بھارت کو جواب

بھارت کو جواب
 بھارت کو جواب

  

پاکستان آرمی کے 16ویں سربراہ کے طور پر 16 بلوچ رجمنٹ کے جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقرری ہونے سے جنرل راحیل شریف کا تسلسل برقرار رہے گا۔ امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں پاکستانی امور کی ماہر کرسٹین فئیر نے بالکل درست کہا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی پوشاک بھی کپڑے کے اسی تھان سے بنی ہے جس سے جنرل راحیل شریف کی بنی تھی۔پاکستان آرمی کے سربراہ کا انتخاب وزیر اعظم پاکستان کا استحقاق ہے اور وہ ایک سینئیر لیفٹنٹ جنرل کو فور سٹار جنرل کے عہدہ پر ترقی دے کر آرمی چیف کے عہدے پر فائز کرتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ سینئیر ترین لیفٹنٹ جنرل کو ہی آرمی چیف بنائیں بلکہ اپنی صوابدید کے مطابق وہ کسی بھی لیفٹنٹ جنرل کو اس عہدہ کے لئے مناسب ترین جرنیل سمجھتے ہوئے دنیا کی چھٹی سب سے بڑی فوج کی سربراہی دے سکتے ہیں۔

یہ یقیناًایک انتہائی مشکل کام ہے کیونکہ تمام سینئیر لیفٹنٹ جنرلز اس عہدہ کے اہل ہوتے ہیں اور ان کی پیشہ ورانہ قابلیت اور قائدانہ صلاحیتیں تقریباً یکساں ہوتی ہیں لیکن بہر حال ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ آج سے تین سال قبل جب وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کو منتخب کیا تھا تو وہ بھی ایک بہت مشکل انتخاب تھا کیونکہ اس وقت باقی کے جرنیل بھی انتہائی اہلیت کے حامل تھے ۔ وقت نے ثابت کیا کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کا انتخاب بالکل درست تھا اور جنرل راحیل شریف کاپاکستانی تاریخ کے مقبول ترین آرمی سربراہان میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ اس دفعہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو اس انتہائی ذمہ داری کے لئے منتخب کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ملکی حالات کے تناظر میں یہ سب سے بہترین انتخاب ہے۔ اس وقت پاکستان کو اندرونی اور بیرونی محاذوں پر بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں بھارت سپانسرڈ دہشت گردی سر فہرست ہے۔ دوسری طرف کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کا منہ توڑ جواب دینا بھی انتہائی ضروری ہے۔ گویا اس وقت پاکستان بھارت سے اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر حالتِ جنگ میں ہے اور یہ وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے کہ بھارت کو اس زبان میں جواب دیا جائے کہ اس کی عقل ٹھکانے آ جائے اور وہ ایک بہتر پڑوسی کی طرح جیو اور جینے دو پر عمل پیرا ہو جائے، نہ پاکستان کے خلاف کوئی ننگی جارحیت کرے اور نہ ہی اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرائے۔ بھارت کے ساتھ تعلقات معمول کے مطابق ہونے چاہئیں بشرطیکہ وہ پاکستان کے خلاف کسی قسم کی کوئی فوجی جارحیت یا پاکستان کے اندر دہشت گردی نہ کرے اور پاکستان سے حل طلب معاملات جن میں کشمیر کا مسئلہ اور پاکستان کے حق کے مطابق دریاؤں کے پانی اہم ترین ہیں، دونوں کو منصفانہ طریقے سے حل کرے۔

جی ایچ کیو سے وزارت دفاع کے ذریعہ جن پانچ سینئیر لیفٹنٹ جنرلز کی لسٹ وزیر اعظم پاکستان کو بھجوائی گئی تھی اس میں سینیارٹی کے اعتبار سے بالترتیب جو پانچ لیفٹنٹ جنرلز شامل تھے یہ پانچوں جرنیل بہترین پیشہ ورانہ قابلیت اور قائدانہ صلاحیتوں کے حامل تھے اور کسی بھی وزیر اعظم کے لئے انتہائی مشکل کا م تھا کہ وہ کس کا انتخاب کرے۔ ان پانچوں میں سے ایک کی تقرری بطور چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور ایک کی بطور آرمی چیف ہونا تھی۔ اوّل الذکر عہدہ سینیارٹی میں اوپر ہونے کے باوجود علامتی جبکہ آرمی چیف کا عہدہ انتہائی طاقتور ہوتا ہے۔وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سینیارٹی میں پہلے نمبر پرجنرل زبیر محمود حیات کو چئیرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور چوتھے نمبر پر موجود جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف مقرر کیا ۔ سپر سیڈ ہو جانے والے دونوں جرنیل اشفاق ندیم احمد اور جاوید اقبال رمدے بھی انتہائی بہترین قائد تھے لیکن وزیر اعظم کے انتخاب میں ملکی اور علاقائی حالات کی مناسبت سے دانشمندی کا عنصر غالب رہا کیونکہ پاکستان کو اس وقت اصل مسئلہ بھارت کا اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر مقابلہ ہے اور اگر جنرل قمر جاوید باجوہ کے پروفائل کا جائزہ لیا جائے تو ٹاسک کی کامیابی کے لئے وہ موزوں ترین انتخاب ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے کیرئیر میں کئی بار راولپنڈی میں تعینات 10 کور سے وابستہ رہ چکے ہیں ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر پر واقع کنٹرول لائن اور بھارتی کشمیر کو یہی کور ڈیل کرتی ہے اور یہی پاکستان کی سب سے بڑی کور بھی ہے ۔ جنرل راحیل شریف کا سب سے بڑا کارنامہ پاکستان سے دہشت گردی کے خلاف شروع کئے گئے آپریشن ہیں جو ضربِ عضب کے نام سے وزیرستان اور دوسرے علاقوں میں بہت کامیابی سے جاری ہیں اور دہشت گردوں کا صفایا ہورہا ہے۔ اسی طرح کراچی میں ہونے والے رینجرز آپریشن نے شہر کا امن بحال کر دیا ہے اور دہشت گرد مارے جارہے ہیں، گرفتار ہورہے ہیں یا مفرور ہو رہے ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی کرنے والے فراری ہتھیار ڈال کر مین سٹریم میں شامل ہوتے جارہے ہیں اور سی پیک کی پرامن تکمیل کے لئے حالات کو بہتر بنا دیا گیا ہے۔

اگر دیکھا جائے تو قبائلی علاقہ جات، خیبرپختون خوا، بلوچستان اور کراچی کے حالات کا اگر دو تین سال قبل سے موازنہ کیا جائے تو ملکی امن و امان بہت حد تک بحال کیا جا چکا ہے۔ بلوچستان اور کراچی میں ہونے والی بیشتر دہشت گردی چونکہ بھارتی سپانسرڈ تھی جو اس کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے بنائے ہوئے منصوبہ کا حصہ ہے جس میں افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانوں کو استعمال کیا جا رہا ہے، جنرل راحیل شریف اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کی قائدانہ صلاحیتوں کو خراج تحسین پیش نہ کرنا زیادتی ہوگی کہ آج پاکستان میں دہشت گردی کی کمر توڑی جا چکی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب اس ناسور اور بھارتی عزائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا جائے گا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پیشہ ورانہ لحاظ سے وہ جنرل راحیل شریف کا تسلسل ہیں جس میں ملک کے اندورنی حالات کو ایک بار پھر ٹھیک کر دیا جائے گا اور پاکستان کے شہری ایک محفوظ زندگی بسر کر سکیں گے۔ جو لوگ نئے آرمی چیف کو قریب سے جانتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے پیشرو جنرل راحیل شریف سے بھی زیادہ سختی سے دہشت گردوں سے نمٹیں گے اور ان میں صلاحیت موجود ہے کہ وہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ ویسے بھی جنرل قمر جاوید باجوہ زیادہ منظر عام پر آنا پسند نہیں کرتے بلکہ خاموشی سے اپنے ٹاسک کی کامیابی کے لئے کام کرتے رہتے ہیں۔ وہ ایک انتہائی پروفیشنل جنرل ہیں جو ملکی سیاسی معاملات میں ٹانگ اڑانا انتہائی معیوب سمجھتے ہیں اس لئے اس چیز کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ وہ کسی سیاسی معرکہ آرائی کی بالواسطہ یا بلا واسطہ حوصلہ افزائی کریں۔ وہ تو اپنے کام سے کام رکھنے والے ایک سچے کھرے عسکری قائد ہیں۔ پاکستان میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہیں غیر آئینی مہم جوئی کا انتظار رہتا ہے ، ایسے تمام لوگوں کوگزرے برسوں کی طرح آنے والے تین سالوں میں بہت مایوسی رہے گی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا پروفیشنل پروفائل اور کام کرنے کا سٹائل بتاتا ہے کہ ان کے اور حکومت کے تعلقات بہت اچھے رہیں گے کیونکہ وہ ایک با وقار اور کھلے ذہن کے مالک ہیں اور سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔

جو چیز جنرل قمر جاوید باجوہ کو دوسرے جرنیلوں سے ممتاز کرتی ہے وہ کشمیر اور کنٹرول لائن پر ان کا تجربہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے انتخاب میں اسی بات کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے کیونکہ بھارت کی فوجی اور آبی جارحیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بطور لیفٹنٹ جنرل کمانڈر 10 کور اور اس سے پہلے بطور میجر جنرل فورس کمانڈر ناردرن ایریاز کی سربراہی اور اس سے قبل بطور لیفٹنٹ کرنل 10 کور میں جی ایس وہ تعیناتی کے دوران مقبوضہ کشمیر اور کنٹرول لائین پر بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرتے رہے ہیں۔موجودہ بھارتی آرمی چیف جنرل دلبیر سنگھ سوہاگ سے پچھلے بھارتی آرمی چیف بکرم سنگھ پاکستان کے نئے آرمی چیف کو بہت قریب سے جانتے ہیں کیونکہ یہ دونوں اقوام متحدہ امن فوج کی طرف سے افریقہ کے ملک کانگو میں اکٹھے کام کرچکے ہیں اوروہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور جب انہیں اطلاع ملی کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو پاکستان کا آرمی چیف مقرر کیا گیا ہے تو ان کا فوری رد عمل یہ تھا کہ پاکستان نے سب سے بہتر پروفیشنل کو آرمی چیف بنایا ہے اور کشمیر کے معاملات پر ان کو عبور حاصل ہونے کی وجہ سے بھارت کو اب بہت سوچ سمجھ کر چلنا ہو گا۔ جس طرح اب پاکستان کی اندرونی سیاست میں انتشار کا امکان بہت محدود ہو گیا ہے، بالکل اسی طرح اب بھارت کے لئے مقبوضہ کشمیر، کنٹرول لائن وغیرہ میں فوجی جارحیت یا پاکستان کے اندر دہشت گردی کا امکان کم سے کم تر ہوتا چلا جائے گا۔ بھارتی نیتاؤں کو ان کی کمینی حرکتوں کا اس سے بہتر جواب ممکن نہیں تھا اور بھارت کو ایسا کرارا جواب دینے پر وزیر اعظم میاں نواز شریف انتہائی مبارکباد کے مستحق ہیں۔

مزید : کالم