمہ تھا۔

اکثر کیبل آپریٹر ہماری بات کو یوں رد کر دیتے تھے کہ ہم تو چینل پبلک کی ڈیمانڈ کے مطابق آگے پیچھے کرتے ہیں جب وہ فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں تو ہم کیوں پی ٹی وی کو شروع کے چینلوں میں جگہ دیں؟ گو کہ یہ حکومت کے قوانین کی خلاف ورزی تھی لیکن کیبل کے مالکان بڑی دیدہ دلیری سے یہ کام سرانجام دے رہے تھے چونکہ کیبل کا کاروبار بھی ایک مافیا بن چکا ہے اس لیے ان کی من مانی بھی عروج پر ہے اگر یہ سب مل کر مطالبات منوانا چاہیں تو فوراً ہی کیبل کو ہتھیار بنا کر اس کو بند کر ڈالتے ہیں ، علاوہ ازیں کیبل میں کچھ مسائل اور بھی ہیں جو قابل ذکر ہیں، آج کل High Definition(HD) کا رواج ہے جو کہ کیبل کے ذریعے میسر نہیںآسکتی اور سگنل کی Receptionبھی کمزور ہوتی ہے، جس کے وجہ سے تصویر میں چھوٹے چھوٹے نقطے اُبھرتے رہتے ہیں اس کے علاوہ چینل کی تعدادبھی محدود ہے جس کی وجہ سے صرف مخصوص چینل ہی دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان تمام مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے بہت عرصہ پہلے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ Direct to Home یعنی (DTH) ٹیکنالوجی متعارف کروائی جائے گی جس کے ذریعے ناظرین کو ایک مخصوص آلے کی مدد سے گھر میں تمام چینلز کو دیکھنے کی سہولت مہیا کی جائے گی۔ خاص طورپر Infotainment Channelsجیسے نیشنل جیو گرافک ، اینیمل پلینٹ وغیرہ جو فی لحال کیبل پر نہیں دکھائے جا رہے۔ ڈی ٹی ایچ ٹیکنالوجی موسمی اثرات اور بجلی کی آنکھ مچولی سے متاثر نہیں ہوگی اور بغیر کسی قسم کے تعطل کے تمام چینل دیکھے جا سکیں گے۔ قارئین کرام !موجودہ دور کی حقیقتیں ہم سے یہ تقاضا کرتی ہیں کہ ہم ٹیلی ویژن کو جس حد تک مانیٹر کر سکتے ہیں کریں۔ اس کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ہم اس کو کسی ضابطے کا پابند کریں ۔

پاکستان میں سپریم کورٹ کی مشروط اجازت سے ڈی ٹی ایچ کے لائسنس آکشن کئے جاچکے ہیں جن سے ایک صحت مند مسابقتی نظام عمل میں آئے گا۔بھارت میں اس وقت سات عدد ڈی ٹی ایچ کا م کر رہے ہیں اس لیے پاکستان میں تین عدد لائسنس جاری کئے گئے ہیں تاکہ کسی مخصوص گروپ کی اجارہ داری قائم نہ ہوسکے، اس طریقہ کار کوآنے والے دنوں میں پاکستانی عوام ٹیلی ویژن سے انتہائی مثبت طریقے سے مستفید ہوسکیں گے۔ پاکستان میں کیبل آپریٹر سراپا احتجاج رہے ہیں اور اس بات پر نالاں کہ حکومت کیوں بہتری کی جانب اقدام اٹھا رہی ہے۔ تمام دلائل کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ حکومت اس اقدام کو اٹھانے میں حق بجانب ہے اور ہر قسم کا اعتراض بے معنی ہے۔ جہاں DTH سے معاشی فائدے حاصل ہوں گے وہیں کیبل آپریٹرز کی من مانیوں سے جان بھی چھوٹ جائے گی۔ حکومت نے تقریباً ہر شعبے میں ترقی کے ریکارڈ قائم کئے ہیں، اس میدان میں عملی افادیت یقیناًحکومتی کامیابیوں میں ایک روشن اضافہ ثابت ہوگا۔ اس تمام سلسلے کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ کیبل آپریٹر کو شہ دینے میں کچھ سیاسی جماعتوں کا بھی ہاتھ ہے جن میں ایک تو پانامہ کے کھوجی ہیں، دوسرے اپنی سیاسی حیات حکومت کی مخالفت میں تلاش کر رہے ہیں۔ کیا اب وہ وقت نہیں آچکا کہ ہم اپنے سیاسی اختلافات کو پارلیمنٹ تک محدود رکھیں اور حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔

مزید : کالم