فوج نے آمریت کا روزن بند کر دیا

فوج نے آمریت کا روزن بند کر دیا
 فوج نے آمریت کا روزن بند کر دیا

  

نئے چیف آف آرمی سٹاف ،جنرل قمر جاوید باجوہ کی شخصیت کے بارے میں ٹی وی کے اینکرز اور مبصرین بہت دور کی کوڑی لا رہے ہیں تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ پاک آرمی کوئی ادارہ نہیں بلکہ ون مین شو ہے اس لئے جس مزاج کا آرمی چیف آئے گا، اسی طرح کی آرمی بن جائے گی۔ یہ ایک گمراہ کن تاثر ہے یہ درست ہے کہ سپہ سالار کی وجہ سے چیف آف آرمی سٹاف کا کردار کلیدی ہوتاہے، مگر ایسا نہیں کہ وہ مشاورت کے بغیر کام کرتا ہے یا اُس کے مزاج کی سردی گرمی اس کے منصب پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کی شخصیت کے ساتھ ایک مضحکہ خیز اضافت یہ لگائی جا رہی ہے کہ وہ غیر سیاسی شخصیت کے مالک ہیں اسے خبر بنا کر پیش کرنا اس لئے معاندانہ نظر آتا ہے کہ ایک جنرل میں یہ تلاش کرنا کہ وہ سیاسی ہے یا غیر سیاسی ،اُس مخصوص سوچ کا شاخسانہ ہے جو گزشتہ تین برسوں میں جنرل راحیل شریف میں ایک مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی صفات تلاش کرتی رہی ہے ۔میں سمجھتا ہوں اب اس سوچ پر بھی تین حرف بھیجنے کی ضرورت ہے کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں یا نہیں ۔تین سال تک ہر شام ٹی وی کے اینکرز اور ان کے مخصوص مبصرین اس نکتے پر مغز ماری کرتے رہے کہ ملکی معاملات پر فوج اور سول حکومت کی سوچ ایک نہیں، اسی کی بنیاد پر ایسے ایسے بقراطی نکات تلاش کئے گئے جن کا سر تھا نہ پیر

29 نومبر اُن لوگوں کے لئے بھی شرمندگی کا دن ہو گا، جنہوں نے اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر فوج کے جرنیلوں کو جمہوریت پر شب خون مارنے کا الزام دیا جنہوں نے راولپنڈی والوں کو آئینی اداروں کے خلاف کام کرنے کے طعنے دیئے جو یہ کہتے رہے کہ دھرنے والوں کے ساتھ مل کر جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی سازش ہو رہی ہے۔ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ اور نئے چیف آف آرمی سٹاف کی نامزدگی اس بات کا کھلا اظہار ہے کہ آرمی نے اپنے لئے ایک راستہ چن لیا ہے اب اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ سیاسی امور میں مداخلت کرے گی یا جمہوریت کو ختم کر کے اقتدار سنبھالنے کا سوچے گی ایک کار بیکار ہے۔ اس نے یہ باب بند کر دیا ہے جنرل راحیل شریف سے زیادہ مقبول چیف آف آرمی سٹاف اب نہیں آئے گا۔جب ان جیسے کامیاب جرنیل نے بار بار مواقع ملنے کے باوجود اس راستے کو منتخب نہیں کیا تو بعد میں آنے والا کون سا جنرل یہ راستہ منتخب کرنے کی جرأت کرے گا؟ اس لئے میں سمجھتا ہوں اب اس بحث کا باب بند ہو جانا چاہئے اس قسم کی قیاس آرائیاں کرنا کہجنرل قمر جاوید باجوہ کیا حکومت کے ساتھ مل سکیں گے، ایک مضحکہ خیز سوال ہے۔ آرمی چیف کو اس قسم کا اینگری ینگ مین بناکر پیش کرنا انتہائی معیوب بات ہے۔ اب اس بحث کا باب بند ہونا چاہئے، اس بحث کو کون جاری رکھنا چاہتا ہے۔ شاید وہ لوگ جو اس کے ذریعے اپنا رزق کماتے ہیں جو جمہوری حکومتوں کو دباؤ میں لانے کے لئے اسے استعمال کرتے ہیں۔ اس طرز عمل کا کبھی تو خاتمہ بھی ہونا چاہئے۔70 برس کی تاریخ میں کئی بار جمہوریت اور آمریت کی آنکھ مچولی دیکھ چکے ہیں اب وہ موقع آ گیا ہے جب اس آنکھ مچولی کو قصۂ پارینہ بن جانا چاہئے۔ آرمی چیف کو بہر حال آئین کے تابع رہ کر کام کرنا ہے اسے فوج بھی تسلیم کر چکی ہے اور حالات بھی اسے ایک کھلی حقیقت بنا چکے ہیں، مگر وہ لوگ جنہیں اس بحث کے بند ہونے سے اپنے مفادات پر زد پڑتی نظر آتی ہے، اس بات کا کھوج لگانے پر مُصر ہیں کہ جنرل راحیل شریف کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ جمہوری حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے یا نہیں؟

میرا خیال ہے سب سے پہلے حکومت کی صفوں میں موجود ایسے عناصر کی اصلاح ہونی چاہئے جو ہر حکومت مخالف کو جی ایچ کیو کا بندہ قرار دے کر جمہوریت کا دشمن قرار دیتے ہیں۔ جو لوگ انگلی اُٹھنے کی بات کرتے تھے، اُن کا اشارہ تو نجانے کس طرف ہوتا ہوگا لیکن حکومتی وزرأ اور اس کے اتحادی چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے تھے کہ جرنیلوں کو جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی راہ دکھائی جار ہی ہے۔ جنرل راحیل شریف نے فوج کو مکمل پیشہ ور ادارہ بنا دیا ہے۔ فوج نے بڑی مشکل سے ایک ایسا مقام حاصل کیا ہے، جو ماضی میں بعض جرنیلوں کی خواہش اقتدار کے باعث فوج کھو بیٹھی تھی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کا جو حال ہوا اور جس طرح ایک بہادر جرنیل کو اپنی جان بچانے کے لئے ملک سے بھاگنا پڑا، وہ عبرت کا نشان بننے کے لئے کافی ہے، دوسری طرف جنرل راحیل شریف ہیں جنہیں قوم نے سر آنکھوں پر بٹھایا ہے اور انہیں نم آنکھوں کے ساتھ رخصت کر رہی ہے، خود وزیر اعظم نوازشریف نے جنرل راحیل شریف کو الوداعی تقریب میں جو خراجِ تحسین پیش کیا، وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے فوج کو جو عزت و توقیر بخشی ہے، وہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے، جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ جس احسن طریق سے بروقت تبدیلی کمان کے مراحل طے ہو رہے ہیں اور جس طرح جانے اور آنے والے جرنیلوں کو پورے اعزاز و احترام سے نوازا جا رہا ہے اس پر یقیناً فوج فخر کر سکتی ہے، وگرنہ ماضی میں فوج دیکھ چکی کہ بعض جرنیلوں کی اپنی ہوس اقتدار نے اس عظیم ادارے کو کیسے کیسے پُر ہزیمت دن دکھائے۔ اقتدار میں آنے والے ہر جرنیل کو برے دن دیکھنے پڑے اور ساتھ ہی فوج کے بارے میں بھی عوام کے دلوں میں نفرت نے جنم لیا۔

میں نے ایک بار لکھا تھا کہ ہماری قوم کا بھی جواب نہیں یہ پسند جمہوریت کو کرتی ہے اور امیدیں چیف آف آرمی سٹاف سے باندھتی ہے۔ ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر جنرل راحیل شریف سے کتنی بار یہ امیدیں وابستہ نہیں کی گئی تھیں کہ وہ آئیں اور جمہوریت کو چلتا کریں، شاید پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے کہ جہاں جمہوریت کے باوجود کچھ لوگ آرمی چیف کی طرف دیکھتے ہیں۔ وزیر اعظم نوازشریف نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بہت درست کہا ہے کہ ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے ہیں، استعفیٰ کیوں دیں۔ سڑکوں پر آکر استعفے مانگنے کی روایت اگرچہ جمہوری کہلاتی ہے مگر سوچنا یہ چاہئے کہ آخر یہ مطالبہ کس سے کیا جاتا ہے؟ آئین میں حکومت گرانے کا ایک واضح طریقہ موجود ہے، اُس کے سوا جو بھی طریقہ اپنایا جائے وہ غیر آئینی کہلائے گا۔ اس بات پر بحث ہو سکتی ہے کہ جب جمہوری حکمران آئین کو عضوِ معطل بنا دیں، قانون کی پیروی نہ کریں، لوگوں کو انصاف نہ ملے، تو پھر کیا کیا جائے۔ ہاں یہ ایک مشکل صورت حال ہوتی ہے اور جمہوری حکمرانوں کو اس سے بچنا چاہئے اس میں کوئی شک نہیں پاکستان میں آئیڈیل جمہوریت نہیں ہے۔ یہاں حکمران خود کو مطلق العنان سمجھ لیتے ہیں ادارے کام نہیں کرتے اور مجبوراً لوگوں کو آرمی چیف کی طرف دیکھنا پڑتا ہے اس صورتِ حال کی اصلاح کرنا جمہوری حکمرانوں کا کام ہے کیونکہ لوگ آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ سول حکومت نے ٹھیک کام نہ کیا تو فوج اس پر دباؤ ڈالے گی۔ اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے اور یہ سوچ اس وقت تک نہیں بدل سکتی جب تک سول ادارے آئینی تقاضوں کے مطابق کردار ادا نہیں کرتے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ پارلیمینٹ اپنے کردار کو پہچانے، فوج کا متبادل اتنا مضبوط ہونا چاہئے کہ لوگ فوج کی طرف دیکھنا ہی چھوڑ دیں۔ عدلیہ کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، اس کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ مضبوط عدلیہ عوام کے بنیادی حقوق کی محافظ ہوتی ہے۔ عدلیہ کا فرض صرف یہی نہیں کہ وہ حکمرانوں کو مغلیہ بادشاہ قرار دے کر سرخرو ہو جائے بلکہ اُن معاملات پر گرفت کرے جو حکمرانوں کو مغل بادشاہ بناتے ہیں مجھے یقین ہے کہ فوج نے آمریت کی طرف کھلنے والا روزن بند کر دیا ہے، مگر اس عمل کو دو طرفہ ہونا چاہئے۔ اب جمہوری اداروں کو بھی یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ فوج کے اندر آنے والی تبدیلی ایک مثبت عمل ہے۔ جمہوری قوتوں کی طرف سے بھی اس کا مثبت جواب آنا چاہئے، وہ سب باب بند ہونے چاہئیں جو ماضی کے تلخ تجربات کی نشاندہی کرتے ہیں جس طرح جنرل راحیل شریف اپنے طرز عمل سے جمہوریت کے محافظ ثابت ہوئے ہیں، اُسی طرح جمہوریت کے دعویداروں کو بھی اب اس آئیڈیل جمہوریت کی طرف سفر شروع کرنا چاہئے جو عوام کی امنگوں اور آدرشوں کی نمائندہ ہوتی ہے اور جس کے ہوتے ہوئے عوام اپنے دکھوں اور محرومیوں کے مداوے کے لئے کسی دوسری طرف نہیں دیکھتے۔

مزید : کالم